پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے 10ویں ایڈیشن کے ٹکٹوں کی فروخت کا آغاز ہوگیا۔

پی سی بی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق پاکستان سپر لیگ کے ٹکٹوں کی فروخت کا آغاز آج سہ پہر 3 بجے شروع ہوا، ٹکٹس 7 اپریل سے ملک بھر کے ٹی سی ایس ایکسپریس سینٹرز پر فزیکل ٹکٹ دستیاب ہوں گے۔

تاہم آن لائن بٹنگ کیلئے شائقین کرکٹ یہاں سے ٹکٹ بُک کرواسکتے ہیں۔

آن لائن بُک کی گئی ٹکٹیں بھی مقررہ ٹی سی ایس پک اپ مراکز سے حاصل کی جاسکتی ہیں یا ٹی سی ایس کے ذریعے گھر پر پہنچائی جاسکیں گی۔

مزید پڑھیں: پی ایس ایل ترانہ ریلیز؛ لیکن۔۔ شائقین کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں ناکام

واضح رہے کہ پی ایس ایل کے 10ویں ایڈیشن کا آغاز 11 اپریل کو ہوگا، ایونٹ تمام میچز کراچی، لاہور ملتان اور راولپنڈی میں کھیلیں جائیں گے، ٹورنامنٹ کا فائنل 18 مئی کو قذافی اسٹیڈیم میں شیڈول ہے۔

مزید پڑھیں: پی ایس ایل کا نمائشی میچ ہوگا یا نہیں؛ صوبائی وزیر بھی میدان میں کود پڑے

دوسری جانب پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں شائقین کی دلچسپی کیلئے ہر میچ میں ٹکٹ ریفل بھی ہوگی جس میں مختلف انعامات دیے جائیں گے۔
 

.

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پی ایس ایل کا ا غاز

پڑھیں:

وہ عیدیں اب کہاں تلاش کریں؟

عید خوشی کا نام ہے اور اگر عیدالفطر کی بات کی جائے تو اسے میٹھی عید بھی کہا جاتا ہے۔ اس عید پر خوشی کا ایک الگ ہی سماں ہوتا ہے۔ سحر و افطار کے خوبصورت لمحات کے بعد اُنتیس یا تیس روزے پورے ہونے سے لے کر عید کے چاند کے نظارے تک کا سفر یقینی طور پر اہمیت کا حامل ہے۔

اس پُرلطف سفر میں بچوں کی خوشیاں قابل دید ہوا کرتی ہیں۔ بچے سحر و افطار میں جتنے پرجوش نظر آتے ہیں اتنے ہی زیادہ وہ عید کی تیاری کےلیے بھی بے چین دکھائi دیتے ہیں۔ بچیاں چوڑیاں، مہندی، جوڑا سب کچھ بہت شوق سے خریدتی ہیں۔ اور ان کی ہر خواہش پوری کرنے کےلیے والدین اپنے شوق تک قربان کردیتے ہیں۔ اور کیوں نہ کریں یہ بیٹیاں تو گھر کی رحمت ہوتی ہیں۔ نجانے اگلے گھر ان کے یہ شوق کوئی پورے کرے نہ کرے، بس خدا سے یہی دعا ہوتی ہے کہ ان کے نصیب نیک ہوں۔

ہمارے بچپن کی عیدوں کی بات کی جائے تو چاند رات پر ننھیال ددھیال پر پُرخلوص رشتوں کے میلے لگا کرتے تھے۔ نانا نانی، دادا دای سے ملی محبت سے بھرپور عیدی، بچوں کی شرارتوں اور قہقہوں سے آنگن گونجا کرتا تھا۔

عید کارڈ جب ڈاک کے ذریعے ڈاکیا لایا کرتا تھا تو پُرخلوص رشتوں کی محبت کی مہک اس کاغذ کے ٹکڑے میں محسوس ہوا کرتی تھی۔ خالہ، ماموں، تایا، چچا کے گھر دعوتوں کے سلسلے چلتے تھے۔

دوستوں اور پردیس میں رہنے والے عزیزوں کا پی ٹی سی ایل کے پرانے ڈیزائن والے فون پر کال آنے پر گھر والے خوشی سے پھولے نہ سماتے تھے۔

عید کے دن اخبار میں پی ٹی وی کے عید کے خصوصی پروگراموں کے اوقات دیکھنا۔ میگزین میں عید سے متعلق خصوصی تحاریر پڑھنا اور خواتین کے کپڑوں کے ڈیزائن دیکھنا۔ دعوتوں پر غذا سادہ سہی لیکن لہجوں کی مٹھاس سے دل باغ باغ ہو جانا۔ 

پھر وقت نے کچھ رنگ بدلا وہ بزرگ جن کی دعاؤں سے آنگن آباد تھے وہ منوں مٹی تلے سو گئے۔ اب ہزاروں روپے بھی عیدی میں مل جائیں لیکن نانی دادی کی اُس محبت بھری عیدی کے آگے صفر لگتے ہیں۔ عید پر ملی دعائیں نانا دادا کی دعا سے کم لگتی ہیں۔

دوستوں کے قہقہے اب پھیکے دکھائی دیتے ہیں۔ خالہ، ماموں، تایا، چچا اب اپنے اپنے گھر میں ہی رہ کر خوش دکھائی دیتے ہیں۔ عید کی مبارکباد اب ایک میسیج کے ذریعے بھیج دی جاتی ہے۔ کبھی کبھار تو سب کو ایک جیسا یا پھر کسی کا میسیج اگلے کو اپنی طرف سے بھیج دیا جاتا ہے۔ اب لفظوں سے خوشبو نہیں آتی۔

اب موبائل کال پر ہزاروں میل دور بیٹھے کسی اپنے کا چہرہ تو دکھائی دے جاتا ہے لیکن پاس بیٹھے کوئی اپنا بہت دور محسوس ہوتا ہے۔ چوڑیوں اور مہندی کے رنگ بھی پھیکے لگتے ہیں۔ دعوت کے کھانوں میں محبت نہیں دکھاوا دکھائی دیتا ہے۔

اب یہی کہنے کو جی چاہتا ہے کہ عید تو بس بچوں کی ہوتی ہے اور ہم اب بڑے ہو گئے ہیں جن کے دم سے ہماری عیدیں پُررونق تھیں وہ اب سو گئے ہیں۔ اسی لیے ہماری عیدیں اب قبرستان میں انہیں تلاش کرنے میں گزر جاتی ہیں۔ اور یقین جانیں قبرستان سے واپس آتے ہوئے قدم بھاری محسوس ہوتے ہیں۔ جیسے اپنے پیچھے بہت کچھ چھوڑ رہے ہیں۔ نہ رُک سکتے ہیں نہ آگے بڑھ سکتے ہیں۔ مگر ان سب کے باوجود عید تو منانا پڑے گی۔

عید کی خوشیاں خصوصی طور پر ان بچوں کی ہیں جو ہمارا مستقبل ہیں۔ لہٰذا ہم باہمی محبت، خلوص اور اخلاص سے ان کی عیدوں کو خوبصورت بنا سکتے ہیں۔ رنجشوں کو مٹا کر اپنے بچوں کی خاطر اس عید کو خوبصورت بنائیں۔ کوشش کریں انہیں ہر رشتے کا ویسا ہی خالص پیار ملے جیسے ہمیں ملا۔

جو وقت گزر گیا وہ ہمارے ہاتھ میں نہیں۔ لیکن جو وقت ہے اسے خوبصورت یا بدصورت بنانا ہمارے اختیار میں ہے۔

روزے نے ہمیں صبر سکھایا اور عید ہمیں در گزر سکھاتی ہے۔ عید پر کسی روٹھے کو منانا، کسی یتیم کے سر پر دست شفقت رکھنا یا کسی تنہا انسان کو اپنایت کا احساس دلانا ناصرف اس شخص کےلیے بلکہ خود آپ کے لیے باعث خوشی ہوتا ہے۔ عید نئے جوڑے اور نئے جوتوں تک محدود نہیں بلکہ عید تو خود میں ایک نئی اور مثبت تبدیلی لانے کا نام بھی ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

متعلقہ مضامین

  • پی ایس ایل 10 کے ٹکٹوں کی آن لائن فروخت شروع ہوگئی
  • ایس ایل ایکس ٹکٹس کی آن لائن فروخت شروع، شائقین کے لیے انعامات جیتنے کا موقع
  • آذر بائیجان کے صدر کا دورہ پاکستان، تاریخ کا اعلان ہوگیا
  • دنیا کے کمزرو ترین پاسپورٹس میں پاکستان کہاں کھڑا ہے؟
  • ’90 کی دہائی کے کھلاڑیوں کے ساتھ ڈنر، یہ کیسے ہوگیا‘، صارفین کا محمد حفیظ سے سوال
  • ویمنز ورلڈکپ کوالیفائر؛ میچ آفیشلز کا اعلان ہوگیا
  • وہ عیدیں اب کہاں تلاش کریں؟
  • پی ایس ایل ترانہ ریلیز؛ لیکن۔۔ شائقین کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں ناکام
  • آئی پی ایل؛ ٹکٹوں کیلئے فرنچائز کو بلیک میل کیے جانے کا انکشاف