پشاور(نیوز ڈیسک)صوبہ خیبرپختونخوا میں بارش اور تیز ہواؤں کا نیا سلسلہ داخل ہو گیا ہے عید کے تیسرے روز سے میدانی علاقوں میں بارش کے بعد موسم خوشگوار ہو گیا ہے جبکہ بالائی علاقوں میں سردی لوٹ آئی ہے۔
پچھلے 24 گھنٹے کے دوران پشاور، مردان، صوابی، نوشہرہ، بنوں اور ڈی آئی خان میں وقفے وقفے سے بارش کے ساتھ تیز ہواؤں کا سلسلہ جاری ہے جبکہ ملاکنڈ اور سوات کے بالائی علاقوں میں بھی ہلکی بوندا باندی ہوئی۔
چراٹ ، پشاور اور ڈی آئی خان میں ایک ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہےاور محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ ملاکنڈ، چترال، دیر، سوات اور گلیات میں آج مزید بارش کا امکان ہے۔
بارش اور ہوائیں چلنے کے بعد درجہ حرارت بھی کافی گر گیا ہے جبکہ بالائی علاقوں گلیات، ناران، کمراٹ، سوات اور کالام میں سردی میں اضافہ ہوا ہے۔
خیبرپختونخوا کے سیاحتی مقامات میں بارش کے بعد رش میں اضافہ ہو گیا ہے۔ عید کے صرف تین دنوں میں 3 لاکھ 6 ہزار 215 سیاح سیر کے لیے گئے۔ دو لاکھ گیارہ ہزار سیاحوں نے سوات کا رخ کیا جبکہ وادی ناران میں 4 ہزار 111 سیاح سیر کے لیے پہنچے۔
محکمہ سیاحت کے مطابق گلیات میں 28 ہزار سیاح گئے اور کمراٹ کا رخ 16 ہزار 400 سیاحوں نے کیا جبکہ 71 غیر ملکی سیاح بھی خیبرپختونخوا کی سیر کرنے آئے۔
ترجمان محکمہ سیاحت سعد بن اویس کا کہنا ہے کہ بارش کے باوجود سیاحتی پوائنٹس پر رش بڑھ رہا ہے۔
سوات اور ناران میں رش کی وجہ سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی تاہم ٹریفک رواں دواں رکھنے کے لیے محکمہ سیاحت کے انتظامی اہلکار اور ٹریفک پولیس کے اہلکار موجود ہیں۔
ٹورزم اتھارٹی کا کہنا ہے کہ بارش کی وجہ سے سیاحتی مقامات کی سڑکیں بند ہونے کی کوئی اطلاعات نہیں ملیں تاہم ضلعی انتظامیہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کے لیے الرٹ ہے۔
لینڈ سلائڈنگ سے شاہراہیں بند
بالائی حصوں میں کچھ مقامات پر بارش کے بعد لینڈ سلائڈنگ ہوئی جس کی وجہ سے ٹریفک معطل ہے۔ اپر چترال تریچ، کھوژ، سور لاسپور اور یارخون گاؤں کے چند مقامات پر لینڈ سلائڈنگ سے روڈز بند ہیں۔
ان مقامات میں برفانی تودے گرنے کی وجہ سے مرکزی شاہراہ بھی دو روز سے ٹریفک کے لیے بند ہے تاہم انتظامیہ کی جانب سے شاہراہوں کو کھولنے کے لیے کام جاری ہے۔
مزیدپڑھیں:کیا سوزوکی کمپنی مہران گاڑی کی پروڈکشن دوبارہ شروع کرنے جا رہی ہے؟

.

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: کی وجہ سے بارش کے گیا ہے کے بعد کے لیے

پڑھیں:

مودی کے برسر اقتدار آنے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی میں تیز ی سے اضافہ ہوا

مقبوضہ کشمیر میں روزانہ کی بنیاد پر تلاشی اور محاصرے کی کارروائیاں، چھاپے، قتل عام، گرفتاریاں اور دیگر ظلم و تشدد کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں نریندر مودی کے برسر اقتدار آنے کے بعد سے غیر قانونی طور پر زیر قبضہ جموں و کشمیر میں ریاستی دہشت گردی میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ذرائع کے مطابق بھارت نے کشمیریوں کی حق پر مبنی جدوجہد آزادی کو کچلنے ریاستی دہشت گردی میں کئی گنا اضافہ اور ان پر ظلم و تشدد کا سلسلہ مزید تیز کر دیا ہے۔ مقبوضہ علاقے میں کشمیریوں کی مذہبی آزادی سمیت تمام بنیادی حقوق سلب ہیں اور کشمیریوں کو سرینگر میں جامع مسجد اور عیدگاہ میں نماز عید ادا کرنے کی بھی اجازت نہیں دی گئی۔ 5 اگست 2019ء سے، تاریخی جامع مسجد سرینگر کو بار بار لاک ڈائون اور نمازوں کی ادائیگی پر پابندی عائد کی جا رہی ہے۔مقبوضہ کشمیر میں روزانہ کی بنیاد پر تلاشی اور محاصرے کی کارروائیاں، چھاپے، قتل عام، گرفتاریاں اور دیگر ظلم و تشدد کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ 5 اگست 2019ء سے اب تک بھارتی فوجی 980 سے زائد کشمیریوں کو شہید کر چکے ہیں اور حریت رہنمائوں اور کارکنوں سمیت 5 ہزار سے زائد کشمیری بھارتی جیلوں میں قید ہیں۔ فسطائی مودی حکومت مقبوضہ کشمیر میں اپنے ہندوتوا ایجنڈے کو آگے بڑھا رہی ہے۔ تاہم مودی حکومت تمام تر مظالم کے باوجود کشمیریوں کے جذبہ حریت کو کمزور نہیں کر سکے گی۔

متعلقہ مضامین

  • محکمہ موسمیات کی گلگت بلتستان میں چند مقامات پر تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی
  • عید پر خیبرپختونخوا کے بالائی علاقوں میں ریکارڈ توڑ سیاحوں کی آمد
  • معاشی میدان میں کامیابیوں کا سلسلہ آگے بڑھا رہے ہیں: وزیراعظم
  • افغان مہاجرین کی بے دخلی کا عمل شروع نہ ہوسکا
  • پختونخوا میں سردی کو بریک لگ گئی؛ ہزاروں لوگوں نے عید سیاحتی مقامات پر منائی
  • افغان مہاجرین کی وطن واپسی کا عمل آج سے دوبارہ شروع ہوگا
  • کراچی: ٹریفک کے مختلف حادثات میں پانچ افراد زخمی
  • عید کے تیسرے دن بھی موج مستی و دعوتوں کا سلسلہ عروج پر
  • مودی کے برسر اقتدار آنے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی میں تیز ی سے اضافہ ہوا