چین-لاؤس ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کے لیے لاؤس کے ساتھ مل کر کام کرنے کوتیار ہیں، چینی صدر
اشاعت کی تاریخ: 3rd, April 2025 GMT
چین-لاؤس ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کے لیے لاؤس کے ساتھ مل کر کام کرنے کوتیار ہیں، چینی صدر WhatsAppFacebookTwitter 0 3 April, 2025 سب نیوز
بیجنگ :کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مرکزی کمیٹی کے جنرل سیکرٹری اور صدر شی جن پھنگ نے لاؤ پیپلز ریوولیوشنری پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے جنرل سیکرٹری اور صدر مملکت تھونگلون کو ایک تعزیتی پیغام ارسال کیا، جس میں لاؤس کے سابق پارٹی اور ریاستی رہنما کھم تھائی سیفندون کے انتقال پر گہرے دکھ اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کیا گیا ۔
شی جن پھنگ نے تعزیتی پیغام میں کہا کہ کھم تھائی کمیونسٹ پارٹی آف چائنا اور عوام کے قریبی ساتھی اور دوست تھے، جنہوں نے چین اور لاؤس کے درمیان پارٹی اور ریاستی سطح پر تعلقات کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ صدر شی نے اپنے پیغام میں کہا کہ چین کی پارٹی، حکومت اور عوام ہمیشہ کھم تھائی کو یاد رکھیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ چین ،لاؤ پیپلز ریوولیوشنری پارٹی اور ریاست کے ساتھ روایتی دوستی کو مضبوط بنانے اور فروغ دینے کو بہت اہمیت دیتا ہے اور چین-لاؤس ہم نصیب معاشرے کی تعمیر اور سوشلسٹ کاز کو فروغ دینے کے لیے لاؤس کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔
.ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: لاو س کے کے ساتھ کے لیے
پڑھیں:
مودی کی مسلم دشمنی؛ وقف املاک سے متعلق متنازع بل اسمبلی میں پیش
مودی سرکار نے بھارت میں مسلمانوں کو آئینی اور قانونی طور پر حاصل مذہبی آزادی پر ایک اور قدغن لگانے کی تیاری کرلی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی کے حکومتی رکن نے بل لوک سبھا میں وقف املاک سے متعلق ترمیمی بل پیش کیا ہے۔
بل میں کہا گیا ہے کہ اس کا مقصد وقف املاک کے نظم و نسق کو بہتر بنانا ہے تاکہ املاک پر قبضے، وراثت اور دیگر معاملات میں ابہام کو دور کیا جاسکے۔
تاہم مسلمان رہنماؤں اور اپوزیشن جماعت کانگریس نے شدید الفاظ میں مخالفت کرتے ہوئے اس بل کو مسلمانوں کی وقف املاک ہڑپنے کی حکومتی سازش قرار دیا۔
بل پر بی جے پی کی اتحادی جماعتوں نے بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے اور مرکزی حکومت سے فوری طور پر بل واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
مسلم رکن پارلیمان اسد الدین اویسی نے کہا کہ اکثریت کے نام پر مودی سرکار اقلیتوں کے حقوق سلب نہیں کر سکتی۔
اس بل کی مخالفت کرنے والوں میں لوک سبھا میں تیسری بڑی جماعت سماج وادی پارٹی، ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس، عام آدمی پارٹی، کشمیر کی نیشنل کانفرنس، این سی پی (شرد پوار)، لالو پرساد کی آر جے ڈی، ڈی ایم کے اور بائیں بازو کی جماعتیں شامل ہیں۔
ان تمام جماعتوں نے بل کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اپنے ارکان کو ہدایت کی ہے کہ اس بل پر متحدہ اپوزیشن کے حق اور حکومت کے خلاف ووٹ کاسٹ کریں۔
دریں اثنا بھارت کی تقریباً تمام ہی مسلم جماعتوں نے بل پاس ہونے کی صورت میں ملک گیر احتجاجی مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔