وین ڈیم پر انسانی اسمگلنگ کا الزام، خواتین کو ’تحفے‘ کے طور پر پیش کیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, April 2025 GMT
رومانیہ کی عدالت نے ہالی ووڈ کے لیجنڈری ایکشن اسٹار جین کلاؤڈ وین ڈیم پر انسانی اسمگلنگ کے سنگین الزامات عائد کردیے ہیں۔
64 سالہ اداکار پر الزام ہے کہ انہوں نے کینز کے ایک ایونٹ میں اسمگل کی گئی پانچ رومانیہ خواتین کے ساتھ ناجائز تعلقات قائم کیے، جبکہ انہیں ان کے اسمگل ہونے کا بخوبی علم تھا۔
رومانیہ کے ڈائریکٹوریٹ فار انویسٹی گیٹنگ آرگنائزڈ کرائم اینڈ ٹیررازم (DIICOT) کے مطابق، یہ واقعہ موریل بولیا نامی ایک رومانیہ کاروباری شخصیت کے مجرمانہ نیٹ ورک سے جڑا ہوا ہے، جو ایک ماڈلنگ ایجنسی چلاتے ہیں۔ وین ڈیم کو مبینہ طور پر ان خواتین کو ‘تحفے‘ کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔
متاثرین میں سے ایک کی نمائندگی کرنے والے وکیل ایڈریان کوکولس نے بتایا کہ ’’یہ خواتین انتہائی کمزور حالت میں تھیں اور ان کا جنسی استحصال کیا گیا تھا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’وین ڈیم کو ان خواتین کی حالت کا علم ہونے کے باوجود انہوں نے ان سے فائدہ اٹھایا۔‘‘
یہ معاملہ دراصل 2020 سے جاری انسانی اسمگلنگ اور نابالغوں کے استحصال کے ایک بڑے کیس کا حصہ ہے۔ کینز میں وین ڈیم کے زیر اہتمام تقریب میں موجود ایک چشم دید گواہ نے بھی اس واقعے کی تفصیلات بیان کی ہیں، جس کے بعد DIICOT نے باقاعدہ تحقیقات شروع کردی ہیں۔
وین ڈیم، جو ’اسٹریٹ فائٹر‘، ’کِک باکسر‘ اور ’ڈبل امپیکٹ‘ جیسی سپر ہٹ فلموں کےلیے مشہور ہیں، کے نمائندوں نے اب تک اس معاملے پر کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔ اداکار کی جانب سے خاموشی نے مزید شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے۔
یہ واقعہ نہ صرف ہالی ووڈ کے تاریک پہلوؤں کو اجاگر کرتا ہے بلکہ انسانی اسمگلنگ جیسے سنگین مسئلے پر بھی سوالات کھڑے کرتا ہے۔ اگر یہ الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو یہ 80 اور 90 کی دہائی کے اس مشہور ایکشن ہیرو کے کیریئر کےلیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتے ہیں۔
فلمی دنیا کے حلقوں میں اس خبر نے زلزلہ بپا کر دیا ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر بھی اس معاملے پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ بہت سے صارفین نے اسے ہالی ووڈ کے ’می ٹو‘ مہم کا ایک اور باب قرار دیا ہے۔
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انسانی اسمگلنگ وین ڈیم
پڑھیں:
مفتاح اسماعیل کا شہباز حکومت پر 17 ارب کے ڈاکے کا الزام
میڈیا سے گفتگو میں مفتاح اسماعیل نے کہا کہ جو لوگ عوام کے ووٹ سے نہیں آئے وہ عوام کو ریلیف کیوں دیں گے، کینالز بنانے کے منصوبے کو مؤخر کر دیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق وفاقی وزیر خزانہ اور عوام پاکستان پارٹی کے رہنما مفتاح اسماعیل نے شہباز حکومت پر پر پیٹرولیم مد میں17 ارب کے ڈاکے کا الزام لگا دیا۔ کراچی میں پارٹی کی عید ملن پر میڈیا سے گفتگو میں مفتاح اسماعیل نے کہا کہ وفاقی حکومت نے پیٹرولیم کی مد میں عوام کی جیب پر 17 ارب روپے کا ڈاکا ڈالا۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ عوام کے ووٹ سے نہیں آئے وہ عوام کو ریلیف کیوں دیں گے، کینالز بنانے کے منصوبے کو مؤخر کر دیں۔ سابق وفاقی وزیر خزانہ نے یہ بھی کہا کہ وزراء نے اپنی تنخواہوں میں 186 فیصد اضافہ کیا ہے، پنجاب اور ارکان قومی اسمبلی نے اپنی تنخواہیں میں 900 فیصد اضافہ کیا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ اللہ سے دعا ہے کہ عام پاکستانی کی تنخواہوں میں بھی اضافہ ہو، حکومت اپنے آپ کو مراعات دیتی رہتی ہے، کچھ ہوش کے ناخن لے اور لوگوں کو بھی مراعات دے۔
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ عوام کو بجلی اور گیس کے بلوں میں ریلیف دیا جائے، حکومت آج ٹیکس لگانے کی بات کرتی ہے اور کل ریلیف دینے کی بات کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے پیٹرولیم کی مد میں عوام کی جیب پر 17 ارب کا ڈاکا ڈالا، ٹیکس لگایا،17 ارب روپے ہم نے ٹیکس دیا ہے اور مزید دیتے رہیں گے، بجلی پر ریلیف کا کہا تھا وہ ابھی تک نہیں ملا۔ سابق وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ ہم اس حکومت سے امید ہی کر سکتے ہیں، توقع نہیں کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت کو شرم آنی چاہیے کہ کراچی میں سینکڑوں افراد ٹینکر کی ٹکر سے مر گئے ہیں، اچھی اور ذمہ دار حکومت ہو تو ٹینکر اور ڈمپر کا مسئلہ 3 دن میں حل ہو سکتا ہے۔ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ملک کی بدنصیبی ہے کہ پیپلز پارٹی سندھ میں 16 سال سے حکومت کر رہی ہے، دیگر سہولیات نہیں دے سکتی نہ دے، مگر ڈمپر سے لوگوں کو بچائے۔