ملک بدری؛ جڑواں شہروں میں حساس اداروں کی کارروائیاں، 60 افغان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 3rd, April 2025 GMT
اسلام آباد:
غیر ملکیوں کی ملک بدری کے سلسلے میں حساس اداروں اور پولیس کی مشترکہ کارروائیوں میں 60 افغان باشندوں کو گرفتار کرلیا گیا۔
ذرائع کے مطابق غیر ملکیوں کی ملک بدری کے پلان کا دوسرا مرحلہ شروع ہوگیا ہے، اس حوالے سے افغان سٹیزن کارڈ ہولڈرز کی رضاکارانہ واپسی کی مدت ختم ہونے کے بعد ایکشن شروع کردیا گیا ہے۔
جڑواں شہروں (اسلام آباد راولپنڈی) میں خفیہ اطلاعات پر کارروائیوں میں 60 افغان باشندوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ یہ کارروائیاں پولیس اور حساس اداروں نے مشترکہ طور پر کی ہیں۔
اسلام آباد کے علاقوں ترنول، بہارہ کہو، غوری ٹاؤن اور میرآبادی میں سرچ آپریشن کیا گیا جہاں سے افغان سٹیزن کارڈ رکھنے والے 22 باشندوں کو حراست میں لیا گیا۔ اس کے علاوہ راولپنڈی کی فوجی کالونی اور ملحقہ علاقوں سے 38 افراد کو پکڑا گیا۔
ذرائع کے مطابق تمام افغان باشندے پرانا حاجی کیمپ میں واقع عارضی کیمپ میں منتقل کیے گئے ہیں، جہاں رجسٹریشن کے بعد تمام افراد کو لنڈی کوتل لے جایا جائے گا۔ لنڈی کوتل کیمپ میں افغان باشندوں کی بائیومیٹرک کے بعد وطن واپسی ہوگی۔
ذرائع نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں فارن ایکٹ کے تحت گرفتار افغان باشندوں کو بھجوایا جائے گا۔ جیلوں میں بند افغان باشندوں کو لنڈی کوتل کیمپ منتقل کردیا جائے گا۔ ملک میں سب سے زیادہ افغان باشندے صوبہ خیبر پختونخوا میں مقیم ہیں۔ پی او آر کارڈ رکھنے والے باشندے 30 جون 2025 تک پاکستان میں رہ سکتے ہیں۔
.ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: افغان باشندوں کو
پڑھیں:
عید کی تعطیلات کے بعد افغان مہاجرین کی ملک بدری کا عمل شروع کرنے کا فیصلہ
دنیا میں کوئی اور ملک اتنی بڑی تعداد میں مہاجرین کو اتنے طویل عرصے تک پناہ نہیں دے سکا، لیکن پاکستان نے ہمیشہ افغان بھائیوں اور بہنوں کیلئے اپنے دروازے کھلے رکھے۔ دہشت گردی، معاشی بحرانوں اور سکیورٹی خدشات کے باوجود، پاکستان نے کبھی بھی افغان مہاجرین سے منہ نہیں موڑا اور ان کی عزت، سلامتی اور فلاح و بہبود کو یقینی بنایا۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان نے عید کی تعطیلات کے بعد سے غیر قانونی افغان مہاجرین کی ملک بدری کا عمل شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 40 سال سے زائد عرصے تک، پاکستان افغان مہاجرین کیلئے ایک مضبوط سہارا رہا ہے، انہیں پناہ، روزگار اور تعلیم فراہم کی، حالانکہ خود پاکستان کو شدید اقتصادی مشکلات کا سامنا تھا۔ دنیا میں کوئی اور ملک اتنی بڑی تعداد میں مہاجرین کو اتنے طویل عرصے تک پناہ نہیں دے سکا، لیکن پاکستان نے ہمیشہ افغان بھائیوں اور بہنوں کیلئے اپنے دروازے کھلے رکھے۔ دہشت گردی، معاشی بحرانوں اور سکیورٹی خدشات کے باوجود، پاکستان نے کبھی بھی افغان مہاجرین سے منہ نہیں موڑا اور ان کی عزت، سلامتی اور فلاح و بہبود کو یقینی بنایا۔ پاکستان نے افغان تنازعے کا سب سے زیادہ بوجھ اٹھایا، ہزاروں جانوں کی قربانی دی اور اربوں ڈالر کا اقتصادی نقصان برداشت کیا، لیکن اس کے باوجود ان مہاجرین کو تنہا نہیں چھوڑا۔
عالمی برادری پاکستان کی مہاجرین کیلئے بے مثال خدمات کو سراہتی ہے، لیکن حقیقی ذمہ داری کا تقاضا یہ ہے کہ ایک منظم، قانونی اور منصفانہ وطن واپسی کا عمل یقینی بنایا جائے۔ دنیا صرف مہاجرین کے حقوق کی بات کرتی ہے، لیکن پاکستان نے عملی اقدامات کرکے لاکھوں افغان مہاجرین کو سہارا دیا، یہاں تک کہ جب عالمی امداد بھی ناکافی تھی۔ پاکستان کی سخاوت بے مثال رہی ہے، لیکن طویل المدتی استحکام کیلئے پائیدار حل ضروری ہے، وقت آگیا ہے کہ دنیا پاکستان کی بے پناہ قربانیوں کو تسلیم کرے اور افغان مہاجرین کی محفوظ اور باوقار واپسی کو یقینی بنانے میں مدد کرے، بجائے اس کے کہ ایک خودمختار ملک کو اس کے اپنے قوانین پر عمل درآمد کرنے پر ناحق تنقید کا نشانہ بنایا جائے۔