امریکا نے چین میں موجود اپنے حکومت کے اہلکاروں، ان کے خاندان کے افراد اور سیکیورٹی کلیئرنس رکھنے والے ٹھیکیداروں پر چینی شہریوں کے ساتھ کسی بھی رومانی یا جنسی تعلقات پر پابندی عائد کر دی ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق 4 افراد، جنہیں اس معاملے کی براہ راست معلومات تھیں، نے اے پی کو اس پالیسی کے بارے میں بتایا، جو امریکی سفیر نکولس برنرز نے جنوری میں چین چھوڑنے سے کچھ دن پہلے نافذ کی تھی۔ یہ افراد خفیہ ہدایات پر تفصیلات پر بات کرنے کے لیے گمنامی کی شرط پر اے پی سے بات کر رہے تھے۔

اگرچہ کچھ امریکی اداروں کے پاس ایسے تعلقات پر پہلے ہی سخت قواعد تھے، لیکن غیر ہم آہنگی کی پالیسی جو ایک جامع پابندی ہے، سرد جنگ کے بعد عوامی طور پر نہیں دیکھی گئی تھی۔ دوسرے ممالک میں امریکی سفیروں کے لیے مقامی افراد سے ملنا اور حتیٰ کہ ان سے شادی کرنا معمول کی بات ہے۔

مزید پڑھیں:  بچوں کے جنسی استحصال پر مبنی لاکھوں صارفین والا آن لائن پلیٹ فارم کیسے بند کروایا گیا؟

پچھلے موسم گرما میں اس پالیسی کا ایک محدود ورژن نافذ کیا گیا تھا جس میں امریکی اہلکاروں پر چینی شہریوں کے ساتھ رومانی اور جنسی تعلقات پر پابندی عائد کی گئی تھی، جو امریکی سفارت خانہ اور چین میں 5 قونصل خانوں میں محافظوں اور دیگر سپورٹ اسٹاف کے طور پر کام کر رہے تھے۔

تاہم، برنرز نے اس پابندی کو جنوری میں اس سے بھی وسیع کر دیا، جس کے تحت چین میں موجود کسی بھی چینی شہری کے ساتھ ایسے تعلقات پر پابندی عائد کر دی گئی۔ اے پی یہ تعین کرنے میں ناکام رہا کہ پالیسی میں ’رومانوی یا جنسی تعلقات‘ کی تعریف کس طرح کی گئی ہے۔

اس پالیسی کے مطابق، چین میں امریکی مشنز، بشمول بیجنگ میں امریکی سفارت خانہ اور گوانگزو، شنگھائی، شین یانگ اور ووہان میں قونصل خانوں، اور ہانگ کانگ میں امریکی قونصل خانہ اس پالیسی سے مشروط ہیں۔ یہ پالیسی چین کے باہر تعینات امریکی اہلکاروں پر لاگو نہیں ہوگی۔

مزید پڑھیں: انسانی اسمگلنگ کا شکار بچوں کو جنسی استحصال و گھریلو غلامی کا سامنا

پالیسی کا واحد استثنیٰ وہ امریکی اہلکار ہیں جو پہلے سے چینی شہریوں کے ساتھ تعلقات رکھتے ہیں؛ وہ استثنیٰ کی درخواست دے سکتے ہیں۔ اگر استثنیٰ مسترد کر دیا جائے تو انہیں اپنے تعلقات ختم کرنے یا اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کا حکم دیا جائے گا۔ یہ پالیسی جنوری میں امریکی اہلکاروں کو زبانی اور برقی طور پر مطلع کی گئی تھی، مگر اس کا باضابطہ طور پر اعلان نہیں کیا گیا تھا۔

ریاستی محکمہ نے کہا ہے کہ وہ داخلی معاملات پر تبصرہ نہیں کرتا، اور نیشنل سیکیورٹی کونسل نے سوالات ریاستی محکمہ کو حوالے کر دیے ہیں۔ برنرز، جو سابق سفیر ہیں، نے اے پی کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔ یہ پالیسی اس بات کی غماز ہے کہ چین میں امریکی اہلکاروں کے لیے حساس معلومات حاصل کرنے کے لیے چینی حکام اب بھی پرکشش افراد کو استعمال کرتے ہیں، جو سرد جنگ کے دوران بھی ایک معمول کا طریقہ تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا امریکی اہلکار جنسی تعلق چین چینی باشندے رومانوی تعلقات.

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا امریکی اہلکار چین چینی باشندے رومانوی تعلقات تعلقات پر پابندی عائد چینی شہریوں کے ساتھ امریکی اہلکاروں جنسی تعلقات میں امریکی اس پالیسی چین میں کے لیے

پڑھیں:

ٹیرف لڑائی، پاکستان کا مصالحتی راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد:

ٹرمپ انتظامیہ کی تجارتی لڑائی کے جواب میں پاکستان نے مصالحتی راستہ اختیار کرنے اور29 فیصد اضافی ٹیرف عائد کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کرنے کا عندیہ دے دیا، کیونکہ پاکستانی برآمدات پر امریکا میں پہلے سے زائد اوسط ٹیرف عائد ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب کی زیر صدارت اعلیٰ سطح اجلاس جس میں ڈبلیو ٹی او کے پاکستان میں نمائندے بھی شریک ہوئے، پاکستانی موقف کی وضاحت کیلئے امریکی تجارتی نمائندے سے ملاقات کا فیصلہ کیا گیا، واشنگٹن میں پاکستانی سفیر اور ان کے ٹریڈ منسٹر رواں ہفتے امریکی حکام سے ملاقات کی کوشش کریں گے۔

مزید پڑھیں: دُنیا کے غیر آباد علاقے بھی صدر ٹرمپ کے ٹیکس سے بچ نہ سکے

ذرائع نے بتایا کہ پاکستانی حکام کو صدر ٹرمپ کی اضافی ٹیرف کے حوالے سے 60 ملکوں کی فہرست میں پاکستان کی شمولیت کی توقع نہیں تھی کیونکہ پاکستانی برآمدات پر امریکی ٹیرف پہلے ہی پاکستان کی نسبت زیادہ ہے۔

وزارت تجارت کے اعدادوشمار کے مطابق امریکی مصنوعات پر پاکستان میں ٹیرف 7.3 فیصد جبکہ پاکستانی برآمدات پرامریکا میں9.9 فیصد ٹیرف عائد ہے، نیز پاکستان ان ملکوں کی فہرست میں33ویں نمبر پر ہے جن سے امریکا کو تجارتی خسارہ کا سامنا ہے۔

وزارت تجارت کے اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ کے دوران امریکا کو پاکستانی برآمدات کا حجم3.9 ارب ڈالر جبکہ اس دوران امریکا سے 933 ملین ڈالر کی درآمدات کی گئیں۔امریکا کیساتھ فاضل تجارت 3 ارب ڈالر ہے جوکہ دیگر 32 ملکوں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ ٹیرف پاکستانی ٹیکسٹائل برآمدات بڑھانے کیلیے موقع

حکام کوامید ہے کہ وہ 29 فیصد اضافی ٹیرف کے امریکی فیصلے پر نظرثانی کا مضبوط کیس تیار کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نئے امریکی فیصلے سے پاکستانی مصنوعات پر ٹیرف 49 فیصد تک بڑھ سکتا ہے،جن میں سرفہرست گارمنٹس اور چمڑے کی مصنوعات ہیں۔

پاکستان امریکا سے سویابین، کاٹن اور گوشت درآمد کرتا ہے، کاٹن پر ٹیرف صفر، گوشت پر5 سے10فیصد، سویابین پر3.25 ٹیرف عائد ہے، البتہ آئرن و اسٹیل کی درآمدات پر 20 فیصد ٹیرف ہے جوکہ مقامی کارخانوں کو تحفظ دینے کیلئے ہے۔

حکام نے بتایا کہ چین، ویتنام، کمبوڈیا اور سری لنکا پر عائد زائد ٹیرف پاکستان کیلئے ٹیکسٹائل برآمدات بڑھانے کا موقع ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکی سرکاری ملازمین پر چینی شہریوں کے ساتھ ’رومانوی تعلق‘ رکھنے پر پابندی
  • ٹیرف لڑائی، پاکستان کا مصالحتی راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ
  • ٹرمپ کا درآمدات پر جوابی ٹیرف کا اعلان! پاکستان پر کیا اثرات ہوں گے؟
  • ٹرمپ ٹیرف وار: امریکا کو متعدد ممالک کی طرف سے شدید ردعمل کا سامنا
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا درآمدات پر ٹیرف کا اعلان
  • امریکی صدر کا تمام درآمدات پر 10 فیصد ٹیکس عائد کرنے کا اعلان
  • امریکا کی ایران کے ڈرون نیٹ ورک میں شامل افراد اور کمپنیوں پر پابندیاں عائد
  • امریکا کی ایرانی ڈرون نیٹ ورک، امارات اور چینی کمپنیوں پر پابندیاں
  • امریکا نے ایرانی ڈرون نیٹ ورک پر پابندیاں عائد کر دیں