بیجنگ: چینی صدر شی جن پھنگ اور بوسنیا و ہرزیگووینا کی صدارتی کونسل کی روٹیٹنگ چیئرپرسن ژلیکا سیویانووچ نے دونوں فریقوں کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی تیسویں سالگرہ پر ایک دوسرے کو مبارکباد کے پیغامات ارسال کیے۔جمعرات کے روز شی جن پھنگ نے کہا کہ چین اور بوسنیا و ہرزیگووینا کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کے 30 سالوں کے دوران، دونوں فریقوں نے مساوات، باہمی احترام اور باہمی فائدے کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے دوطرفہ تعلقات کو فروغ دیا ہے۔ صدر شی نے اپنے پیغام میں کہا کہ سیاسی اعتماد میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، عملی تعاون کے ثمرات نمایاں ہوئے ہیں، اور مختلف حجم ، مختلف تاریخی و ثقافتی پس منظر اور مختلف سماجی نظاموں کے حامل فریقین کے درمیان دوستانہ تعلقات اور مشترکہ ترقی کی ایک مثال قائم ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ چین اور بوسنیا و ہرزیگووینا کے تعلقات کی ترقی کو بہت اہمیت دیتے ہیں اور چیئرپرسن کے ساتھ باہمی تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کے لیے مل کر کوشش کرنے کو تیار ہیں۔ ژلیکا سیویانووچ نے کہا کہ بوسنیا و ہرزیگووینا چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مزید گہرا کرنا چاہتا ہے تاکہ مشترکہ خوشحالی حاصل کی جا سکے۔

Post Views: 1.

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کے درمیان کہا کہ

پڑھیں:

سندھ اور پنجاب کے درمیان پانی کا تنازعہ

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 03 اپریل 2025ء) سندھ کا شکوہ ہے کہ پانی کے ضائع ہونے کے حوالے سے پنجاب میں بہت غلط فہمی ہے۔ سندھ نہ صرف پنجاب میں بننے والی نہروں پر معترض ہے بلکہ وہ کالا باغ ڈیم سمیت کسی بھی آبی ذخیرہ کی بھرپور مخالفت کرتا ہے، جس سے اس کے حصے کے پانی پر اثر پڑے۔ سندھ کی یہ بھی حجت ہے کہ سسٹم میں پانی اتنا موجود ہی نہیں ہے، جتنا کہ بتایا جاتا ہے اور یہ کہ پنجاب ہیرا پھیری کر کے سندھ کے حصے سے ہی پانی لے گا۔

تاہم پنجاب نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ نئی نہروں کو پنجاب حکومت اپنے حصے کا پانی دے گی۔ تاہم سندھ کی بےاعتمادی ختم نہیں ہوتی۔

کئی مبصرین کا خیال ہے کہ اس بے اعتمادی کی وجہ تاریخی ہے۔ سندھ کے ماہرین کا دعوی ہے کہ سمندر کے جنگلات، جو طوفان اور دوسری قدرتی آفات سے سندھ کے ساحلی علاقوں کو بچا سکتے ہیں، کے لیے تازہ پانی کا ڈیلٹا میں آنا بہت ضروری ہے۔

(جاری ہے)

اس جنوبی صوبے کا دعوی ہے کہ پاکستان اور بھارت میں مختلف نہروں اور دوسرے آبی ذخائر کی تعمیر کی وجہ سے انڈس ڈیلٹا بری طرح متاثر ہوا ہے۔ ان تعمیرات سے پہلے انڈس ڈیلٹا، جس کے لیے تازہ پانی بہت ضروری ہے، میں پانی کا بہاؤ بہت زیادہ تھا، جو اب ایک ڈرامائی حد تک کم ہو گیا ہے۔

مثال کے طور پر یہ بہاؤ 1932 میں ایک لاکھ پانچ ہزار ملین کیوبک میٹرز تھا جو 1970 تک صرف 43 ہزار ملین کیوبک میٹرز رہ گیا اور 90 کی دہائی تک اس کا حجم صرف 12300 ملین کیوبک میٹرز تک محدود ہو گیا۔

پنجاب میں کئی سیاست دانوں کا خیال ہے کہ ہر سال سمندر میں بہت سارا پانی ضائع ہو جاتا ہے۔ سندھ کا دعوی ہے کہ ڈیلٹا میں پانی کے بہاؤ میں کمی کی وجہ سے ساحلی علاقوں میں مچھلیوں کی پیداوار میں 70 فیصد تک کی کمی ہوئی ہے جبکہ زرعی زمینوں میں سمندر کے پانی کے داخل ہونے کی وجہ سے پانچ لاکھ ایکڑ سے لے کر 35 لاکھ ایکڑز تک ٹھٹھہ، بدین، سجاول اور دوسرے سندھ کے علاقوں کی زمین متاثر ہوئی ہے۔

پانی پر تاریخی معاہدے

سندھ کا دعوی ہے کہ تاریخی قانونی معاہدوں کی روشنی میں دریائے سندھ پر کوئی بھی تعمیر سندھ کی رضامندی کے بغیر ممکن نہیں ۔ ان کی حجت ہے کہ سندھ کو یہ اختیار بین الاقوامی قوانین کے تحت حاصل ہے اور یہ کہ تاریخی طور پر بھی ایسے معاہدے ہیں جس کئی شقیں پنجاب کو اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ وہ دریائے سندھ پر کوئی بھی تعمیر یا آبی ذخائر کے منصوبے پر سندھ کی اجازت کے بغیر کام کرے۔

مثال کے طور پر تقسیم ہند سے پہلے جب مشرقی پنجاب میں دریائے ستلج پر بھاکڑا ڈیم بنانے کی منصوبہ بندی کی گئی، تو سندھ نے اس پر اعتراض کیا، جس پر ہندوستان میں نو آبادیاتی برطانوی حکومت نے 1901 میں انڈیا ایریگیشن کمیشن تشکیل دیا۔ اس کمیشن نے پنجاب کو حکم دیا کہ وہ دریائے سندھ پر کسی بھی پروجیکٹ کے لیے سندھ کی رضامندی حاصل کرے۔ 1919 میں حکومت کی طرف سے کاٹن کمیٹی تشکیل دی گئی، جس کا مقصد پنجاب اور سندھ کے درمیان پانی کے تنازعات پر بات چیت کرنا تھی، 1919 کے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ کے تحت یہ فیصلہ کیا گیا کہ سندھ پنجابپانی کے تنازعہ کے حوالے سے کوئی کلیدی کردار وائسرآئے آف انڈیا کے علاوہ کسی کا نہیں ہو گا۔

سندھ کے ماہرین 1935 کے انڈیا ایکٹ کی 130 اور ایک سو اکتیس کی ذیلی دفعہ چھ کا بھی حوالہ دیتے ہیں جس میں اس بات کو واضح کیا گیا ہے کہ مشترکہ پانی کے استعمال کے حوالے سے کسی ایک صوبے کو فری ہینڈ نہیں دیا جا سکتا۔

برطانوی ہند کی حکومت کی طرف سے تشکیل دیے جانے والے راؤ کمیشن، جس کی سربراہی سر بی ڈبلیو راؤ نے کی تھی، جو اُس وقت کلکتہ ہائی کورٹ کے جج تھے اور بعد میں عالمی عدالت انصاف کے بھی جج بنے، نے اپنی رپورٹ میں واضح طور پہ لکھا اگر کسی بڑے دریا کا ہیڈ واٹرز کسی مخصوص صوبے میں ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ اس میں سے جتنا چاہے پانی نکال لے اور دوسرے صوبے یا ریاستوں کو صحرا میں تبدیل کر دے۔

پنجاب اور آج کی آبی ضروریات

تاہم پنجاب سے تعلق رکھنے والے ماہرین کا خیال ہے کہ تاریخی معاہدوں پر بحث کرنے کے بجائے سندھ کو پاکستان کے موجودہ آبی ذخائر کی ضروریات کو سمجھنا چاہیے۔ ان کا دعوی ہے کہ انڈس بیسن اریگیشن سسٹم دنیا کی سب سے بڑی انفراسٹرکچرل انٹرپرائز ہے، جس مییں کئی عشروں کے دوران 300 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔

اور اس سے پاکستان کو تقریبا 18 بلین ڈالرز کے قریب کا فائدہ ہوا ہے، جو پاکستان کے جی ڈی پی کے تقریبا 21 فیصد کے برابر ہے۔

جولائی 2023 کی واٹر اینڈ پاور ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کی ایک رپورٹ کے مطابق اس ادارے نے آبی ذرائع سے اس برس کے سیزن کے ایک مرحلے پر سات ہزار میگا واٹس سے بھی زیادہ بجلی پیدا کی۔ ماہرین کا خیال ہے کہ بجلی کی اس پیداواری صلاحیت کی وجہ سے 60 اور 70 اور بعد کے کچھ عشروں میں صنعت کو زبردست فروغ ہوا اور یہ ڈیم اور دوسرے آبی ذخائر کے بغیر بالکل ممکن نہیں تھا۔

پنجاب کا دعوی ہے کہ پاکستان کو مستقبل کے چیلنجوں کو سامنے رکھتے ہوئے کالا باغ ڈیم سمیت کئی دوسرے آبی ذخائر کے پروجیکٹس پر کام کرنا چاہیے۔ تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی توانائی کے مانگ کو پیش نظر رکھتے ہوئے، پاور جنریشن کیسے کی جائے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ جب جرمنی اور اسکاٹ لینڈ سورج کی روشنی سے اچھی خاصی بجلی پیدا کر سکتے ہیں، تو پاکستان جیسے ملک کے لیے ایسا کرنا کوئی مشکل نہیں ہے، جہاں سورج کی اچھی خاصی روشنی ہوتی ہے۔

اس کے علاوہ ونڈ انرجی جنریشن کا بھی راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔

بڑے ڈیموں کی جگہ پاکستان کو فلڈ اریگشن سسٹم کی ختم کر کے اس کی جگہ اسپرنکل یا چھڑکاؤ کے طریقہ آبپاشی کو اپنانا چاہیے، جس سے پانچ ملین ایکڑز فیٹ پانی کی بچت ہو سکتی ہے، جو کسی بڑے ڈیم کے پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش کے تقریبا برابر ہے۔

نوٹ: ڈی ڈبلیو اردو کے کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا ڈی ڈبلیو کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ اور پنجاب کے درمیان پانی کا تنازعہ
  • امریکا نے چین میں موجود اہلکاروں پر چینی شہریوں کے ساتھ رومانی یا جنسی تعلقات پر پابندی عائد کردی
  • شہباز شریف کی جانب سے بجلی کی قیمتوں میں بڑی کمی کا اعلان کل متوقع
  • محسن نقوی کی نواز شریف اور مریم نواز سے ملاقات، باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو
  • نواز شریف اور وزیر اعلیٰ مریم نواز  سے وزیر داخلہ محسن نقوی کی ملاقات
  • چین اور روس کے درمیان سیاسی باہمی اعتماد مضبوط ہوتا جارہا ہے، چینی وزیر خارجہ
  • وزیراعظم کی بوسنیا کے رکن ایوان صدر سے ٹیلیفونک گفتگو، عید کی مبارک باد
  • چین اور روس کے تعلقات کثیر قطبی دنیا کے فروغ کے لیے فائدہ مند ہیں،چینی وزیر خارجہ
  • وزیراعظم شہباز شریف اور صدر آزاد کشمیر کا عیدالفطر پر رابطہ، باہمی مبارکباد اور نیک خواہشات کا تبادلہ