ٹرمپ کا درآمدات پر جوابی ٹیرف کا اعلان! پاکستان پر کیا اثرات ہوں گے؟
اشاعت کی تاریخ: 3rd, April 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا میں داخل ہونے والی تمام غیر ملکی مصنوعات پر کم از کم 10 فیصد ٹیکس عائد کرنے کا اعلان کردیا جبکہ پاکستان پر29 فیصد جوابی ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ پاکستان 58 فیصد ٹیرف وصول کرتا ہے ہم پاکستان پر 29 فیصد ٹیرف عائد کریں گے۔
وی نیوز نے معاشی ماہرین سے گفتگو کی اور یہ جاننے کی کوشش کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس فیصلے سے پاکستانی برآمدات پر کیا اثر پڑے گا؟ اور پاکستان سے امریکا کو کون سی اشیا برآمد کی جاتی ہیں؟
ماہر معیشت ڈاکٹر خاقان نجیب نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کا اس وقت تجارتی حجم 7 ارب ڈالر کا ہے جس میں سے 5 ارب ڈالر کی پاکستان کی امریکا کو ایکسپورٹس ہیں جبکہ 2 ارب ڈالر کی امپورٹس ہیں۔
پاکستان سب سے زیادہ ٹیکسٹائل سے متعلقہ مصنوعات امریکا کو ایکسپورٹ کرتا ہے۔ اس کے علاوہ سرجیکل آلات اور دیگر الات بھی ایکسپورٹ کیے جاتے ہیں۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ 29 فیصد کے ٹیرف پر مذاکرات ہو سکتے ہیں۔ اس فیصلے کا عالمی دنیا پر اثر پڑا ہے، دنیا بھر کی سٹاک مارکیٹ اس فیصلے سے متاثر ہوئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے امریکی صدر ٹرمپ کا درآمدات پر ٹیرف کا اعلان، پاکستان پر 29 فیصد ٹیرف عائد
ڈاکٹر خاقان نجیب نے کہا پاکستان کو اب اپنی مصنوعات امریکا ایکسپورٹ کرنے کے لیے بہت سی محنت کرنا ہوگی۔ ان کی کوالٹی کو بہتر بنانا ہوگا اور قیمتوں کو عالمی معیار کے مطابق کرنا ہوگا جبکہ اپنی پیداواری لاگت کو بھی کم سے کم کرنا ہوگا۔ پاکستان کو اب زرعی شعبے پر بھی اصلاحات کرنا ہوں گی تاکہ پاکستانی اشیا عالمی مارکیٹ میں کم لاگت اور اعلیٰ معیار کے ساتھ پیش کی جا سکیں۔
معاشی تجزیہ کار شہباز رانا نے وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تمام ممالک پر 10 فیصد ٹیکس تو عائد کیا ہے لیکن جن مالک پر اضافی ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔ ان ممالک پر امریکی صدر کے اس فیصلے کا بڑا اثر سامنے آئے گا۔ امریکی صدر کا 10 فیصد ٹیکس کا نفاذ تو 5 اپریل سے ہی ہو جائے گا تاہم جو اضافی 29 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے اس کا نفاذ 9 اپریل سے ہو جائے گا۔
شہباز رانا نے کہا کہ پاکستان امریکا کو ٹیکسٹائل سے متعلقہ اشیاء ایکسپورٹ کرتا ہے۔ اس وقت جب پاکستان پر اضافی ٹیرف کا نفاذ نہیں ہے تو پاکستانی ٹیکسٹائل کمپنیوں کو عالمی مارکیٹ میں برتری حاصل ہے لیکن جب 29 فیصد کا اضافی ٹیرف عائد کیا جائے گا، تب پاکستانی کمپنیوں کے لیے امریکی مارکیٹ میں مقابلہ کرنا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔ کیونکہ جن ممالک میں پاکستان سے زیادہ ٹیرف عائد کیا گیا ہے، ان کی پیداواری لاگت پاکستان سے بھی کم ہے اور وہ ہو سکتا ہے کہ اس بھاری ٹیرف کے نفاذ سے زیادہ متاثر بھی نہ ہوں۔ اگر پاکستان نے امریکا کو کی جانے والی اپنی برآمدات کو برقرار رکھنا ہے تو اپنی پیداواری لاگت کو کم اور معیار کو مزید بہتر کرنا ہوگا وگرنہ اس ٹیرف کے نفاذ کے بعد پاکستانی برآمدات میں بڑی کمی واقع ہوگی۔
یہ بھی پڑھیے ٹرمپ ٹیرف وار: امریکا کو متعدد ممالک کی طرف سے شدید ردعمل کا سامنا
سینئر صحافی شکیل احمد نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹیرف کے نفاذ سے ایک نئی تجارتی جنگ کا اعلان کیا ہے۔ صدر نے یہ فیصلہ امریکی معیشت کو مستحکم کرنے اور مقامی انڈسٹری کو فروغ دینے کے لیے کیا ہے۔ گزشتہ سال 2024 میں پاکستان اور امریکا کی تجارتی حجم 7.
شکیل احمد نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے امریکا کو سب سے زیادہ ٹیکسٹائل اور اس سے متعلقہ اشیاء ایکسپورٹ کی جاتی ہیں جن میں ریڈی میڈ کپڑے، تولیا اور دیگر پہننے والی اشیاء۔ اس کے علاوہ چمڑے کی جیکٹس، چمڑے کے جوتے، سرجیکل اور میڈیکل آلات، چاول، سی فوڈز اور کھیلوں کی مصنوعات ایکسپورٹ کی جاتی ہیں۔ امریکی صدر کے اس فیصلے کے بعد اب پاکستان کے لیے ان تمام اشیاء کا امریکا کو ایکسپورٹ کرنا مشکل ہوگا۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اب امریکا سے زیادہ توجہ یورپی ممالک اور برطانیہ کی مارکیٹ پر دے کیونکہ اس ٹیکس کے نفاذ کے بعد امریکی مارکیٹ میں مقابلہ کرنا پاکستان کے لیے کافی مشکل ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا پاکستانی برآمدات ٹیکسٹائلذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا پاکستانی برا مدات ٹیکسٹائل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹیرف عائد کیا گیا ہے ارب ڈالر کی مارکیٹ میں پاکستان پر پاکستان سے کہ پاکستان فیصد ٹیرف اس فیصلے برا مدات سے زیادہ کا اعلان جائے گا کے نفاذ کرتا ہے نے کہا کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
ٹرمپ کا بڑے پیمانے پر عالمی ٹیرف کا اعلان، پاکستان بھی متاثر
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 03 اپریل 2025ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو دنیا بھر کے ممالک پر جوابی محصولات کا اعلان کرتے ہوئے اسے امریکہ کے لیے 'لبریشن ڈے' یا آزادی کا دن قرار دیا۔
وائٹ ہاؤس کے روز گارڈن میں خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا،’’یہ ہماری آزادی کا اعلان ہے۔ امریکہ کی صنعت دوبارہ جنم لے رہی ہے۔
‘‘ ٹرمپ کے بقول، ان کا منصوبہ ''امریکہ کو دوبارہ دولت مند‘‘ بنائے گا۔نئے امریکی محصولات سے عالمی تجارتی کشیدگی میں اضافے کا خدشہ
انہوں نے نئے ٹیرف کے منصوبے کو ''معاشی آزادی کا اعلان‘‘ اور ''خوشحالی کی نوید‘‘ قرار دیا۔
ٹرمپ نے اس تقریب میں ایک فہرست دکھائی جس میں ان ممالک کے نام درج تھے، جن پر جوابی محصولات عائد کی جا رہی ہیں اور ان ممالک کے جانب سے عائد محصولات کا بھی اس فہرست میں ذکر تھا۔
(جاری ہے)
ٹرمپ نے کہا، ’’وہ ہمارے ساتھ یہ کرتے ہیں، اب ہم ان کے ساتھ یہی کر رہے ہیں۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ صرف اپنی صنعتوں پر عائد محصولات سے اپنا دفاع کر رہا ہے۔
فہرست میں پاکستان، بھارت، چین شاملجوابی محصولات عائد کرنے کے حوالے سے ٹرمپ نے دلیل دی کہ ''بہت سے معاملات میں، تجارت کو لے کر دوست، دشمن سے بھی بدتر ہیں۔
‘‘امریکہ: غیر ملکی کاروں پر 'مستقل' اضافی محصولات کا اعلان
ٹرمپ نے بتایا کہ وہ پاکستان پر 29 فیصد جوابی محصول لگانے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان امریکہ پر 58 فیصد ٹیرف عائد کرتا ہے۔
بھارت پر جوابی ٹیرف کا اعلان کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا، ''وہ ہم سے 52 فیصد ٹیرف چارج کرتے ہیں اور ہم سالوں سے کچھ نہیں لے رہے ہیں۔
‘‘انہوں نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے دورے کا ذکر کرتے ہوئے کہا، ''وہ میرے بہت اچھے دوست ہیں مگر میں نے ان سے کہا ہے کہ آپ کا ہمارے ساتھ سلوک اچھا نہیں ہے۔‘‘
چینی درآمدات پر اب 34 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ اس سے ٹرمپ کی جانب سے پہلے عائد کیے گئے 20 فیصد محصولات کے ساتھ مجموعی طور پر نئی درآمدات پر محصولات 54 فیصد تک پہنچ جائیں گی۔
ٹرمپ نے قریبی اتحادیوں کو بھی نہیں بخشاٹرمپ نے اپنے قریبی اتحادیوں کو بھی نہیں بخشا۔ انہوں نے یورپی یونین پر 20 فیصد اور جاپان پر 24 فیصد محصولات عائد کرنے کا اعلان کیا۔
یورپی کمیشن کی صدر ارزولا فان ڈئر لائن نے خبردار کیا کہ نئے محصولات عائد کرنا عالمی معیشت کے لیے ایک'بڑا دھچکا‘ ہے۔
جاپان کے وزیر تجارت نے ان کے ملک پر لگائے گئے 24 فیصد جوابی ٹیرف کو'یکطرفہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا، ''امریکہ کی طرف سے یکطرفہ ٹیرف انتہائی افسوس ناک ہے اور میں پرزور درخواست کرتا ہوں کہ جاپان پر یہ عائد نہ کیا جائے۔
‘‘ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد کہ واشنگٹن تمام غیر ملکی گاڑیوں پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرے گا، جرمن آٹو موٹیو انڈسٹری ایسوسی ایشن نے کہا کہ نئے امریکی محصولات کے بعد ''صرف ناکام لوگ پیدا ہوں گے۔‘‘
ایسوسی ایشن نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا کہ وہ اس کے خلاف مل کر اور ''ضروری قوت‘‘ کے ساتھ کام کرے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق چین نے جمعرات کو کہا کہ وہ امریکہ کے ان اقدامات کی 'شدید مخالفت‘ کرتا ہے۔
بیجنگ نے'اپنے مفادات اور حقوق کے تحفظ کے لیے جوابی کارروائی‘ کا عندیہ بھی دیا۔ ماہرین اقتصادیات کیا کہتے ہیں؟فچ ریٹنگ ایجنسی میں امریکی اقتصادی تحقیق کے سربراہ اولو سونالو نے خدشہ ظاہر کیا کہ نئے ٹیرف سے ''بہت سے ممالک ممکنہ طور پر کساد بازاری کا شکار ہوں گے۔‘‘
سونالو کے مطابق، 2024 میں یہ صرف 2.5 فیصد تھی، لیکن اب یہ 22 فیصد تک بڑھ گئی ہے۔
انہوں نے کہا ایسا آخری بار 1910 کے آس پاس دیکھا گیا تھا۔آئی ایم ایف کے ماہر اقتصادیات کین روگوف نے ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد کہا، ''انہوں نے عالمی تجارتی نظام پر ایٹم بم گرا دیا ہے۔‘‘
نئے ٹیرف کے اعلان کے بعد ایشیا کے مختلف ممالک میں جمعرات کے روز آغاز پر ہی مارکیٹس مندی کا شکار نظر آئیں۔
روس نئے ٹیرف سے مستشنیٰوائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے امریکی میگزین نیوز ویک کو بتایا کہ روس ٹیرف کی فہرست میں نہیں ہے کیونکہ یوکرین پر روس کے حملے کے بعد امریکی پابندیوں کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے درمیان تجارت ''صفر‘‘ ہے۔
بیلاروس، کیوبا اور شمالی کوریا، دوسرے ممالک جنہیں امریکی پابندیوں کا سامنا ہے، بھی 180 ممالک کی ٹیرف فہرست میں شامل نہیں تھے۔
امریکہ نے کینیڈا اور میکسیکو پر نئے ٹیرف کا اعلان نہیں کیا۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق دونوں ممالک پر پچھلے ایگزیکٹیو آرڈر میں طے شدہ فریم ورک کا اطلاق ہو گا۔
یاد رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے اس سے قبل کینیڈا اور میکسیکو سے درآمد کی جانے والی اشیا پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن بعد میں کچھ چھوٹ کا اعلان بھی کیا تھا۔
جنوبی افریقی ملک لیسوتھو ٹیرف سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ ٹرمپ نے اس پر 50 فیصد محصولات عائد کردی ہیں، جو بنیادی طور پر ٹیکسٹائل اور ہیرے کی درآمدات پر لگائی گئی ہیں۔
ادارت: کشور مصطفیٰ