Daily Mumtaz:
2025-04-04@02:00:29 GMT

عینا آصف بھی ’ڈیپ فیک‘ ویڈیو کا نشانہ بن گئیں

اشاعت کی تاریخ: 3rd, April 2025 GMT

عینا آصف بھی ’ڈیپ فیک‘ ویڈیو کا نشانہ بن گئیں

مصنوعی ذہانت نے جہاں لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کی ہیں، وہیں یہ کئی افراد کے لیے مشکلات اور اذیت کا سبب بھی بن رہی ہے۔ پاکستان میں انٹرنیٹ خواندگی کی کمی کی وجہ سے بیشتر لوگ اصل اور جعلی ویڈیوز میں فرق نہیں کر پاتے، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جعلی ویڈیوز بنانے کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

حالیہ دنوں میں کئی مشہور شخصیات کو مصنوعی ذہانت سے بنائی گئی جعلی ویڈیوز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ہے، اور اب اس کی زد میں کم عمر اداکارہ عینا آصف بھی آگئی ہیں۔ سوشل میڈیا پر ان کی ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں انہیں سگریٹ پیتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

یہ ویڈیو سامنے آتے ہی صارفین کے درمیان بحث چھڑ گئی۔ کئی افراد نے اس ویڈیو کو حقیقی سمجھ کر اداکارہ پر تنقید کی، جبکہ کچھ صارفین نے اسے جعلی اور ایڈٹ شدہ قرار دیا۔

@shazuwrites Aina asif Smoking Judwa drama#ainaasif #judwaa #pakdramas #harpalgeo #humtv #pakistanidrama #standwithkashmir #ramzan2025 #whattowatch #ramzanmubarak @HUM TV @ARY DIGITAL @TiktokPakistanOfficial ♬ original sound – ????????????????????????


عینا آصف کا کیریئر
عینا آصف 2008 میں پیدا ہوئیں اور اس وقت میٹرک کی طالبہ ہیں۔ انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز بطور چائلڈ ماڈل کیا اور کئی مشہور برانڈز کے ٹی وی کمرشلز میں کام کیا۔

انہوں نے 2021 میں ڈرامہ سیریل ”پہلی سی محبت“ میں حمنا کا کردار ادا کرتے ہوئے اداکاری کی دنیا میں قدم رکھا۔ اس کے بعد، 2022 میں ”ہم تم“ میں ملیحہ اور ”پنجرہ“ میں عبیر کا کردار نبھایا۔

2023 میں، وہ اے آر وائی ڈیجیٹل کے مشہور ڈرامہ ”مایی ری“ میں قرۃ العین (انی) حبیب کے مرکزی کردار میں نظر آئیں، جس سے انہیں بے حد شہرت ملی۔

یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال سے نہ صرف مشہور شخصیات بلکہ عام لوگ بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ انٹرنیٹ صارفین کو چاہیے کہ وہ کسی بھی وائرل ویڈیو کو شیئر یا اس پر تبصرہ کرنے سے پہلے اس کی حقیقت کو جانچ لیں تاکہ غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔

Post Views: 1.

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

ڈیاگو گارشیا جزیرے پر جوابی حملے کی دھمکی کا مطلب کیا ہے؟

ٹیلی گراف کے بقول ایک اعلی سطحی ایرانی فوجی عہدیدار نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی سرزمین پر حملے کی صورت میں چاگوس جزیرہ نما میں ڈیاگو گارشیا فوجی اڈے کو نشانہ بنایا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ بین الاقوامی امور کے ماہر علی رضا تقوی نیا نے سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں لکھا: مجلے ٹیلی گراف کا دعویٰ ہے کہ ایک ایرانی فوجی عہدیدار نے ایک انٹرویو کے دوران بتایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی سرزمین پر کسی قسم کی فوجی جارحیت کی صورت میں چاگوس جزیرہ نما میں ڈیاگو گارشیا فوجی اڈے کو نشانہ بنایا جائے گا۔ برطانوی حکومت کے ترجمان نے بھی اس بیان کی شدید مذمت کی۔ اگر اس ایرانی اہلکار کا بیان درست ہے تو چند نکات قابل توجہ ہیں:
1)۔ جزیرہ ڈیاگو گارسیا، جسے امریکہ نے 1966ء میں برطانیہ سے لیز پر لیا تھا، ایرانی سرزمین سے 4 ہزار کلومیٹر سے زیادہ فاصلے پر واقع ہے۔ اس جزیرے کو جوابی کاروائی کا نشانہ بنانے کی دھمکی کا مطلب یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے پاس ایسے ہتھیار موجود ہیں جو 4 ہزار کلومیٹر سے زیادہ فاصلے تک اہداف کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
2)۔ یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ ایران ڈیاگو گارشیا جزیرے کو ممکنہ جوابی کاروائی کا نشانہ بنانے کے لیے کس قسم کے ہتھیار استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، لیکن ایسا لگتا ہے کہ ایرانی فوج اور سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی بیلسٹک اور کروز میزائلوں اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز کا استعمال کرتے ہوئے اس اڈے کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ خاص طور پر سپاہ پاسداران خرمشہر 4 جیسے لانگ رینج میزائلوں کے ذریعے اور ایران کی فضائیہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائلوں سے لیس Su-24 لڑاکا بمبار طیاروں کے ذریعے یہ کاروائی انجام دینے پر قادر ہیں۔
 
3)۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے یہ اعلان کہ وہ 4 ہزار کلومیٹر سے زیادہ فاصلے تک دشمن کے اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس نے اس رینج والے ہتھیار حاصل کر لیے ہیں، بذات خود اس بات کا گواہ ہے کہ پورا یورپی براعظم ایران کے پاس موجود ہتھیاروں کی زد میں آ سکتا ہے اور یوں طاقت کا توازن بدل جائے گا۔
4)۔ ڈیاگو گارشیا جزیرے پر موجود امریکی فوجی اڈہ بحر ہند، خلیج فارس اور بحیرہ احمر میں امریکی بحری کارروائیوں کے لیے اہم رسد اور معاونت کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں اس اڈے کی سرگرمیوں میں ممکنہ رکاوٹ مغربی ایشیا خطے میں تمام امریکی بحری اڈوں اور بحری بیڑوں کی فعالیت کو شدید طور پر متاثر کرے گی۔
5)۔ کویت کی آزادی کے لیے جنگ اور افغانستان اور عراق کی جنگوں جیسی گذشتہ چند دہائیوں کے دوران انجام پانے والی امریکی جنگوں میں ڈیاگو گارشیا جزیرہ بھرپور انداز میں امریکہ کو آپریشنل مدد فراہم کرتا آیا ہے اور اس کام میں اسے کسی قسم کی رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ تاہم، ایران کے پاس موجود ہتھیاروں کی طاقت کے پیش نظر، اگر ٹرمپ نے ایران کے خلاف کسی فوجی مہم جوئی کا مظاہرہ کیا تو چاگوس میں امریکی فوجی اڈے اور اس کے کئی ہزار فوجیوں کی جانیں خطرے میں پڑ جائیں گی۔
 
6)۔ ڈیاگو گارشیا جزیرے پر موجود امریکی فوجی اڈے کی افادیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ مختلف فوجی آپریشنز میں پشت پناہی اور رسد میں اہم کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ امریکی اسٹریٹجک بمبار طیاروں جیسے  B52، B1، اور B2 کی تعیناتی کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ بھی ہے۔ یہ بمبار طیارے لانگ رینج تک پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جس کے پیش نظر وہ ایک ہی چکر میں طویل فاصلے پر موجود مطلوبہ اہداف کو نشانہ بنانے کے بعد اپنے اڈے پر واپس جا سکتے ہیں۔
یہاں اہم نکتہ یہ ہے کہ امریکی کمانڈ عام طور پر اپنے اسٹریٹجک بمبار طیاروں کو دشمن کی پہنچ سے دور اڈوں پر تعینات کرتی ہے تاکہ انہیں کوئی نقصان نہ پہنچے لیکن اگر ایرانی فوجی عہدیدار کی طرف سے حالیہ دھمکی عملی جامہ پہنتی ہے تو امریکہ کی جانب سے اسٹریٹیجک فضائی بمباری کی کامیابی اور تسلسل مشکلات کا شکار ہو جائے گی جس کے نتیجے میں امریکی حکام تہران کے مقابلے میں محتاط رویہ اپنانے پر مجبور ہو جائیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی: اہم ادارے کے افسران سمیت عام شہریوں کو اغواء کرنیوالے جعلی پولیس اہلکار گرفتار
  • سعودی میں گداگری پر ڈی پورٹ خاتون دوبارہ جاتے ہوئے آف لوڈ، 2 مسافر گرفتار
  • عینا آصف بھی ’ڈیپ فیک‘ ویڈیو کا نشانہ بن گئیں
  • مشہور ڈرامہ ’کیونکہ ساس بھی کبھی بہو تھی‘ دوبارہ پیش کرنے کا فیصلہ
  • ایلون مسک نے ٹرمپ انتظامیہ سے اپنے ممکنہ استعفے کی رپورٹس کو ’جعلی خبر‘ قرار دے دیا
  • اسرائیل کے غزہ پر حملے، یو این پناہ گزین کیمپ کو بھی نشانہ بنایا، 80 افراد شہید
  • ڈیاگو گارشیا جزیرے پر جوابی حملے کی دھمکی کا مطلب کیا ہے؟
  • کارتک آریان نے گٹار سے ایک شخص پر حملہ کردیا
  • محنت کرتا ہوں کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتا، برنس روڈ کے مشہور کردار کی دردناک داستان