چینی صدر کی شجرکاری کی سرگرمی میں شرکت
اشاعت کی تاریخ: 3rd, April 2025 GMT
چینی صدر کی شجرکاری کی سرگرمی میں شرکت WhatsAppFacebookTwitter 0 3 April, 2025 سب نیوز
بیجنگ:چین کے صدر شی جن پھنگ نے دارالحکومت بیجنگ میں شجرکاری کی ایک سرگر می میں شرکت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ سبز ترقی کے تصورات کو فعال طور پر اپنانا چاہیے اور ماحولیاتی تحفظ کو فروغ دینا چاہیے۔ لی چھیانگ ، چاؤ لہ جی، وانگ حو ننگ، چھائی چھی، ڈنگ شوئے شیانگ، لی شی اور ہان ژینگ سمیت دیگر پارٹی اور ریاست کے رہنماؤں نے شجرکاری میں حصہ لیا۔
جمعرات کے روز چینی میڈیا نے بتایا کہ اس موقع پر چین کے صدر شی جن پھنگ نے کہا کہ فی الحال چین میں جنگلاتی رقبہ کا تناسب 25 فیصد سے تجاوز کر چکا ہے، جو عالمی سطح پر نئے سبز رقبے کا تقریباً 25 فیصد حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلسل کوششوں کے بعد، صحرائے تکلمکان نے “سبز اسکارف” پہن لیا ہےا ور کورچن ریت کے میدان دوبارہ گھاس کے میدانوں کی شکل اختیار کر رہے ہیں۔ یہ وہ کامیابیاں ہیں جو آسانی سے حاصل نہیں ہوئیں۔
صدر شی نے کہا کہ ماحولیاتی بہتری مسلسل جاری ہے، اور عوام کو اس کا براہ راست اور گہرا احساس ہو رہا ہے۔ ساتھ ہی، یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ ملک میں جنگلات اور گھاس کے وسائل کی کل مقدار ابھی بھی ناکافی ہے، اور معیار ابھی بھی مطلوبہ سطح پر نہیں ہے لہذا نمایاں مسائل کا حل کیا جانا ضروری ہے۔ شی جن پھنگ نے نشاندہی کی کہ ملک کو سرسبز بنانے کے لیے “معیار کو بہتر بنانے”، “صنعت کو فروغ دینے” اور “عوام کی فلاح” پر زیادہ توجہ دی جانی چاہیے۔
.ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
کامن پل کھلا رہنا چاہیے
مقبوضہ کشمیرکے سرحدی علاقے کا ایک 23سالہ نوجوان یاسر حسن اور لڑکی 20 سالہ آسیہ بانو ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے، ان دونوں کی دوستی اتنی بڑھ گئی کہ شادی کے بندھن میں بندھنے کے لیے تیار ہوگئے مگر شاید ان دونوںکے بزرگ اس شادی کے حق میں نہ تھے۔ ان دونوں نے پوری کوشش کی کہ دونوں خاندان ان کی شادی کے لیے تیار ہوجائیں مگر شاید ان کے والدین اپنے بچوں کی خوشی کو سماج کی روایات کے سامنے اہمیت دینے کو تیار نہیں تھے۔ جب یاسر حسن اور آسیہ بی بی ہر طرف سے مایوس ہوگئے تو اس جوڑے نے مشترکہ طور پر دنیا کو الوداع کہنے کا فیصلہ کیا۔
یہ دونوں ایک دوسرے سے کیے گئے وعدوں پر اتنے زیادہ یقین رکھتے تھے کہ یاسر اور آسیہ نے 5 مارچ کو دریائے جہلم میں چھلانگ لگا دی۔ دریائے جہلم کشمیر میں چھوٹے چھوٹے دروں سے گزرتا ہے اور اس کا بہاؤ انتہائی تیز ہوتا ہے۔ شاید کچھ دیر کی کشمکش کے بعد یہ دونوں زندگی سے آزاد ہوگئے اور ان کی لاشیں تیرتی ہوئی آزاد کشمیر کے علاقے میں داخل ہوگئیں۔ دریائے جہلم نے ان لاشوں کو مظفر آباد کے مضافاتی علاقے تک پہنچا دیا۔ آسیہ بانو کی لاش لوئر چاٹاں اور یاسرکی لاش چکوٹھی یوری کراسنگ سے 12میل دور چنار سے برآمد ہوئی۔ یاسر حسن کی لاش رسی سے بندھی ہوئی تھی۔
یاسرکی لاش پہلے کنٹرول لائن کی دوسری طرف کامن پل کے قریب نظر آئی مگر پانی کا بہاؤ اتنا تیز تھا کہ یہ لاش بہتی ہوئی گزرگئی۔ ایک رپورٹ کے مطابق ان لاشوں کی تصاویر اور خبر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں۔ آسیہ کنٹرول لائن سے متصل گاؤں میں رہنے والے محبت خان کی بیٹی تھی۔
پاکستانی حکام کا بھارتی حکام سے رابطہ ہوا۔ ان میتوں کو کشمیر کے دوسرے حصے میں منتقل کرنے کے لیے لائن آف کنٹرول پرکامن پل کو 6 سال بعد کھولا گیا۔ دونوں اطراف سول اور فوجی افسروں کی نگرانی میں دونوں کی میتیں ان کے رشتے داروں کے سپرد کردی گئیں۔ آسیہ بانو کے رشتے دار محمد رفیق نے دونوں طرف کے افسروں کا شکریہ ادا کیا کہ 15دن کی اذیت کے بعد ان کے عزیزوں کی لاشیں ان کے سپرد کردی گئیں۔ پہلی دفعہ بھارتی اور پاکستانی حکام کی جانب سے اس مسئلے کو انسانی نقطہ نگاہ سے دیکھا گیا، یوں غمزدہ خاندانوں کو اپنے پیاروں کی تدفین کر کے اپنی غلطیوں کی تلافی کا احساس ہوا۔
دریائے کشن گنگا وادئ نیلم میں بہتا ہے۔ جب یہ آزاد کشمیر میں داخل ہوتا ہے تو بعض مقامات پر اس کا پارٹ 5 سے 10گز تک رہ جاتا ہے۔ اس علاقے میں رہنے والے لوگ پتھر میں کاغذ باندھ کر دوسری طرف پھینکتے ہیں۔ تہواروں کے موقعے پر دونوں طرف کے رشتے دار دریا کے گرد جمع ہوجاتے ہیں اور ایک دوسرے کو ہاتھ ہلا کر ہی عید کی مبارکباد دیتے ہیں۔ اگر کسی وجہ سے دریا کا شور کم ہوجائے تو کسی نوجوان کی آواز دوسری طرف سنائی جاتی ہے۔
سابق صدر پرویز مشرف کے دورِ اقتدار میں بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے خاصی کوشش ہوئی۔ صدر پرویز مشرف بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی سے ملاقات کے لیے آگرہ گئے مگر Cross Border Terrorism کے مسئلے پر دونوں رہنما معاہدہ کرنے میں ناکام رہے، یوں یہ تاریخی موقع ضایع ہوگیا، مگر آگرہ سربراہی کانفرنس کی ناکامی کے بعد بھارت اور پاکستان میں رسمی اور غیر رسمی روابط برقرار رہے۔
2003 میں بھارت اور پاکستانی حکام کے درمیان لائن آف کنٹرول پر سیز فائر کو یقینی بنانے کا ایک معاہدہ ہوا۔ اس معاہدے کے نتیجے میں علاقے میں سکون ہوا ۔ بھارت میں 2004میں ڈاکٹر من موہن سنگھ کی قیادت میں کانگریس کی حکومت قائم ہوئی۔ بھارت کے اس وقت کے وزیر خارجہ کنور نٹور سنگھ اسلام آباد آئے۔ انھوں نے صدر پرویز مشرف سے ملاقات کی اور مظفر آباد سے سری نگر بس سروس شروع کرنے پر اتفاقِ رائے ہوا۔ اس فیصلے کے تحت کارواں امن بس شروع ہوئی اورکشمیر کے دونوں حصوں کے درمیان اسی راستے سے تجارت کا آغاز ہوا، یوں 17 اپریل 2005 کو بس سروس شروع ہوئی۔
بس سروس سے دونوں اطراف کے کشمیری خاندانوں کو خاطر خواہ فائدہ ہوا۔ دونوں اطراف تجارت کو فروغ دینے کے لیے ٹرک سروس شروع ہوئی۔ کشمیر کے دونوں حصوں سے آسانی سے سامان ایک دوسرے کے علاقے میں مہیا ہونے لگا۔ جب بھارت نے اپنے آئین کی شق 370 کو ختم کیا تو تحریک انصاف کی حکومت نے ایک غیر منطقی فیصلہ کرتے ہوئے بھارت کے تمام رابطے ختم کردیے، یوں بھارت سے سڑک اور ہوائی جہاز کے ذریعے تمام رابطے معطل ہوگئے اور دونوں ممالک نے اپنے اپنے ہائی کمشنروں کو واپس بلایا اور ہائی کمیشن میں عملہ انتہائی کم کردیا گیا۔ تحریک انصاف کی حکومت کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے پر بھارت کے خلاف مؤثر سفارتی مہم نہ چلا سکی۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارت بند ہونے سے زیادہ نقصان پاکستان کا ہوا۔ پاکستان بھارت سے ادویات کی تیاری کا خام مال، ادویات اور ہیوی مشینری وغیرہ درآمد کرتا تھا اور پاکستان پھل،کھجوریں اورکمپیوٹر سوفٹ ویئر بھارت کو برآمد کرتا تھا۔ سندھ میں سب سے اعلیٰ نسل کی کھجوریں پیدا ہوتی ہیں۔ ان اعلیٰ معیار کی کھجوروں کی سب سے بڑی منڈی بھارت ہے۔ اب پھل دبئی کے ذریعے اسمگل ہوکر بھارت میں فروخت ہوتے ہیں جس سے ان پر آنے والی لاگت بڑھ جاتی ہے۔
پاکستان اور بھارت براہِ راست کلائمنٹ چینج کا شکار ہو رہے ہیں۔ پہاڑی علاقوں میں وافر مقدار میں برف باری نہ ہونے سے پنجاب، بلوچستان اور سندھ میں انتہائی کم بارش ہونے کی وجہ سے دریائے سندھ خشک ہو رہا ہے۔ بھارت کی ریاست پنجاب اور ہریانہ میں جب کسان فصل کی باقیات جلاتے ہیں تو اتنی آلودگی بڑھتی ہے کہ لاہورکے شہریوں کے لیے سانس لینا مشکل ہوجاتا ہے۔ اس وقت دریائے سندھ خشک ہورہا ہے۔ پانی کی قلت پر صوبوں میں جھگڑے بڑھ رہے ہیں۔
کلائمنٹ چینج سے نمٹنے کے لیے پاکستان اور بھارت سے بات چیت ضروری ہے۔ اچھی خبر یہ ہے کہ موجودہ حکومت کے دور میں بھارت سے غیر رسمی تجارت میں چوتھی بار اضافہ ہوا ہے۔ صدر ٹرمپ سخت رویے کے باوجود چین سے تجارت کے لیے مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ چین اور بھارت میں تمام تر اختلافات کے باوجود تجارت بڑھ رہی ہے۔ پھرکیوں نہ پاکستان اور بھارت میں تجارت ہو جس کا زیادہ فائدہ پاکستان کو ہوگا اور دونوں ملکوں کے شہریوں کو ایک دوسرے کے ملک میں جانے کی آزادی ہو۔ جب کامن پل میتوں کے لیے کھل سکتا ہے تو اسے کشمیریوں کے لیے بھی کھلنا چاہیے۔