نوبیل انسٹیٹیوٹ نے عمران خان کی نامزدگی کے دعویٰ کو سیاسی چال قرار دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, April 2025 GMT
نوبیل انسٹیٹیوٹ نے عمران خان کی نامزدگی کے دعویٰ کو سیاسی چال قرار دیدیا WhatsAppFacebookTwitter 0 3 April, 2025 سب نیوز
اوسلو: نوبیل انسٹی ٹیوٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی نوبیل انعام کیلئے نامزدگی کی خبروں کو سیاسی چال قرار دے دیا۔
نوبیل انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر کرسٹیان برگ ہارپ ویکن نے ناروے کے معروف اخبار میں مضمون لکھا جس میں انہوں نے نامزدگی کے دعویٰ پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
ہارپ ویکن کا کہنا تھا کہ نامزدگی کے باضابطہ اعلان سے پہلے اس کا چرچا کر کے ناروے میں بسنے والے پاکستانی ووٹروں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی گئی، یہ پہلا موقع ہے کہ کسی سیاسی رہنما کی نوبیل انعام کیلئے نامزدگی کو اس انداز میں استعمال کیا گیا، جس سے نوبیل انعام کے وقار پر اثر پڑا۔
ناروے کی سینٹر پارٹی نے حالیہ دنوں میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی امن کے نوبیل انعام کیلئے نامزدگی کا اعلان کیا تھا، جس پر مختلف حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا۔
نوبیل انسٹی ٹیوٹ نے واضح کیا کہ نوبیل انعام کی نامزدگی اور فیصلے کا ایک سخت ضابطہ کار ہوتا ہے اور اسے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنا ناقابل قبول ہے۔
.ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: عمران خان کی نامزدگی کے
پڑھیں:
عمران خان نے اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کیلیے کسی کو نیا ٹاسک نہیں دیا، بیرسٹر سیف
پشاور:خیبرپختونخوا حکومت کے مشیر اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ میڈیا ذرائع کے نام پر اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات شروع کرنے کی خبریں چلا رہی ہیں لیکن عمران خان نے اس حوالے سے کسی کو بھی کوئی نیا ٹاسک نہیں دیا۔
اپنے بیان میں بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ میڈیا بغیر تصدیق کے ذرائع سے خبریں نشر کرنے سے گریز کرے۔
انہوں نے کہا کہ ملاقات میں حکومتی معاملات، دہشت گردی اور افغانستان کے امور پر تبادلہ خیال ہوا۔ عمران خان نے وزیراعلیٰ کو حکومتی معاملات، جبکہ مجھے دہشت گردی اور افغانستان کے مسئلے سے متعلق ہدایات دیں۔
بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ عمران خان نے واضح طور پر کہا کہ وہ اپنی رہائی اور ذاتی فائدے کے لیے اسٹیبلشمنٹ سمیت کسی سے بات چیت نہیں کریں گے، عمران خان نے کہا کہ ملک کی معاشی ترقی اور سیاسی استحکام میرے لیے سب سے مقدم ہے۔
مشیر اطلاعات کے پی نے کہا کہ عمران خان نے بتایا کہ معاشی ترقی سیاسی استحکام کے بغیر ممکن نہیں اس لیے سیاسی استحکام کے لیے پی ٹی آئی کو تسلیم کرنا ہوگا اور اسے دیوار سے لگانے کی کوشش بند کرنا ہوگی۔ پی ٹی آئی ایک حقیقت ہے اور اسے تسلیم کرنا ہوگا۔