امریکی یکطرفہ ٹیرف کے خلاف اپنے تجارتی حقوق کے تحفظ کے لیےسخت جوابی اقدامات اٹھائیں گے،چینی وزارت تجارت
اشاعت کی تاریخ: 3rd, April 2025 GMT
امریکی یکطرفہ ٹیرف کے خلاف اپنے تجارتی حقوق کے تحفظ کے لیےسخت جوابی اقدامات اٹھائیں گے،چینی وزارت تجارت WhatsAppFacebookTwitter 0 3 April, 2025 سب نیوز
بیجنگ :چین کی وزارت تجارت کے ترجمان نے امریکہ کی جانب سے یکطرفہ ٹیرف کے اعلان پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ چین اس فیصلے کی سختی سے مخالفت کرتا ہے اور اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے سختی سے جوابی اقدامات اٹھائے گا۔جمعرات کے روز ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ وہ بین الاقوامی تجارت میں نقصان اٹھا رہا ہے ، اور یوں بظاہر “مساوات” کے نام پر اپنے تمام تجارتی شراکت داروں پر ٹیرف بڑھا رہا ہے۔
یہ اقدام گزشتہ کئی سالوں کے کثیرالجہتی تجارتی مذاکرات میں حاصل ہونے والے مفادات کے توازن کو نظرانداز کرتا ہے، اور اس حقیقت کو بھی نظرانداز کرتا ہے کہ امریکہ طویل عرصے سے بین الاقوامی تجارت سے بھاری فوائد حاصل کرتا آیا ہے۔ امریکہ کا یہ یکطرفہ اور ذاتی اندازے پر مبنی “ریسپروکل ٹیرف” کا فیصلہ بین الاقوامی تجارتی اصولوں کے خلاف ہے اور متعلقہ فریقین کے جائز حقوق کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔
یہ ایک کھلی یکطرفہ دھونس اور زیادتی کی مثال ہے۔ اس پر متعدد تجارتی شراکت داروں نے اپنی شدید ناراضگی اور واضح مخالفت کا اظہار کیا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ٹیرف میں اضافہ کر کے امریکہ اپنے مسائل حل نہیں کر سکتا۔ یہ نہ صرف امریکہ کے اپنے مفادات کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ عالمی معاشی ترقی اور صنعتی سپلائی چین کے استحکام کے لیے بھی خطرہ ہے۔ تجارتی جنگ کا کوئی فاتح نہیں ہوتا، اور تحفظ پسندی کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔ چین امریکہ پر زور دیتا ہے کہ وہ فوری طور پر یکطرفہ ٹیرف کے اقدامات کو منسوخ کرے اور اپنے تجارتی شراکت داروں کے ساتھ مساوی مکالمے کے ذریعے اختلافات کو مناسب طریقے سے حل کرے۔
.ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
عالمی تجارتی جنگ اب حقیقت بن چکی ہے، جنوبی کوریا
ملک کے قائم مقام صدر ہان ڈک سو نے کہا ہے کہ عالمی تجارتی جنگ ایک حقیقت بن چکی ہے اور ان کی حکومت اس بارے میں سوچ رہی ہے کہ اس بحران سے کیسے نمٹا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر کی جانب سے جنوبی کوریا پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے کے اعلان کے ردعمل میں ملک کے قائم مقام صدر ہان ڈک سو نے کہا ہے کہ عالمی تجارتی جنگ ایک حقیقت بن چکی ہے اور ان کی حکومت اس بارے میں سوچ رہی ہے کہ اس بحران سے کیسے نمٹا جائے۔ ادھر اسرائیل کے مقامی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیل کے معاشی امور سے منسلک حکام جنھوں نے تمام امریکی درآمدات پر عائد ٹیرف کو ختم کر دیا تھا اب خود پر لگنے والے 17 فیصد ٹیکس پر شدید حیرت کا اظہار کیا ہے۔ ایک اعلیٰ افسر نے میڈیا کو بتایا کہ ہمیں یقین تھا کہ امریکی کی جانب سے درآمد کی جانے والی اشیا پر مکمل طور پر ٹیرف کے خاتمے کے بعد امریکہ یہ اقدام نہیں کرے گا۔