کراچی، واٹر ٹینکر کی رکشے کو ٹکر، 2 خواتین زخمی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, April 2025 GMT
کراچی کے علاقے مائی کلاچی کے قریب ٹینکر نے رکشے کو ٹکر مار دی جس سے دو خواتین زخمی ہوگئیں، ڈرگ روڈ کے قریب تیز رفتار بس الٹنے سے تین افراد زخمی ہوگئے۔
مائی کلاچی کے قریب تیز رفتار واٹر ٹینکر نے رکشہ کو ٹکر ماری جس سے رکشے میں سوار دو خواتین زخمی ہوگئیں۔
حادثے کے فوری بعد زخمی خواتین کو طبی امداد کے لیے سول اسپتال منتقل کیا گیا، پولیس نے حادثے کا سبب بننے والے واٹر ٹینکر کو تحویل لے کر ٹینکر کے ڈرائیور کی تلاش شروع کردی ہے۔
دوسری جانب شاہراہ فیصل پر ڈرگ روڈ کے مقام پر تیز رفتار مسافر بس الٹ گئی، جس سے بس میں سوار تین افراد زخمی ہوگئے۔
زخمی افراد کو طبی امداد کے لیے جناح اسپتال منتقل کردیا گیا ہے، شاہراہ فیصل پر ٹریفک حادثے کے باعث ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوئی۔
Post Views: 1.ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
وزیراعلیٰ سندھ کا دورۂ شاہراہِ بھٹو، کام کی رفتار تیز کرنے کی ہدایات
کراچی:وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے شاہراہِ بھٹو کا اچانک دورہ کیا، جس میں انہوں نے کام کی رفتار تیز کرنے کی ہدایات جاری کیں۔
وزیراعلیٰ کے ہمراہ سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن، وزیر بلدیات سعید غنی اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب بھی موجود تھے۔ وزیراعلیٰ نے پی ڈی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ عید کی چھٹیاں ختم ہو چکی ہیں، کام کی رفتار تیز کریں۔ جام صادق انٹرچینج اور قائدآباد انٹرچینج جلد مکمل کیا جائے۔عوام کی سہولت کیلیے دونوں انٹرچینجز کو ٹریفک کیلیے جلد کھولنا چاہتا ہوں۔
پروجیکٹ ڈائریکٹر نے وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا کہ جام صادق انٹرچینج کی تعمیر میں 3 ماہ لگیں گے، جس پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ جام صادق انٹرچینج 2 ماہ میں مکمل کریں۔
انہوں نے ہدایت کی کہ کازوے کے قریب شاہراہِ بھٹو پر زیر تعمیر راؤنڈ اباؤٹ جلد مکمل کیا جائے۔ ڈی ایچ اے اورعائشہ مسجد جانے کے لیے حل نکالیں۔ منگل یا بدھ کو میٹنگ کروں گا، اس کی ڈرائنگ تیار کرکے پیش کی جائے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ اگلے 3 برس میں شاہراہِ بھٹو کو سی پورٹ سے منسلک کرنا ہے، اس کی پیشگی تیاری کی جائے۔ کے پی ٹی سے شاہراہِ بھٹو منسلک ہونے سے سی پورٹ ٹریفک ملک کے دیگر حصوں تک مؤثر انداز میں پہنچ سکے گی۔
بعد ازاں وزیراعلیٰ سندھ نے شاہراہِ بھٹو ٹول پلازہ پر ٹیکس ادا کیا اور قائدآباد انٹرچینج روانہ ہوئے، جہاں انہیں بریفنگ دی گئی، جس میں بتایا گیا کہ شاہراہ بھٹو سے قائدآباد انٹرچینج قائدآباد پل کے پاس اتر رہا ہے۔ قائدآباد انٹرچینج سے شاہراہِ بھٹو پر چڑھنے اور اترنے کا کام مکمل ہو چکا ہے۔
وزیراعلیٰ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قائدآباد انٹرچینج کو اپریل کے آخر یا مئی کے پہلے ہفتے میں ٹریفک کے لیے کھولیں گے۔ قائدآباد سے سموں گوٹھ تک 4 کلومیٹر ایلیویٹڈ روڈ کی تعمیر کا کام تیز کیا جائے۔ یلو لائن جام صادق پل کا کام آئندہ 2 ماہ میں مکمل کیا جائے۔