عالمی تجارتی جنگ اب حقیقت بن چکی ہے، جنوبی کوریا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, April 2025 GMT
ملک کے قائم مقام صدر ہان ڈک سو نے کہا ہے کہ عالمی تجارتی جنگ ایک حقیقت بن چکی ہے اور ان کی حکومت اس بارے میں سوچ رہی ہے کہ اس بحران سے کیسے نمٹا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر کی جانب سے جنوبی کوریا پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے کے اعلان کے ردعمل میں ملک کے قائم مقام صدر ہان ڈک سو نے کہا ہے کہ عالمی تجارتی جنگ ایک حقیقت بن چکی ہے اور ان کی حکومت اس بارے میں سوچ رہی ہے کہ اس بحران سے کیسے نمٹا جائے۔ ادھر اسرائیل کے مقامی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیل کے معاشی امور سے منسلک حکام جنھوں نے تمام امریکی درآمدات پر عائد ٹیرف کو ختم کر دیا تھا اب خود پر لگنے والے 17 فیصد ٹیکس پر شدید حیرت کا اظہار کیا ہے۔ ایک اعلیٰ افسر نے میڈیا کو بتایا کہ ہمیں یقین تھا کہ امریکی کی جانب سے درآمد کی جانے والی اشیا پر مکمل طور پر ٹیرف کے خاتمے کے بعد امریکہ یہ اقدام نہیں کرے گا۔
.ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
امریکا کا اسرائیل پر تنقید کرنے والے غیر ملکی طلبہ کو ویزا نہ دینے کا فیصلہ
واشنگٹن: امریکا میں تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند غیر ملکی طلبہ کے لیے ویزا لینا مزید مشکل ہونے والا ہے، کیونکہ امریکی حکومت نے اسٹوڈنٹ اور دیگر اقسام کے ویزوں کے لیے سخت اسکریننگ کا حکم دے دیا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے تمام امریکی سفارتخانوں کو ویزہ درخواست گزاروں کے سوشل میڈیا مواد کی جانچ کا حکم دیا ہے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق یہ فیصلہ امریکا اور اسرائیل پر تنقید کرنے والوں کو روکنے کے لیے کیا گیا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے 31 اگست 2024 کے درمیان اسٹوڈنٹ ویزا حاصل کرنے والے تمام افراد کی سوشل میڈیا سرگرمیاں اسکین کی جائیں گی۔
مراسلے میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی درخواست گزار نے فلسطین کے حق میں یا اسرائیل کے خلاف سوشل میڈیا پر پوسٹ کی ہوگی، تو اس کی ویزا درخواست مسترد ہو سکتی ہے۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت امریکی حکومت یا اسرائیل کے خلاف تنقید کرنے والے غیر ملکی شہریوں کو ڈی پورٹ کیا جا سکتا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ کے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ تمام سفارتخانے ویزا درخواست گزاروں کی تفصیلات فراڈ کی روک تھام کرنے والے یونٹ کو فراہم کریں گے، جو ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی اسکروٹنی کرے گا۔
امریکا میں اسرائیل کے خلاف بڑھتی ہوئی تنقید کے بعد یہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اکتوبر 2023 میں اسرائیل کی جانب سے غزہ پر حملے کے بعد، فلسطین کے حق میں آواز بلند کرنے والے طلبہ کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔