پاراچنار پریس کلب کے باہر 5 ہفتے سے احتجاج جاری
اشاعت کی تاریخ: 3rd, April 2025 GMT
— فائل فوٹو
ضلع کرم کے راستوں کی بندش کےخلاف پاراچنار پریس کلب کے باہر 5 ہفتے سے احتجاج جاری ہے ۔
پاراچنار میں 6 ماہ سے راستوں کی بندش کے باعث شہریوں کو تاحال مشکلات کا سامنا ہے۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ راستے کھولنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔
ضلع کرم میں ٹل پاراچنار مرکزی شاہراہ کو بند ہوئے 143 روز گزرگئے، راستوں کی بندش کیخلاف پریس کلب کے باہر شہریوں کا احتجاجی دھرنا جاری ہے۔
ایم این اے حمید حسین کے مطابق امن معاہدے کے باوجود راستوں کی بندش سمجھ سے باہر ہے۔
سماجی رہنما مسرت بنگش کا کہنا ہے کہ راستے کھولنے اور متاثرین کو امدادی پیکیج ملنے تک دھرنا جاری رکھیں گے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ فریقین کے مابین اعتماد کی بحالی و راستے کھولنے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
.ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پریس کلب کے باہر راستوں کی بندش
پڑھیں:
غزہ کے مسلمانوں کی طرح پاراچنار کے عوام نے بھی عید حصار میں گذاری، علامہ ریاض نجفی
لاہور میں نماز عید کے اجتماع سے خطاب میں وفاق المدارس الشیعہ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ حکومت اور سکیورٹی فورسز پاراچنار کے عوام کو ریلیف دلوانے میں ناکام رہیں، پاراچنار سے تعلق رکھنے والے چار ہزار سے زائد طلبا و طالبات عید پر اپنے آبائی گھروں کو نہیں جا سکے، بیت المقدس کی آزادی، دہشتگردی کے خاتمے، فوج اور پولیس کے شہید جوانوں کیلئے دعائے بھی کی گئی۔ اسلام ٹائمز۔ حوزہ علمیہ جامعتہ المنتظر ماڈل ٹاون لاہور میں پہلی نماز عیدالفطر وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر علامہ حافظ سید ریاض حسین نجفی نے پڑھائی۔ انہوں خطبہ عیدالفطر میں رمضان المبارک کے فیوض و برکات سے مستفید ہونے پر نمازیوں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے واضح کیا کہ غریبوں اور مستحقوں کو بھی عید کی خوشیوں میں یاد رکھیں۔ غزہ کے مسلمانوں پر اسرائیلی مظالم اور پاراچنار کے راستے بند ہونے کی وجہ سے عوام کی مشکلات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکمرانوں کو بیدار ہونے کی ضرورت ہے۔ بے حسی کی انتہا اور حیرت ہے کہ پورے ملک میں عوام نے عید منائی مگر پارا چنار کا غزہ کی طرح کا حصار جاری رہا۔ حکومت اور سکیورٹی فورسز عوام کو ریلیف دلوانے میں ناکام رہیں۔
حافظ ریاض نجفی نے کہا کہ پاراچنار سے تعلق رکھنے والے ملک کے مختلف تعلیمی اداروں میں زیرتعلیم چار ہزار سے زائد طلبا و طالبات بھی اپنے آبائی گھروں کو عید کے موقع پر راستے بند ہونے کی وجہ سے نہیں جا سکے، جبکہ تقریباً اس سے زیادہ تعداد لوگوں کی پشاور، کوہاٹ، اسلام آباد کے ہوٹلوں میں موجود ہے کہ راستے کھلیں گے تو وہ اپنے گھروں کو واپس جا سکیں گے۔ عوام کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے جس میں موجودہ حکومت بری طرح ناکام ہے۔ انہوں نے بیت المقدس کی آزادی، دہشتگردی کے خاتمے اور وطن عزیز کی خاطر بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں جام شہادت نوش کرنیوالے فوج اور پولیس کے جوانوں کیلئے دعائے مغفرت بھی کی۔