اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )اقوام متحدہ میں تعینات سابق پاکستانی مندوب اور سفارتکار ملیحہ لودھی کا کہنا ہے کہ پاکستانی مصنوعات پر ٹیکس تو ہمیشہ سے تھا، امریکی ٹیرف سے دنیا میں تجارتی جنگ شروع ہو جائے گی۔
نجی ٹی وی جیونیوز کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان، چین اور ترکیہ سمیت دنیا کے مختلف ممالک پر جوابی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ امریکی صدر نے پاکستانی مصنوعات پر 29 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے جو 9 اپریل سے نافذ العمل ہو گا۔
اس معاملے پر جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے سابق پاکستانی سفیر ملیحہ لودھی نے کہا کہ امریکا میں پاکستانی مصنوعات پر ٹیکس تو ہمیشہ سے تھا، مزید ٹیرف بڑھنے سے پاکستانی مصنوعات امریکا میں مہنگی ہو جائیں گی۔ملیحہ لودھی کا کہنا تھاکہ امریکا ٹیرف عائد کرے یا نہیں، پاکستان کو اپنی ایکسپورٹس بہتر کرنا ہوں گی۔
سابق پاکستانی سفیر نے امریکا کی جانب سے ٹیرف کو گلوبل اکانومی کے لئے منفی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اضافی ٹیرف عائد کرنے سے دنیا میں تجارتی جنگ شروع ہو جائے گی۔
ان کا کہنا تھاکہ چین اور امریکا کے درمیان دنیا کا سب سے بڑا تجارتی تعلق ہے، ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ ٹیرف کے معاملے میں کہاں تک ایڈجسٹ کر سکتے ہیں۔

پشاور میں مرغی اور سبزیوں کی قیمت میں بڑی کمی

مزید :.

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: پاکستانی مصنوعات ملیحہ لودھی ٹیرف عائد

پڑھیں:

ٹرمپ کا درآمدات پر جوابی ٹیرف کا اعلان! پاکستان پر کیا اثرات ہوں گے؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا میں داخل ہونے والی تمام غیر ملکی مصنوعات پر کم از کم 10 فیصد ٹیکس عائد کرنے کا اعلان کردیا جبکہ پاکستان پر29 فیصد جوابی ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ پاکستان 58 فیصد ٹیرف وصول کرتا ہے ہم پاکستان پر 29 فیصد ٹیرف عائد کریں گے۔

وی نیوز نے معاشی ماہرین سے گفتگو کی اور یہ جاننے کی کوشش کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس فیصلے سے پاکستانی برآمدات پر کیا اثر پڑے گا؟ اور پاکستان سے امریکا کو کون سی اشیا برآمد کی جاتی ہیں؟

ماہر معیشت ڈاکٹر خاقان نجیب نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کا اس وقت تجارتی حجم 7 ارب ڈالر کا ہے جس میں سے 5 ارب ڈالر کی پاکستان کی امریکا کو ایکسپورٹس ہیں جبکہ 2 ارب ڈالر کی امپورٹس ہیں۔

پاکستان سب سے زیادہ ٹیکسٹائل سے متعلقہ مصنوعات امریکا کو ایکسپورٹ کرتا ہے۔ اس کے علاوہ سرجیکل آلات اور دیگر الات بھی ایکسپورٹ کیے جاتے ہیں۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ 29 فیصد کے ٹیرف پر مذاکرات ہو سکتے ہیں۔ اس فیصلے کا عالمی دنیا پر اثر پڑا ہے، دنیا بھر کی سٹاک مارکیٹ اس فیصلے سے متاثر ہوئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے امریکی صدر ٹرمپ کا درآمدات پر ٹیرف کا اعلان، پاکستان پر 29 فیصد ٹیرف عائد

ڈاکٹر خاقان نجیب نے کہا پاکستان کو اب اپنی مصنوعات امریکا ایکسپورٹ کرنے کے لیے بہت سی محنت کرنا ہوگی۔ ان کی کوالٹی کو بہتر بنانا ہوگا اور قیمتوں کو عالمی معیار کے مطابق کرنا ہوگا جبکہ اپنی پیداواری لاگت کو بھی کم سے کم کرنا ہوگا۔ پاکستان کو اب زرعی شعبے پر بھی اصلاحات کرنا ہوں گی تاکہ پاکستانی اشیا عالمی مارکیٹ میں کم لاگت اور اعلیٰ معیار کے ساتھ پیش کی جا سکیں۔

معاشی تجزیہ کار شہباز رانا نے وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تمام ممالک پر 10 فیصد ٹیکس تو عائد کیا ہے لیکن جن مالک پر اضافی ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔ ان ممالک پر امریکی صدر کے اس فیصلے کا بڑا اثر سامنے آئے گا۔ امریکی صدر کا 10 فیصد ٹیکس کا نفاذ تو 5 اپریل سے ہی ہو جائے گا تاہم جو اضافی 29 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے اس کا نفاذ 9 اپریل سے ہو جائے گا۔

شہباز رانا نے کہا کہ پاکستان امریکا کو ٹیکسٹائل سے متعلقہ اشیاء ایکسپورٹ کرتا ہے۔ اس وقت جب پاکستان پر اضافی ٹیرف کا نفاذ نہیں ہے تو پاکستانی ٹیکسٹائل کمپنیوں کو عالمی مارکیٹ میں برتری حاصل ہے لیکن جب 29 فیصد کا اضافی ٹیرف عائد کیا جائے گا، تب پاکستانی کمپنیوں کے لیے امریکی مارکیٹ میں مقابلہ کرنا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔  کیونکہ جن ممالک میں پاکستان سے زیادہ ٹیرف عائد کیا گیا ہے، ان کی پیداواری لاگت پاکستان سے بھی کم ہے اور وہ ہو سکتا ہے کہ اس بھاری ٹیرف کے نفاذ سے زیادہ متاثر بھی نہ ہوں۔ اگر پاکستان نے امریکا کو کی جانے والی اپنی برآمدات کو برقرار رکھنا ہے تو اپنی پیداواری لاگت کو کم اور معیار کو مزید بہتر کرنا ہوگا وگرنہ اس ٹیرف کے نفاذ کے بعد پاکستانی برآمدات میں بڑی کمی واقع ہوگی۔

یہ بھی پڑھیے ٹرمپ ٹیرف وار: امریکا کو متعدد ممالک کی طرف سے شدید ردعمل کا سامنا

سینئر صحافی شکیل احمد نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹیرف کے نفاذ سے ایک نئی تجارتی جنگ کا اعلان کیا ہے۔ صدر نے یہ فیصلہ امریکی معیشت کو مستحکم کرنے اور مقامی انڈسٹری کو فروغ دینے کے لیے کیا ہے۔ گزشتہ سال 2024 میں پاکستان اور امریکا کی تجارتی حجم 7.3 بلین ڈالرز تھا جس میں 5.1 ارب ڈالر کی امریکا کو ایکسپورٹ جبکہ 2.2 ارب ڈالر کی امپورٹس شامل تھیں۔ اس طرح امریکا کو پاکستان سے 3 ارب ڈالر کا تجارتی خسارے کا سامنا تھا۔ پاکستان امریکا کو کئی گنا زیادہ چیزیں ایکسپورٹ کرتا ہے جبکہ امریکا سے کم اشیاء امپورٹ کرتا ہے۔

شکیل احمد نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے امریکا کو سب سے زیادہ ٹیکسٹائل اور اس سے متعلقہ اشیاء ایکسپورٹ کی جاتی ہیں جن میں ریڈی میڈ کپڑے، تولیا اور دیگر پہننے والی اشیاء۔ اس کے علاوہ چمڑے کی جیکٹس، چمڑے کے جوتے، سرجیکل اور میڈیکل آلات، چاول، سی فوڈز اور کھیلوں کی مصنوعات ایکسپورٹ کی جاتی ہیں۔ امریکی صدر کے اس فیصلے کے بعد اب پاکستان کے لیے ان تمام اشیاء کا امریکا کو ایکسپورٹ کرنا مشکل ہوگا۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اب امریکا سے زیادہ توجہ یورپی ممالک اور برطانیہ کی مارکیٹ پر دے کیونکہ اس ٹیکس کے نفاذ کے بعد امریکی مارکیٹ میں مقابلہ کرنا پاکستان کے لیے کافی مشکل ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا پاکستانی برآمدات ٹیکسٹائل

متعلقہ مضامین

  • امریکی ٹیرف کے باعث پاکستان کو اپنی ایکسپورٹس بہتر کرنا ہونگی: ملیحہ لودھی
  • ٹیرف لڑائی، پاکستان کا مصالحتی راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ
  • ٹرمپ ٹیرف پاکستانی ٹیکسٹائل برآمدات بڑھانے کیلیے موقع
  • برطانیہ نے جوابی ٹیرف عائد کرنے کے لیے امریکی مصنوعات کی فہرست تیار کر لی
  • صدر ٹرمپ کے عائد کردہ ٹیرف کے پاکستان پر کیا اثرات پڑیں گے؟
  • امریکی اضافی ٹیرف گلوبل اکنامی کیلئے منفی ہے: ملیحہ لودھی
  • ٹرمپ کا درآمدات پر جوابی ٹیرف کا اعلان! پاکستان پر کیا اثرات ہوں گے؟
  • ٹرمپ کی تجارتی جنگ تیز، دنیا بھر کی درآمدات پر جوابی ٹیرف، پاکستان پر 29 ، بھارت پر 26 فیصد ٹیکس
  • ٹرمپ کا پوری دنیا کیخلاف تجارتی جنگ کا اعلان، روس ٹیرف سے مستثنیٰ