بھارت کے ایوان زیریں (لوک سبھا) میں قانون سازوں کی جانب سے متنازع بل پر بحث کے بعد وقف بل کی منظوری دے دی گئی، بل کے حق میں 288 جب کہ مخالفت میں 232 ووٹ ڈالے گئے، بل کی منظوری کے لیے کم از کم 272 ووٹ درکار تھے، اس بل کا مقصد صدیوں سے بھارتی مسلمانوں کی جانب سے عطیہ کردہ اربوں ڈالر مالیت کی جائیدادوں کے انتظام کو تبدیل کرنا ہے۔

غیر ملکی اور بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت نے وقف (ترمیمی) بل، 2024 پارلیمنٹ کے ایوان زیریں (لوک سبھا) میں پیش کیا تھا، جس میں موجودہ قانون میں درجنوں ترامیم کی گئی ہیں۔

بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ اس بل سے وقف کے انتظام میں شفافیت آئے گی، وقف سے مراد مسلمانوں کی متروکہ جائیدادیں ہیں۔

وزیر اقلیتی امور کرن رجیجو نے اپوزیشن کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس بل کا مقصد مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانا نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وقف بورڈ صرف وقف املاک کی نگرانی کرے گا، انتظام نہیں کرے گا، اس بل کا مقصد پچھلی حکومتوں کے ادھورے کاموں کو پورا کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج 8 لاکھ 72 ہزار جائیدادیں وقف کے تحت ہیں، جب کہ 2004 میں یہ تعداد 4 لاکھ 90 ہزار تھی۔

حزب اختلاف کی جماعتوں اور مسلم گروپوں نے اس بل کی شدید مخالفت کی ہے اور اسے بھارت کی سب سے بڑی مذہبی اقلیت کے آئینی حقوق کو کمزور کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ یہ بل پہلی بار گزشتہ سال اگست میں پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا تھا، لیکن حزب اختلاف کے ارکان کے احتجاج کے بعد اسے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) کو بھیج دیا گیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر اقلیتی امور کرن رجیجو کی جانب سے بدھ کو پیش کیے گئے بیان میں 25 تبدیلیوں کو شامل کیا گیا، جو انتہائی منقسم کمیٹی نے تجویز کیں، جس میں حزب اختلاف کے ارکان بھی شامل تھے۔

یہ بل لوک سبھا (ایوان زیریں) میں منظور کرلیا گیا ہے۔

کانگریس سمیت زیادہ تر اپوزیشن جماعتوں نے بل کے خلاف ووٹ دیا، لیکن مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت والے اتحاد کے پاس اس کو منظور کرانے کے لیے کافی تعداد تھی، اس کے بعد اسے بحث اور منظوری کے لیے ایوان بالا (راجیہ سبھا) میں بھیجا جائے گا۔

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھرگے نے کہا کہ اپوزیشن متحد ہے اور وقف ترمیمی بل پر مودی حکومت کے غیر آئینی اور تقسیم کرنے والے ایجنڈے کو شکست دینے کے لیے کام کرے گی۔

مسلم گروپوں نے دلیل دی ہے کہ اس بل کا مقصد وقف قوانین کو کمزور کرنا اور وقف املاک کو ضبط کرنے اور تباہ کرنے کی راہ ہموار کرنا ہے۔

بدھ کو پارلیمنٹ میں بل پیش کرتے ہوئے رجیجو نے اپوزیشن پر یہ افواہیں پھیلانے کا الزام عائد کیا کہ یہ بل مسلمانوں کے حقوق چھین لے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے جو وقف (ترمیمی) بل پیش کیا ہے، اس میں جے پی سی کی کئی سفارشات شامل ہیں، جنہیں ہم نے قبول کرکے اس بل میں شامل کیا ہے۔

سیاہ ترین دن
اپوزیشن جماعت کانگریس کی لوک سبھا میں رکن ماہوا موئترا نے کہا کہ آج بھارت کی سیکولر جمہوریت کا سیاہ ترین دن ہے، ترمیمی بل میں 3 سے 4 شقیں شامل کی گئی ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ آپ کو یہ بتانا ہے کہ آپ 5 سال سے عملی طور پر مسلمان ہیں، میں خود برہمن ہندو ہوں، اگر مجھے یہ ثبوت دینا ہو تو میں کیسے دوں گی کہ میں ہندو ہوں؟ آپ سب کیسے یہ ثبوت دیں گے؟۔

انہوں نے کہا کہ میرے حلقے میں مسلمان اتنے امیر نہیں ہیں کہ وہ قبرستان یا مسجد کے لیے زمین خرید سکیں، وہاں کئی مساجد اور مسلمانوں کے قبرستانوں کے لیے اراضی ہندو کمیونٹی نے عطیہ کی ہے، اب جب یہ سب ختم کردیا جائے گا، تو کسیے مسلمان اپنی رسومات کے لیے جائیدادیں خریدیں گے؟، یہ بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہے۔

بل بھارتی جمہوریت کی فتح ہے، ناصرالدین چشتی
چیئرمین آف آل انڈیا سجادہ نشین کونسل ناصرالدین چشتی نے کہا ہے کہ وقف ترمیمی بل کی لوک سبھا سے منظوری بھارت میں جمہوریت کی فتح ہے، بل کی منظوری پر وزیراعظم مودی، وزیراقلیتی امور کرن رجیجو کو مبارک باد پیش کرتے ہیں۔
ناصرالدین چشتی نے کہا کہ بھارتی حکومت نے مسلمانوں کے حق میں بہت بڑا قدم اٹھایا ہے، امید ہے کہ بھارتی حکومت غریب مسلمان کمیونٹی کی خواتین اور بچوں کے لیے خصوصی اسکیمیں متعارف کروائے گی۔

دوسری جانب انڈین صوفی فاؤنڈیشن کے صدر کشش وارثی نے بھی بل کا خیر مقدم کرتے ہوئے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ اس بل کو ضرور پڑھیں، وفاقی وزرا کے لوک سبھا میں بیان سے واضح ہوگیا کہ بل مسلمانوں کے خلاف نہیں ہے، بلکہ اس بل کے ذریعے غریب مسلمانوں کے لیے اسکیمیں متعارف کروائی جائیں گی۔

دونوں مسلمان رہنماؤں کی جانب سے امید کی گئی کہ بل راجیہ سبھا (ایوان بالا) سے بھی منظور ہوجائے گا۔

Post Views: 1.

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: اس بل کا مقصد مسلمانوں کے کی جانب سے نے کہا کہ سبھا میں لوک سبھا کہ اس بل ہے کہ ا کے لیے

پڑھیں:

وقف ترمیمی بل مسلمانوں کے خلاف سازش ہے، غلام محی الدین میر

نیشنل کانفرنس کے اسمبلی ممبر نے مودی حکومت سے مطالبہ کیا کہ مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مدنظر رکھتے ہوئے وقف بل پر نظرثانی کی جائے۔ اسلام ٹائمز۔ وقف ترمیمی بل جسے پارلیمنٹ میں منظور کرلیا گیا۔ جموں و کشمیر کے رکن اسمبلی غلام محی الدین میر نے اس بل کی شدید مخالفت کی ہے۔ ایم ایل اے راج پورہ نے بل کو مسلم مخالف قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے خلاف اس قسم کی حرکت ناقابل قبول ہے کیونکہ ایسا مسلمانوں کو پسماندہ کرنے کے لئے کیا جارہا ہے۔ انہوں نے بل کو مسلمانوں کے خلاف سازش قرار دیا۔ محی الدین میر نے کہا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس حکومت وقف ترمیمی بل کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کا ماننا ہے کہ بل کو متعارف کرانے سے حکومت کو ایسا ہتھیار مل جائے گا جسے وہ مسلمانوں کے خلاف استعمال کرے گی۔

محی الدین میر نے اس بل کو غیر آئینی اور مسلم مخالف قرار دیا۔ انہوں نے مودی حکومت سے مطالبہ کیا کہ مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے بھارت کے وزیر داخلہ امت شاہ کے دورہ جموں و کشمیر کے حوالہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ وہ جلد ہی ریاستی درجہِ بحال کرنے کے حوالے سے اعلان کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ امت شاہ نے ریاستی درجہ بحال کرنے کا جو وعدہ کیا تھا، اب وقت آگیا ہے کہ اسے فوری طور پر پورا کیا جائے۔

متعلقہ مضامین

  • وقف ترمیمی بل غیرآئینی اور مسلمانوں کی توہین ہے، اسد الدین اویسی
  • متنازع نہری منصوبے سے پنجاب کے کتنے علاقے متاثر ہوں گے؟ پی پی رہنما کا بڑا انکشاف
  • وقف ترمیمی بل مسلمانوں کے خلاف سازش ہے، غلام محی الدین میر
  • بھارت: اسد الدین اویسی نے احتجاجاً متنازع وقف ترمیمی بل پھاڑ دیا
  • مسلمانوں کی وقف جائیدادوں پر قبضے کی سازش، بھارت میں متنازع وقف قانون منظور
  • مودی کی مسلم دشمنی، وقف املاک سے متعلق متنازع بل اسمبلی میں پیش
  • مودی کی مسلم دشمنی؛ وقف املاک سے متعلق متنازع بل اسمبلی میں پیش
  • بھارت میں متنازع وقف ترمیمی بل پارلیمنٹ میں پیش، بحث جاری
  • ہماری پارٹی بھی وقف ترمیمی بل کی حمایت کریگی، پریم کمار جین