بابراعظم کی باؤنڈری لائن پر ننھی بچی سے ہاتھ ملانے کی ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 3rd, April 2025 GMT
قومی ٹیم کے اسٹار کرکٹر بابراعظم نے نیوزی لینڈ کیخلاف میچ کے دوران ننھی مداح کیساتھ ہاتھ ملا کر اُسکی معصونہ خواہش کو پورا کردیا۔
گزشتہ روز ہیملٹن میں کھیلے گئے میچ میں پاکستانی ٹیم کو میدان میں شکست کا منہ دیکھنا پڑا تاہم میدان کے باہر بابراعظم نے ننھی مداح کیساتھ باؤنڈری لائن پر ہاتھ ملا کر اسکی خواہش کو پورا کیا، جس کی ویڈیو وائرل ہورہی ہے۔
وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ سابق کپتان بابراعظم باؤنڈری لائن پر فیلڈنگ کیلئے آرہے تھے تو ننھی مداح تیزی سے بھاگتی ہوئی باؤنڈری لائن کے قریب پہنچی اور ہاتھ بڑھا دیا، جس پر بابر نے اسکی حوصلہ افزائی کی اور ہاتھ ملایا۔
مزید پڑھیں: حارث رؤف کی حالت اب کیسی ہے، کیا تیسرا میچ کھیلیں گے؟
ہاتھ ملانے کے بعد ننھی مداح اپنی فیملی کے پاس جاتی ہوئی دیکھائی دی جہاں وہ اپنی والدہ کو اپنا دیکھا رہی تھی۔
مزید پڑھیں: کیویز کیخلاف سفیان مقیم نے کونسا ورلڈ ریکارڈ بنایا؟
واضح رہے کہ نیوزی لینڈ کیخلاف تین میچوں پر مشتمل ون ڈے سیریز میں 0-2 کی ناقابل شکست برتری حاصل ہے جبکہ ٹی20 میں کیویز نے گرین شرٹس کو 1-4 سے ہرایا تھا۔
.
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: باؤنڈری لائن ننھی مداح
پڑھیں:
کرکٹر ایم ایس دھونی، مودی کی بی جے پی میں شامل ہوگئے؛ حقیقت کیا ہے؟
بھارت کو ورلڈ کپ جتوانے والے کپتان کرکٹر مہندر سنگھ دھونی سے متعلق یہ خبریں گردش کررہی ہیں کہ انھوں نے بھارت کی حکمراں جماعت بی جے پی جوائن کرلی ہے۔
دھونی کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے جس میں انھیں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ کنول کے نشان کے ساتھ زعفرانی اسکارف پہنے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔
کرکٹر اور وزیراعظم کی اس وائرل تصویر کے ساتھ صارفین یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ کرکٹر بی جے پی میں شامل ہوگئے ہیں۔ مبینہ تصویر کے پس منظر میں بھگوا پارٹی کا بینر بھی نظر آرہا ہے۔
متعدد فیس بک صارفین نے بھی وزیراعظم مودی کے ساتھ کرکٹر کی مبینہ تصویر شیئر کرتے ہوئے کیپشن لکھا ہے کہ ’’ایم ایس دھونی بی جے پی میں شامل ہوگئے ہیں۔‘‘
کیا یہ حقیقت ہے؟ یا دھونی کی یہ تصویر کسی خاص موقع پر لی گئی ہے۔
فیکٹ چیک کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ کسی بھی سرچ انجن میں ’’ایم ایس دھونی‘‘ اور ’’بی جے پی‘‘ کے مطلوبہ الفاظ کی تلاش سے ایسی کوئی معتبر رپورٹ نہیں ملی جس میں کہا گیا ہو کہ کرکٹر نے مذکورہ پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔ مزید یہ کہ، ہمیں ایسی کوئی معتبر رپورٹ بھی نہیں ملی جس سے پتہ چلتا ہو کہ پی ایم مودی نے حال ہی میں دھونی سے ملاقات کی ہے۔
گوگل لینس پر وائرل امیج کو چیک کرنے پر بھی علم ہوتا ہے کہ وزیراعظم مودی کے ساتھ ایم ایس دھونی کی مبینہ تصویر والی کوئی بھی خبر شائع نہیں ہوئی۔
وائرل تصویر کا بغور جائزہ لینے پر صارفین دیکھ سکتے ہیں کہ وزیراعظم کا چشمہ پوری طرح سے نہیں بنا ہوا بلکہ ان کے چہرے کے ساتھ مل جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، زعفرانی اسکارف پر کنول کی علامت کا ایک حصہ بھی دیکھا جاسکتا ہے جسے غیر معمولی طور پر وزیراعظم کے کندھے پر رکھا گیا ہے۔
تصویر کے دھندلے پس منظر اور دیگر خصوصیات بھی اس جانب اشارہ کررہی ہیں اس تصویر کو ممکنہ طور پر آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا استعمال کرتے ہوئے بنایا گیا ہے۔
وائرل امیج کو متعدد AI ڈیٹیکشن پلیٹ فارمز پر چیک کرنے کے بعد اس تصویر کے ڈیپ فیک ہونے کا 83 فیصد امکان پایا گیا۔
نتیجہ
تمام تر چیکنگ کے بعد فیکٹ چیک کی ٹیم اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ وائرل تصویر جس میں مبینہ طور پر دعویٰ کیا گیا ہے کہ دھونی بی جے پی میں شامل ہوئے ہیں اور پی ایم مودی کے ساتھ تصویر کھنچوائی گئی ہے وہ آرٹی فیشل انٹیلی جنس سے تیار کی گئی ایک ڈیپ فیک تصویر ہے۔