شہریار منور اور ماہین صدیقی کی محبت کی داستان کیسے شروع ہوئی؟ اداکار نے بتا دیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, April 2025 GMT
اداکار شہریار منور کا کہنا ہے کہ وہ پہلی ملاقات میں ہی سمجھ گئے تھے ماہین کی وہ لڑکی ہے جس کے ساتھ وہ اپنی پوری زندگی گزار سکتے ہیں۔
حال ہی میں شہریار منور احمد علی بٹ کے پوڈکاسٹ میں شریک ہوئے جہاں انہوں نے شوبز سمیت نجی زندگی سے متعلق گفتگو کی۔
دوران گفتگو حال ہی میں رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے والے شہریار نے بتایا کہ ان کی ماہین صدیقی سے پہلی ملاقات 4 سے 5 سال قبل ہدایتکار عاصم رضا کے گھر ہوئی تھی جس کے بعد وہ بس دوست تھے۔
شہریار منور کا کہنا تھا کہ ڈیڑھ سال قبل وہ ماہین صدیقی کے ساتھ سنڈے کافی پر گئے اور وہ کافی کب ڈنر میں تبدیل ہوگئی انہیں پتہ ہی نہیں چلا کیونکہ انہیں ماہین کے ساتھ وقت کا اندازہ ہی نہیں ہوا اور پورا دن ایک ساتھ گزر گیا۔
View this post on InstagramA post shared by Ahmad Ali Butt (@ahmedalibutt)
انہوں نے بتایا کہ وہ ماہین سے ان کی پہلی باقاعدہ ملاقات تھی اور اس ہی پہلی ملاقات میں انہیں سمجھ آگیا تھا کہ ماہین ہی وہ لڑکی ہے جس کے ساتھ وہ اپنی پوری زندگی گزارنا چاہیں گے۔
شہریار منور نے بتایا کہ انہوں نے اس کافی ڈیٹ کے بعد جلد ہی ماہین صدیقی کو اپنے والدین سے ملوا دیا اور ایک سے میں ہی ان سے شادی بھی کرلی۔
Post Views: 1.ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: شہریار منور ماہین صدیقی کے ساتھ
پڑھیں:
لاہور کا گولڈن کنگ، ایک آرٹسٹ کی جدوجہد اور کامیابی کی داستان
لاہور:تاریخی شاہی قلعے میں ایک منفرد فنکار اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر رہا ہے، جو خود کو 'گولڈن کنگ آف لاہور' کے نام سے متعارف کرواتا ہے، یہ نوجوان ایک گریجویٹ ہے، جنہوں نے اپنے حالات سے سمجھوتہ کرنے کے بجائے اپنے فن کو ذریعہ معاش بنایا۔
یہ کہانی ایک ایسے نوجوان کی ہے جو پہلے ایک سرکاری ملازم تھا مگر نوکری ختم ہونے کے بعد اسے زندگی کی نئی راہیں تلاش کرنا پڑیں، نوکری کے خاتمے کے بعد اس نے مختلف کام کرنے کی کوشش کی، مگر جب کامیابی نہیں ملی تو انہوں نے اس فن کو اپنانے کا فیصلہ کیا۔
شاہی قلعے میں اپنی جگہ بنانے کے بعد گریجویٹ نوجوان کو والڈ سٹی اتھارٹی کے سربراہ کامران لاشاری کی مدد حاصل ہوئی، جنہوں نے اس کے ہنر کو سراہا اور اسے ایک پلیٹ فارم فراہم کیا۔
'گولڈن کنگ آف لاہور' کا کہنا ہے کہ یہ ایک آرٹ ہے، بھیک نہیں، میں سارا دن ایک ہی پوزیشن میں کھڑا رہتا ہوں، جو ایک مشقت طلب کام ہے، یورپ میں لوگ اسے ایک آرٹ کے طور پر دیکھتے ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ یہاں بھی ایسا ہی ہو۔
یہ نوجوان اپنے جسم پر ایک خاص کریم لگاتا ہے جو شِمری پاؤڈر سے تیار کی گئی ہے، تاکہ اس کے جسم پر سنہری رنگ چمک سکے، وہ گھنٹوں تک حرکت کیے بغیر ایک ہی پوزیشن میں کھڑا رہتا ہے تاکہ اس کا فن حقیقی مجسمے کی طرح نظر آئے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا یہ عمل اس کی جلد کے لیے نقصان دہ ہے تو اس نے وضاحت کی کہ وہ عام پینٹ کے بجائے ایک خاص کریم استعمال کرتا ہے جو نسبتاً کم نقصان دہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میں پینٹ نہیں لگاتا، میں اپنی ایک خاص کریم بناتا ہوں، جو زیادہ محفوظ ہے۔
فوٹو: ایکسپریس
لاہور کا یہ آرٹسٹ اس بات پر زور دیتا ہے کہ اس کی محنت کو گداگری کے ساتھ نہ جوڑا جائے کیونکہ وہ لوگوں کو متاثر کرنے اور خوشی دینے کے لیے اپنے فن کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ میری محنت ہے، بھیک نہیں، اگر کوئی بغیر کسی محنت کے پیسے دے دے تو وہ حق نہیں بنتا، مگر میں اپنے فن کے بدلے کچھ حاصل کرتا ہوں۔
اس دوران انہیں کئی دلچسپ اور دل چھو لینے والے تجربات بھی ہوئے، ایک واقعے میں ایک شخص نے انہیں گلے لگانے کی اجازت مانگی کیونکہ وہ اس کے فن سے بے حد متاثر تھا، ایک اور موقع پر ایک چھوٹی بچی نے اسے محبت بھرا تحفہ دیا، جو اس کے لیے کسی بھی مالی انعام سے زیادہ قیمتی تھا۔
گولڈن کنگ آف لاہور کے مطابق ہمارے معاشرے میں آرٹسٹ کو اتنی اہمیت نہیں دی جاتی، یہاں بھکاری کروڑوں روپے چھوڑ کر مرتے ہیں مگر آرٹسٹ صرف اپنا فن چھوڑ کر جاتا ہے، یہ افسوس ناک حقیقت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے ہاں بہت سے نوجوان غلط راستے پر جا رہے ہیں، کوئی نشے میں مبتلا ہو رہا ہے، کوئی گینگسٹر بن رہا ہے، میں چاہتا ہوں کہ نوجوان میرے فن کو دیکھیں اور سیکھیں کہ ایک جائز طریقے سے بھی کمائی کی جا سکتی ہے۔
گولڈن کنگ آف لاہور کا کہنا تھا کہ ہمیں آرٹ کو فروغ دینا ہوگا اگر حکومت اور معاشرہ آرٹسٹوں کو سپورٹ کرے تو بہت سے نوجوان بے راہ روی سے بچ سکتے ہیں اور اپنے ہنر سے روزگار حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ منفرد آرٹسٹ، جو اپنی شناخت چھپانے کو ترجیح دیتا ہے، اپنے فن کے ذریعے ایک مثبت پیغام دے رہا ہے، اگر حالات سخت ہوں تو بھی باوقار راستہ اپنانا ممکن ہے۔