Juraat:
2025-04-04@08:02:35 GMT

قرض جان لڑانے سے نہیں بہتر منصوبہ بندی سے ادا ہو گا!

اشاعت کی تاریخ: 3rd, April 2025 GMT

قرض جان لڑانے سے نہیں بہتر منصوبہ بندی سے ادا ہو گا!

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ طے پانے کے بعد پاکستان کو اس پروگرام کے تحت مجموعی طور پرکم وبیش 3 ؍ارب ڈالر مل جائیں گے

جس سے حکومت کو بیرونی قرضوں کی ادائیگی اور زرمبادلہ کے ذخائر کی مالیت مستحکم رکھنے میں مدد ملے گی۔

وزیراعظم شہباز شریف ،وزیرخزانہ اور وزیراعظم کے دیگر رفقائے کار کو آئی ایم ایف کے ساتھ اس معاہدے کو بہت بڑا کارنامہ بنا کر پیش کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور عوام سے ان حقائق کو چھپا یا جارہا ہے کہ اس معاہدے کے نتیجے میں اس ملک کے عوام کو کیا قیمت ادا کرنا پڑے گی ،

عوام کو یہ تو بتایاجارہاہے کہ اگلے مالی سال کا بجٹ آئی ایم کے ساتھ مشاورت کے ساتھ بنایا جائے گا لیکن یہ نہیں بتایا جارہاہے کہ یہ پاکستانی حکام صرف اس بجٹ کے خدوخال تیار کریں گے جبکہ حقیقی معنوں میں بجٹ تجاویز آئی ایم ایف کے حکام تیار کریں گے جس پر حکومت کومن وعن عمل کرنا ہوگا اور اس مقصد کیلئے آئی ایم ایف کی ٹیم جلد ہی پاکستان پہنچ جائے گی جس کی مہمانداری کے بھاری اخراجات بھی اس غریب قوم کی حلق سے نوالہ چھین کر پورے کئے جائیں گے،

شہباز شریف یہ کہہ کر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ آئی ایم ایف کے پروگراموں سے معاشی استحکام تو آتا ہے لیکن قومیں ترقی نہیں کرتیں،جبکہ حقیقت یہ ہے کہ آئی ایم ایف کے قرضوں سے ترقی بھی ممکن ہے لیکن اس کیلئے ضروری ہے کہ قرضوں کی یہ رقم ارکان اسمبلی ،بیوروکریٹس اور اشرافیہ کی تنخواہوں اور مراعات میں بھاری اضافوں اور لمبی لمبی لگژری گاڑیوں او ر سامان تعیش پر ضائع کرنے کے بجائے اسے پیداواری مقاصد کیلئے استعمال کیا جائے۔ جب قرض کی رقم ملک میں پیداوار میں اضافے پر خرچ کی جائے گی تو یقینا برآمدات میں اضافہ ہوگا، زرمبادلہ ملک میں آئے گا تو قرض سے جان چھڑانے میں مدد ملے گی اور پھر عوام کو ریلیف دینے کیلئے آئی ایم ایف کی منظوری حاصل کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی لیکن قرض کی رقم قرضوں کی ادائیگی اور حکومتی اللے تللوں پر خرچ کی جاتی رہے گی تو اس سے وزیراعظم کے مطابق وقتی معاشی استحکام کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوسکتا۔

وزیراعظم نے بتایا ہے کہ پچھلے تین ہفتوں میں 34 ارب روپے خزانے میں آئے، یہ وہ رقم تھی جو بینکوں کی جانب سے عدالت سے اسٹے آرڈر لینے کے نتیجے میں پھنسی ہوئی تھی۔ وزیراعظم نے اس رقم کی وصولی پر آئی ایم ایف کی ٹیم کو شاباشی دے کر یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے کہ یہ رقم ان کی کاوشوں سے خزانے میں آئی ہے جبکہ وزیراعظم کو اس پر ایف بی آر کی ٹیم کی سرزنش کرنی چاہئے تھی کہ انھوں نے رقم کی وصولی کے حوالے سے قرض نادہندگان کو ریلیف دینے کیلئے ایسے قانونی سقم چھوڑے کہ انھیں عدالتوں کے پیچھے چھپ کر خزانے کو اتنے عرصے تک بھاری رقم سے محروم کیے رکھا ۔وزیراعظم ،وزیرخزانہ اور ان کی ٹیم کے ارکان اور ان کی ایما پر بعض نام نہاد اقتصادی ماہرین اور میڈیا میں ان کے مبینہ طورپر تنخواہ دار ہم نواؤں نے آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس پیش رفت کو مثبت قرار دیا ہے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ یہ سب کچھ وزیراعظم اور ان کی ٹیم کی کوششوں کی وجہ سے ممکن ہوا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ معاہدہ اس ملک کے پسے اور کچلے ہوئے عوام کو مزید کچلنے کے وعدوں کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔
دراصل یہ معاہدہ پہلے سے طے شدہ معاہدے کا تسلسل ہے جس کے تحت ملنے والی رقم سے معیشت کو ٹریک پر رکھنے میں مدد ملے گی،اور ادائیگیوں کے توازن اور معاشی اصلاحات کو یقینی بناتا ممکن ہوسکے گا ۔ جب تک حکومت آئی ایم ایف کی شرائط سے انحراف نہیں کرتی، اس وقت تک معیشت پٹری پر رہنے کی توقع ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران اقتصادی اشاریے بہتر ہونے کی خبریں ملی ہیں لیکن اس کے باوجود وزیراعظم اور وزیر خزانہ کے بلند بانگ دعووں کے باوجو مہنگائی میں کمی نہیں ہوئی ہے۔

اس میں شک نہیں کہ شرح سود میں خاطر خواہ کمی ہوئی ہے اور 23فیصد شرح سود کم ہوکر 12 فیصد تک آگئی ہے۔ اس کے علاوہ وزیراعظم یہ دعویٰ کرتے بھی دکھائی دیتے ہیں کہ ملک میں بیرونی سرمایہ کاری آرہی ہے، جو معاشی استحکام کے لیے خوش آیند امر ہے لیکن ابھی تک عملی طورپر کسی بھی غیرملکی سرمایہ کاری کے کوئی آثار نظر نہیں آئے ہیں ۔ پاکستان میں غیرملکی سرمایہ کاری میں سب سے بڑی رکاوٹ خطے کی مہنگی ترین بجلی ہے جو کہ ہماری معیشت کے لیے بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔

بنگلہ دیش، بھارت، سری لنکا، انڈونیشیا، تھائی لینڈ، کمبوڈیا، جنوبی افریقہ اور کینیا جیسے ممالک میں بجلی پاکستان کے مقابلے میں سستی ہے، جس کی وجہ سے سرمایہ کاری ان ممالک میں جا رہی ہے اور پاکستان پیچھے رہ گیا ہے۔ گو حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ بجلی کے نرخوں میں کمی کے لیے ایک مضبوط پیکیج تیار کر رہی ہے، جس کا جلد عوامی سطح پر اعلان کیا جائے گا، تاہم اس میں کئی چیلنجز درپیش ہیں،اور حکومت کی سطح پر کئے گئے بعض اعلانات سے ظاہرہوتا ہے کہ آئی ایم ایف صرف ایک روپیہ فی یونٹ رعایت دینے کو تیار ہواہے ظاہر ہے کہ بجلی کے نرخ میں صرف ایک روپے یونٹ کی کمی سے مطلوبہ مقاصد حاصل نہیں ہوسکیں گے۔ اس سے قبل توقع کی جا رہی تھی کہ وزیراعظم 23 مارچ کو قوم سے خطاب میں بجلی کے نرخوں میں 8 روپے فی یونٹ کمی کا اعلان کریں گے، تاہم ایساکوئی اعلان نہیں کیا گیا جس سے وزیراعظم کی بے بسی کااظہار ہوتاہے۔

حکومت نے 15 مارچ کو اعلان کیا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو موجودہ سطح پر برقرار رکھا جائے گا تاکہ عوام کو بجلی کے نرخ میں رعایت دی جاسکے حالانکہ اوگرا نے پٹرول کی قیمت میں 13 روپے فی لیٹر کمی کی تجویز دی تھی۔ حکومت کا مؤقف تھا کہ اس ممکنہ مالیاتی مارجن کو بجلی صارفین کو ریلیف دینے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ بعد ازاں حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نہ کرکے بجلی کی قیمتوں میں کمی کا وعدہ پورا کرنے کے بجائے پر پیٹرولیم لیوی پر 10 روپے اضافے کا فیصلہ کیا۔ اس صورت حال میں اس ملک کے مفلوک الحال عوام یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ دنیا بھر میں بجلی کے نرخ کم ہیں، تو پاکستان میں بجلی اتنی مہنگی کیوں ہے ؟

اگر بجلی کی بنیادی قیمت میں کمی کردی جائے اور بلوں پر لگائے گئے 13 قسم کے ٹیکسوں کاخاتمہ کردیا جائے تو عوام کو ریلیف مل سکتا ہے۔آئی پی پیز معاہدوں پر نظر ثانی سے اچھی خاصی بچت شروع ہو چکی ہے، لیکن یہ بچت عوام تک ریلیف کی شکل میں منتقل ہونا تا حال شروع نہیں کی گئی۔ جبکہ یہ حقیقت ہے کہ بجلی کے ٹیرف اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کیے بغیر معیشت کا پہیہ کسی صورت نہیں چل سکتا ،نہ ہی عام آدمی کو ریلیف مل سکتا ہے اور نہ ہی برآمدات میں اضافے کے ذریعے قرضوں سے چھٹکارا پانا ممکن ہے ،شہباز شریف پنجاب کے روایتی انداز میں بڑھک مارتے ہوئے اعلان کرتے ہیں کہ قرضوں سے نجات کیلئے جان لڑادوں گا حالانکہ انھیں یہ اچھی طرح معلوم ہوگا کہ قرضوں سے نجات جان لڑانے سے نہیں قابل عمل منصوبہ سازی اور سرکاری اللے تللے ختم کرنے سے ہی ممکن ہے۔

عوام کے لیے سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا حکومت اپنے وعدے پر عمل کر پائے گی یا یہ محض ایک اور سیاسی اعلان ثابت ہوگا؟ اب یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ بجلی کے نرخوں میں کمی کے یہ وعدے کب حقیقت بنیں گے۔اس وقت تک تو حقیقت یہ ہے کہ عوام سے پیٹرول اور ڈیزل پر فی لیٹر متعدد ٹیکس وصول کیے جارہے ہیں جس میں 70 روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی اور 20 روپے فی لیٹر تک کسٹمز ڈیوٹی بھی شامل ہے، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ڈیلرز کے مارجن سمیت دیگر چارجز اس کے علاوہ ہیں۔

اگر ٹیکس اور ڈیوٹیاں ختم ہو جائیں تو پٹرول عوام کو 120روپے فی لیٹر مل سکتا ہے مگر حکمرانوں نے حکومت چلانے کے لیے بجلی گیس کے بلوں کی ساتھ ساتھ پیٹرول کا سہارا لے رکھا ہے، جس کے باعث غریب عوام پس رہے ہیں۔ملک بھر میں ادویات کی قیمتوں میں حیران کن اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے باعث عام شہریوں کے لیے علاج مزید مہنگا ہوگیا ہے۔ مختلف دواؤں کی قیمتوں میں 200 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سب سے زیادہ اضافہ ایول انجکشن کی قیمت میں دیکھا گیا، جس کی قیمت 432 روپے سے بڑھا کر 1500 روپے کردی گئی یعنی 233 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ جس نے عام آدمی کے لیے علاج مزید مشکل بنا دیا ہے۔جن افراد کو بلند فشار خون، حرکت قلب اور شوگر سمیت دیگر امراض لاحق ہیں اور ان امراض کے لیے استعمال کی جانے والی ادویات روز بہ روز مہنگی ہو رہی ہیں جس کی وجہ سے مریضوں کے لیے ان دواؤں کا خریدنا مشکل تر ہوگیا ہے۔

حکومت کو زندگی بچانے والی دواؤں کی قیمتوں میں کمی کے لیے اقدامات کرنے کی کوئی فکر نہیں کیونکہ ارباب حکومت اور ان کے لواحقین کو تو بیرون ملک علاج معالجے کیلئے بھی اپنی جیب سے کچھ خرچ نہیں کرناپڑتا،لیکن اس گرانی کے سبب اب دوائیں کم آمدنی والے طبقے کے مریضوں کی قوت خرید سے باہر ہو رہی ہیں۔ غریب کی تنخواہ کا نصف سے زائد حصہ اور معمر لوگوں کی پنشن کی کم وبیش پوری رقم دواؤں کی خریداری اور علاج معالجے و طبی ٹیسٹوں کی مد میں ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے گھر کے روز مرہ اخراجات پورے کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ملک میں مہنگائی میں کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔ مہنگائی بڑھنے کی رفتار ایک علیحدہ چیز ہے جو یہ ظاہرکرتی ہے کہ مہنگائی کس طرح بڑھ رہی ہے، مگر مہنگائی کم ہونا دوسرا پہلو ہے جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ چیزوں کی قیمتوں میں کمی آنا شروع ہوئی ہے جو بظاہر نظر نہیں آتا۔ مہنگائی کو قابو کرنا خالصتاً انتظامیہ کا معاملہ ہے جس میں ذخیرہ اندوزی، بلیک مارکیٹنگ وغیرہ کا تدارک کیا جاتا شامل ہے۔

یہ تمام معاملات گڈ گورننس میں آتے ہیں۔ ہمارے ہاں گڈ گورننس کا یہ حال ہے کہ متبرک ماہ رمضان میں قیمتیں آسمان کو چھوتی رہیں اور ارباب اختیار سب اچھا ہے اور مہنگائی کم ہورہی ہے کی گردان کرکے حلق سکھاتے رہے۔ کیاارباب اختیار کونہیں معلوم کہ مہنگائی کرنے یعنی اشیائے صرف کی قیمتوں میں اضافہ کرنے کے لیے ذخیرہ اندوز مافیاز باقاعدہ منصوبہ بندی کر تی ہے اور اپنی اس قبیح حرکت کوکامیاب بنانے کیلئے انتظامیہ اور ارباب اختیار کے بعض بااثر لوگوں کو بھی خاموشی اختیار کئے رکھنے یا محض نمائشی اقدامات پر اکتفاکرنے کیلئے حصہ بقدر جثہ قیمت ادا کرتی ہے۔

بظاہر یہ معلوم ہوتاہے کہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کا میکانزم موجود ہی نہیں ہے۔نہ ڈیمانڈ اینڈ سپلائی کو دیکھا جاتا ہے اور نہ گزشتہ ماہ کی قیمتوں کے ساتھ تقابل کیا جاتا ہے۔ مثال کے طورپر رمضان المبارک کے دوران پھلوں کی پیداوار میں کمی نہیں ہوئی مگر ا ن کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا تھا کیونکہ فروخت کنندہ پر کوئی چیک نہیں تھا اورچیک رکھنے کے ذمہ داروں کو مبینہ طورپر ان کا حصہ پہلے ہی اداکیاجاچکاتھا، دکاندار منہ مانگی قیمتیں مانگ رہے تھے اور دووقت کی روٹی سے محروم روضہ دار افظار کیلئے پانی پر گزارا کرنے پر مجبور تھے۔

چینی کی برآمد کی اجازت لینے کیلئے شوگر ملز نے وعدہ کیا تھا کہ وہ مقامی منڈی میں چینی کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہونے دیں گے کیونکہ ملکی کھپت کے لیے مقامی اسٹاک موجود ہے مگر اب چینی کی قیمت ایک سو تیس روپے کی بجائے ایک سو ستر روپے فی کلو ہوگئی اور ارباب اختیار نے جن کو غالباان کا حصہ مل چکاہے چینی کی سرکاری قیمت 164 روپے مقرر کرکے یہ ڈھنڈورا پیٹ دیا کہ حکومت نے عوام کے بہترین مفاد کے تحت چینی کی قیمت 130 روپے کے بجائے 164 روپے کردی ہے ،ارباب اختیار کو معلوم ہے کہ جب تک وہ اقتدار میں ہیں ان سے کوئی پوچھنے والا نہیں۔

حالانکہ شوگر ملز نے چند مقامات پر اپنے اسٹالز لگا کر شناختی کارڈ پر ایک سو تیس روپے فی کلو چینی دینے کا اعلان کیا تھا جس سے ظاہرہوتاہے کہ شوگرملز مالکان 130 روپے کلو چینی فروخت کرنے پر آمادہ تھے لیکن ایسی صورت میں ارباب اختیار کو شاید وہ کچھ نہ مل سکتا جو چینی کے نرخ164 روپے مقرر کرنے پر مل سکتاہے۔ مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے انتظامی صلاحیتوں کا ہونا بہت ضروری ہے۔ ملکی سطح پر قیمتوں میں کوئی کمی نہیں ہو رہی۔ مارکیٹ میں گندم کی قیمت کم ہو رہی ہے مگر مارکیٹ میں آٹے کی قیمت کم ہونے کے باوجود آٹے سے تیار شدہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کوئی کمی نہیں آئی۔ ٹرانسپورٹ کے کرائے اگر ایک مرتبہ بڑھ گئے تو پیٹرول کے نرخ کم ہونے کے باوجود کرائے کم نہیں کیے جاتے۔ بجلی کی قیمت میں حکومت اگر کوئی ریلیف دیتی ہے تو اس کے اثرات عام آدمی تک نہیں پہنچ پاتے۔ یہ تمام عوامل گڈ گورننس کی کمزوری کو ظاہر کرتے ہیں۔پاکستان کی معیشت میں اتنا دم ہے کہ حکومت چاہے تو عوام کو اچھا خاصا ریلیف فراہم کر سکتی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی جاسکتی ہے’ اسی طرح بجلی کے نرخ بھی کم ہو سکتے ہیں’ اگر حکومت اپنے اخراجات کو نہ بڑھاتی تو با آسانی عوام کو ریلیف دیا جا سکتا تھا۔ لیکن حکومت نے اچھا خاصا بجٹ پارلیمنٹیرینز کی تنخواہوں،مراعات میں صرف کر دیا۔

اگر ایسا نہ کیا جاتا تو یہی ریلیف عوام کو ٹرانسفر کیا جا سکتا تھا۔اس سے وزیراعظم کی عوام سے ہمدردی اور دلچسپی کا اندازہ لگایاجاسکتاہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Back To Home

.

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: کی قیمتوں میں کمی آئی ایم ایف کے آئی ایم ایف کی ارباب اختیار روپے فی لیٹر کرنے کی کوشش سرمایہ کاری بجلی کے نرخ میں اضافہ کی وجہ سے حکومت نے کمی نہیں کو ریلیف میں بجلی عوام کو ہیں اور کی قیمت مل سکتا ہوئی ہے نہیں ہو کرنے کے کے ساتھ نہیں کی جائے گا رہے ہیں چینی کی ملک میں کی ٹیم ہیں کہ گی اور رہی ہے کیا جا کے لیے ہے اور ہو رہی اور ان گیا ہے

پڑھیں:

چینی پر عوام دشمن پالیسی

وفاقی حکومت نے چینی کی قیمتوں میں کمی پر اطمینان کا اظہارکیا ہے جب کہ تاجروں نے حکومت سے چینی 164 روپے فی کلو فروخت کرنے کا حکم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ ناانصافی جاری رہی تو دکاندار چینی کی فروخت بند کرنے کر دیں گے اور بے بس عوام یہ دیکھ کر حیران و پریشان ہیں کہ رمضان المبارک سے قبل ملک میں جو چینی 135 روپے سے 140 روپے کلو فروخت ہو رہی تھی وہ موجودہ حکومت کی پالیسی سے رمضان میں 190 روپے کلو تک فروخت ہونے والی چینی کی قیمت حکومت نے رمضان میں 164 روپے مقرر کی جس پر تاجروں نے برہمی کا اظہار کیا ہے اور چینی کی فروخت بند کرنے کی دھمکی دی ہے ۔

ہمیشہ دیکھا ہے کہ تاجر چینی کی قلت پیدا کرکے چینی کی بلیک میں قیمت پہلے سے زیادہ تک پہنچا دیتے ہیں۔یہ بھی خبر آئی تھی کہ حکومت گھریلو صارفین کے لیے الگ اور چینی کاروباری فروخت کے لیے خریدنے والوں کے لیے الگ قیمت مقرر کرنے پر غور کر رہی ہے تاکہ عوام کو چینی کچھ سستی مل سکے۔

اس تجویز کے محرک کی پلاننگ حیران کن ہے ۔ حکومت اگر عوام کو ایک سے پانچ کلو تک چینی 180 روپے تک فروخت کرانے کا فیصلہ کرے گی تو حکومت کے نزدیک عوام پر اس کا احسان ہوگا اور اگر منوں کے حساب سے کاروباری طور چینی خریدنے والے اداروں اور بڑے تاجروں کے لیے حکومت اگر 200 روپے کلو بھی قیمت مقرر کرے گی تو اس کا نقصان بھی سراسر عوام کا ہی نقصان ہوگا کیونکہ چینی سے شربت، مٹھائیاں، بیکری مصنوعات، کمپنیوں کے بسکٹ و دیگر اشیا بنانے والوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا خواہ چینی انھیں ڈھائی سو روپے کلو بھی ملے تو ان کا کوئی نقصان نہیں ہوگا وہ فوراً اپنی چینی سے تیارکردہ مصنوعات کی قیمتوں میں من مانا اضافہ کر دیں گے اور اضافی قیمت عوام پر منتقل کر دیں گے اگر انھیں چینی بیس روپے کلو مہنگی ملے گی تو وہ اپنی مصنوعات کی قیمتوں میں کم ازکم پچاس روپے اضافہ کر دیں گے جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ چینی کی قیمت حکومت اگر کم بھی کرے تو بھی مٹھائیوں، بیکری مصنوعات، شربت و دیگر اشیا کی قیمت کبھی کم نہیں ہوتی بلکہ ان کا کام صرف قیمتیں بڑھانا، عوام کا کام مجبوری میں یہ مہنگی اشیا خریدنا اور حکومت کا کام صرف تماشائی بن کر یہ تماشا دیکھنا اس لیے رہ گیا ہے کہ یہ تماشا حکومت خود ہی شروع کراتی ہے۔

چینی تماشا برسوں سے حکومتوں کی عوام دشمن پالیسیوں کے باعث جاری ہے کیونکہ شوگر ملز مالکان ہر حکومت میں نہ صرف خود شامل رہے ہیں بلکہ حکومت کرنے والے خود چینی کا کاروبار کرتے آ رہے ہیں اور یہ لوگ جان بوجھ کر ظاہر کرتے ہیں کہ ملک میں چینی وافر مقدار میں موجود ہے اس لیے یہ تاثر دے کر حکومت سے چینی باہر بھیجنے کی اجازت یہ کہہ کر لے لیتے ہیں کہ اضافی چینی باہر بھیجنے سے حکومت کو زرمبادلہ حاصل ہوگا اور ملک میں چینی کی قلت بھی نہیں ہوگی۔

یہ منصوبہ بند چونکہ حکومت کا خود حصہ ہیں، اس لیے ہر حکومت انھیں چینی باہر بھیجنے کی اجازت دے دیتی ہے اور یہی 2024 میں بھی (ن) لیگ کی حکومت نے ماضی کی حکومتوں کی طرح کیا اور حکومت نے 2024 میں ساڑھے سات لاکھ ٹن چینی باہر بھجوا کر زرمبادلہ کمایا اور چینی باہر بھیجنے والے دہرے فائدے میں رہتے ہیں۔

وہ چینی باہر بھیج کر اضافی نفع کماتے ہیں اور بعد میں چینی کی مصنوعی قلت پیدا کرکے ملک کی مارکیٹوں سے چینی غائب کرا دیتے ہیں اور لوگوں کو دکانوں پر چینی نہیں ملتی تو وہ دکاندار کی خوشامد بھی کرتے ہیں اور بلیک میں چینی اضافی قیمت دے کر مہنگی بھی خریدتے ہیں کیونکہ گھریلو استعمال کے لیے چینی مہنگی خریدنا ان کی مجبوری اور یہ تماشا ہر آئے سال کرنا حکومت اور شوگر مافیا کے لیے شغل ہوتا ہے جس میں فائدہ حکومت اور شوگر مافیا کا اور ہمیشہ نقصان عوام کا ہوتا ہے ۔

پی ٹی آئی حکومت نے اپنی حکومت بنوانے والی شوگر مافیا کو اس سلسلے میں بڑا فائدہ پہنچایا تھا جس کے نتیجے میں چینی کی مہنگائی کا ریکارڈ قائم ہوا تھا جس کے بعد چینی مسلسل مہنگی ہی ہو رہی ہے۔ شوگر مافیا اس حکومت میں بھی طاقتور ہے جس نے رمضان میں چینی 200 روپے کلو تک فروخت کرا کے اپنی طاقت دکھا دی ہے اور حکومت نے چینی کی قیمت میں کمی پر اطمینان کا اظہار اور چینی مافیا پر مصنوعی برہمی دکھا رہی ہے۔

رمضان میں چینی کی کھپت بڑھ جاتی ہے اور گرمیاں بھی آ رہی ہیں جس میں چینی کی مانگ مزید بڑھے گی جس کا نقصان عوام نے ہی اٹھانا ہے اور ہر بار چینی مہنگی کرانے کے لیے پہلے چینی باہر بھیجنے،کبھی کبھی قلت پر چینی باہر سے مہنگی خریدنا اور ملک میں چینی مزید مہنگی کرانے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • چینی پر عوام دشمن پالیسی
  • وزیر اعظم کو سی سی آئی کی میٹنگ بلاناچاہئے، فیصل کریم کنڈی
  • بجلی کی قیمتوں میں کمی کا خیر مقدم، ’حق دو عوام کو‘ تحریک آگے بڑھائیں گے، حافظ نعیم
  • بجلی نرخ میں تاریخی کمی حکومت کا عوام سے کیا وعدہ وفا کرنے کی طرف ایک اہم قدم ،اویس لغاری
  • سنگاپور: بڑے پیمانے پر مسلمانوں کے قتل کی منصوبہ بندی کرنیوالا نوجوان گرفتار
  • کچھ لوگوں کی اسٹیبلشمنٹ سے ملاقات میں منصوبہ بندی کی گئی عمران خان کا میسج باہر نہ آئے،فیصل چوہدری
  • کچھ لوگوں نے اسٹیبلشمنٹ سے ملاقات میں منصوبہ بندی کی کہ عمران خان کا میسج باہر نہ آئے، فیصل چوہدری کا دعویٰ
  •  کچھ لوگوں کی اسٹیبلشمنٹ سے ملاقات میں منصوبہ بندی کی گئی عمران خان کا میسج باہر نہ آئے،فیصل چوہدری
  • پاکستان کی تین اڑانیں عدم استحکام کی بدولت کریش ہوچکی ہیں، احسن اقبال