امریکی اضافی ٹیرف گلوبل اکنامی کیلئے منفی ہے: ملیحہ لودھی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, April 2025 GMT
ملیحہ لودھی—فائل فوٹو
امریکا میں پاکستان کی سابق سفیر ملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ اضافی ٹیرف عالمی معیشت کے لیے منفی ہے۔
امریکا میں پاکستان کی سابق سفیر ملیحہ لودھی نے ’جیو نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا میں پاکستانی مصنوعات پر ٹیکس تو ہمیشہ سے تھا، مزید ٹیرف بڑھنے سے پاکستانی مصنوعات امریکا میں مہنگی ہو جائیں گی۔
ملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ امریکا ٹیرف عائد کرے یا نہیں کرے، پاکستان کو اپنی ایکسپورٹس بہتر کرنا ہوں گی، ٹیرف عائد کرنے سے تجارتی جنگ شروع ہو جائے گی۔
سابق پاکستانی سفیر ملیحہ لودھی کا کہنا ہے کہ بھارتی وزیرِ خارجہ کے پاکستان آنے سے تعلقات میں خاص فرق نہیں پڑے گا۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ اضافی ٹیرف گلوبل اکنامی کے لیے منفی ہے، ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ ٹیرف کے معاملے میں کہاں تک ایڈجسٹ کر سکتے ہیں۔
ملیحہ لودھی نے بتایا ہے کہ چین اور امریکا کے درمیان دنیا کا سب سے بڑا تجارتی تعلق ہے، امریکا ٹیرف لگائے یا نہ لگائے، پاکستان کی ایکسپورٹ پرفارمنس اسلام آباد میں طے ہوتی ہے نہ کہ واشنگٹن میں۔
.ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ملیحہ لودھی نے امریکا میں کہا ہے کہ
پڑھیں:
ٹرمپ ٹیرف وار: امریکا کو متعدد ممالک کی طرف سے شدید ردعمل کا سامنا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی ٹیرف پالیسی سے متاثرہ ممالک کی طرف سے شدید ردعمل دیکھنے کو مل رہا ہے۔ متعدد ممالک نے پہلے ہی جوابی کارروائی کے لیے امریکا کو خبردار کر رکھا ہے۔
چین نے کہا ہے کہ امریکی ٹیرف عالمی اقتصادی ترقی کے لیے خطرہ ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ امریکا نئے ٹیرف کو فی الفور منسوخ کرے۔ چینی وزارت تجارت نے کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ نئے ٹیرف سے خود امریکی مفادات اور عالمی سپلائی چین کو نقصان پہنچے گا۔
دوسری طرف برازیلین پارلیمنٹ نے ٹرمپ ٹیرف سے نمٹنے کے لیے قانون کی منظوری دیدی ہے۔ جبکہ امریکی اتحادی آسٹریلیا نے انہیں ’غیرضروری‘ قرار دیا اور اٹلی نے یورپی یونین پر ٹیرف کو ’غلط‘ قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیےامریکی صدر ٹرمپ کا درآمدات پر ٹیرف کا اعلان، پاکستان پر 29 فیصد ٹیرف عائد
آئرلینڈ نے کہا کہ یورپی یونین کو امریکی ٹیرف کا مناسب جواب دینا چاہیے۔ جرمن کیمیل انڈسٹری نے ٹرمپ حکومت کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ جبکہ برطانیہ نے کہا کہ امریکی ٹیرف کے باوجود امریکا کے ساتھ اقتصادی معاہدے کے لیے پرعزم ہیں۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستانی مصنوعات پر 29 فیصد ٹیرف عائد کردیا۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ پاکستان ہم 58 فیصد ٹیرف وصول کرتا ہے۔ ہم پاکستان پر 29 فیصد ٹیرف عائد کریں گے۔
یہ بھی پڑھیےکینیڈین وزیراعظم نے ٹیرف کے نفاذ کو کینیڈا پر حملہ قرار دے دیا
امریکی صدر نے بھارت پر 26 فیصد، بنگلہ دیش پر 37 فیصد، برطانیہ پر 10 فیصد، یورپ پر 20 فیصد، چین پر 34 فیصد، جاپان پر 24 فیصد، ویت نام پر 46 فیصد، تائیوان پر32 فیصد، جنوبی کوریا پر 25 فیصد، تھائی لینڈ پر 36 فیصد، سوئٹزر لینڈ پر31 فیصد، انڈونیشیا پر 32 فیصد، ملائشیا پر 24 فیصدکمبوڈیا پر 49 فیصد، جنوبی افریقہ پر 30 فیصد، برازیل اور سنگاپور پر 10 فیصد، اسرائیل اور فلپائن پر 17 فیصد، چلی اور آسٹریلیا پر 10 فیصد، ترکیہ پر 10 فیصد، سری لنکا پر 44 فیصد، کولمبیا پر 10 فیصد جوابی ٹیرف لگا دیا۔
امریکی صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں خطاب میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے اتحادی 30 سال سے مراعات لے رہے ہیں۔امریکی مصنوعات پر ڈیوٹیز لگانے والوں کو اب جواب ملے گا۔ اب میں آپ کو بتادوں کہ وہ دن گنے جاچکے ہیں، درآمدات پرٹیرف لگے گا۔ جوابی ٹیرف کا نفاذ امریکا کے لیے اچھا ہوگا۔ امریکا تمام درآمدات پر 10 فیصد ٹیکس عائد کرے گا۔
مزید پڑھیں چین کا امریکا کی مسلط کردہ ’ٹیرف وار‘ آخر تک لڑنے کا اعلان
امریکی صدر نے کہا کہ آج کا دن امریکی تاریخ کے لیے اہم ترین دن ہے۔ آج امریکا کی اقتصادی آزادی کا دن ہے۔ برسوں تک امریکی شہریوں کو سائیڈ لائن رکھا گیا۔ اس دوران دوسری قومیں طاقتور بن گئیں۔ اب امریکا کی خوشحالی کی باری ہے۔ اضافی ٹیکس عائد کرنے سے مضبوط مسابقت اور اشیا کی قیمتیں کم ہوں گی۔ ان کا کہنا ہے کہ محصولات سے حاصل ہونے والی رقم کو اپنے ٹیکس کم کرنے کے لیے استعمال کریں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا ٹرمپ ٹیرف وار