اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے عاصم افتخار کو عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دی، عاصم افتخار نے یو این منشور، کثیر الجہتی سفارت کاری کیلئے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ اسلام ٹائمز۔ سفیر عاصم افتخار نے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کا منصب سنبھال لیا۔ سفیر عاصم افتخار احمد نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو اپنی اسناد پیش کر دیں، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے عاصم افتخار کو عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دی، عاصم افتخار نے یو این منشور، کثیر الجہتی سفارت کاری کیلئے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ واضح رہے کہ سفیر عاصم افتخار نے منیر اکرم کی مدت پوری ہونے پر پاکستان کے مستقل مندوب کا منصب سنبھالا ہے۔

.

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: عاصم افتخار نے اقوام متحدہ پاکستان کے

پڑھیں:

امدادی اور عالمی اداروں کے کارکنوں پر حملے بند کرنے کا مطالبہ

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 03 اپریل 2025ء) اقوام متحدہ کے اعلیٰ سطحی حکام نے سلامتی کونسل میں اپیل کی ہے کہ امدادی کارکنوں اور بین الاقوامی اداروں کے لیے کام کرنے والے اہلکاروں کے خلاف حملے بند کرائے جائیں۔

امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کی اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل جوئس مسویا اور دفتر برائے تحفظ و سلامتی (یو این ڈی ایس ایس) کے سربراہ جائلز میشو نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں بحران زدہ لوگوں کو تحفظ اور ضروری امداد پہنچانے والے کارکنوں پر حملوں میں غیرمعمولی حد تک اضافہ ہو گیا ہے۔

ان واقعات کو روکنے کے ساتھ ان کے ذمہ داروں کا محاسبہ کیا جانا ضروری ہے۔ Tweet URL

انہوں نے یہ بات مسلح تنازعات میں شہریوں کی زندگی کو تحفظ دینے کے معاملے پر کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

(جاری ہے)

اس موقع پر ہونے والی بات چیت کونسل کی قرارداد 2730 (2024) پر مرتکز رہی جس میں اقوام متحدہ کے اہلکاروں اور امدادی عملے کی سلامتی برقرار رکھنے پر زور دیا گیا ہے۔مہلک ترین سال

جوئس مسویا نے کونسل کو بتایا کہ دنیا بھر میں جاری مسلح تنازعات میں امدادی کارکنوں کی بڑی تعداد ہلاک و زخمی ہو رہی ہے۔ 2024 اس حوالے سے مہلک ترین سال تھا جس میں 20 ممالک میں 377 امدادی اہلکار ہلاک ہوئے۔

اس طرح 2023 کے مقابلے میں یہ تعداد تقریباً 100 تک بڑھ گئی ہے جبکہ اُس برس بھی 2022 کے مقابلے میں ہلاکتیں 137 فیصد زیادہ رہیں۔

بہت سے امدادی کارکن زخمی اور اغوا ہوئے جبکہ ان کی بڑی تعداد نے حملوں اور ناجائز حراستوں کا سامنا کیا۔ گزشتہ دو سال امدادی کارکنوں کے لیے کہیں زیادہ مہلک ثابت ہوئے۔ اس دوران سوڈان میں تقریباً 85 کارکنوں کو ہلاک کیا گیا جو تمام سوڈان ہی کے شہری تھے۔

غزہ میں ہلاکتیں

انہوں نے کہا کہ تین روز قبل ہی غزہ میں 'اوچا' اور فلسطینی ہلال احمر سوسائٹی کی ٹیموں نے ہنگامی امداد پہنچانے والے 15 کارکنوں کی لاشیں ایک اجتماعی قبر سے دریافت کی ہیں۔ انہیں کئی روز قبل اسرائیل کی فوج نے اس وقت ہلاک کر دیا تھا جب وہ جنوبی علاقے رفح میں لوگوں کو مدد پہنچانے جا رہے تھے۔ اس سے قبل 19 مارچ کو بھی غزہ میں اقوام متحدہ کے لیے کام کرنے والے ایک شخص کو ہلاک کیا گیا جبکہ اس حملے میں چھ کارکن زخمی ہوئے۔

اس طرح غزہ امدادی کاموں کے لیے مشکل ترین جگہ بن گیا ہے جہاں 7 اکتوبر کے بعد ہلاک ہونے والے امدادی کارکنوں کی تعداد 408 تک جا پہنچی ہے۔

سلامتی کونسل سے اپیل

جوئس مسویا نے سلامتی کونسل کے ارکان سے سوال کیا کہ وہ امدادی کارکنوں کی مزید ہلاکتوں کو روکنے اور اب تک پیش آنے والے ایسے واقعات پر انصاف کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے کون سے اقدامات کریں گے؟

انہوں نےکہا کہ امدادی کارکنوں اور اقوام متحدہ کے اہلکاروں کو تحفظ دینے کے لیے بہت سے بین الاقوامی قانونی فریم ورک موجود ہیں تاہم اس مقصد کے لیے صرف سیاسی عزم کا فقدان ہے۔

مقامی عملے کا بھاری نقصان

اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ہلاک ہونے والے 95 فیصد امدادی عملے کا تعلق انہی بحران زدہ علاقوں سے تھا جہاں وہ مدد مہیا کر رہے تھے اور امدادی کوششوں میں ان لوگوں کی مرکزی اہمیت ہے۔ یہ کارکن انتہائی احترام کے مستحق ہیں تاہم انہیں پہنچنے والے نقصان پر خال ہی توجہ دی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ امدادی کارکنوں کو دیگر مسائل بھی درپیش ہیں۔

ان کے کام کو جرم ٹھہرایا جاتا ہے اور انہیں گرفتاریوں، تفتیش اور دہشت گردوں کو مدد دینے جیسے الزامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ امدادی ادارے غلط اور گمراہ کن اطلاعات کا ہدف بھی بن رہے ہیں۔ ہیٹی، مقبوضہ فلسطینی علاقے اور یمن میں ان کے خلاف مہمات چلائی جا رہی ہیں۔

امدادی وسائل کی قلت نے اس مسئلے کو اور بھی گمبھیر بنا دیا ہے اور امدادی برادری مشکل فیصلے کرنے پر مجبور ہو گئی ہے۔

© UNRWA/Mohammed Hinnawi انتہائی مشکل حالات کے باوجود اقوام متحدہ کا عملہ غزہ میں خدمات سرانجام دینے میں مصروف ہے۔

احترام اور احتساب

انہوں نے قرارداد 2730 کی منظوری کو درست سمت میں اہم قدم قرار دیتے ہوئے کونسل اور اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک سے تین درخواستیں کیں۔

سب سے پہلے، ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی قانون کا احترام یقینی بنانے اور اقوام متحدہ کے اہلکاروں سمیت امدادی کارکنوں کو تحفظ دینے کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں مسلح تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں سلامتی کونسل کے ارکان کے دورے، وہاں حقائق کی تلاش کے لیے مشن بھیجنے یا ان جگہوں پر اسلحے کی ترسیل کو روکنے سے اس مسئلے پر بڑی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔

اس کے بعد، انہوں نے اقوام متحدہ اور امدادی اداروں کے اہلکاروں بشمول مقامی امدادی عملے کو نقصان پہنچانے کی مذمت پر زور دیا اور کہا کہ خاموشی، تضاد اور صرف مخصوص مواقع پر ہی غم و غصے کا اظہار کرنے سے ایسے واقعات کا ارتکاب کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔

تیسری اور آخری درخواست کرتے ہوئے انہوں نے امدادی اہلکاروں کو نقصان پہنچانے والوں کے محاسبے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی جرائم پر قانونی کارروائی کے لیے قومی و بین الاقوامی سطح پر قانونی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اس معاملے میں احتساب پر زور دینے کے لیے سلامتی کونسل کو مرکزی کردار ادا کرنا ہو گا۔ جب قومی سطح پر محاسبہ نہ ہو سکے تو کونسل بین الاقوامی طریقہ ہائے کار سے رجوع کر سکتی ہے جس میں عالمی فوجداری عدالت بھی شامل ہے۔

متاثرین پر توجہ

جوئس مسویا کا کہنا تھا کہ احتساب کا تعلق محض قانونی کارروائی سے نہیں بلکہ اس میں متاثرین کو بھی خاص اہمیت دی جانی چاہیے۔

انہوں ںے امدادی کارکنوں کو اپنے تحفظ بارے عالمی سطح پر ہونے والی بات چیت میں شامل کرنے کی خاطر متاثرین پر مرتکز طریقہ کار اختیار کرنے کے لیے سیکرٹری جنرل کی سفارشات کو دہرایا۔

© UNOCHA/Alina Basiuk یوکرین کے جنگ زدہ علاقے اوڈیسہ میں یو این امدادی عملہ لوگوں کی خدمت میں مصروف ہے۔

امدادی اداروں پر متواتر حملے

اس موقع پر جائلز میشو نے کہا کہ اقوام متحدہ اور امدادی اداروں کے اہلکاروں کی سلامتی سے متعلق کنونشن میں مزید ممالک کی شمولیت کے حوالے سے پیش رفت مشکلات کا شکار رہی ہے جبکہ امدادی کارکنوں پر حملے متواتر جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اب یہ حملے عام بات بن گئے ہیں اور ناصرف غیرریاستی کردار بلکہ حکومتیں اور ان کے آلہ کار بھی انہیں نشانہ بنا رہے ہیں جبکہ متعدد رکن ممالک نے امدادی مقاصد کے لیے مالی وسائل کی فراہمی بھی محدود کر دی ہے۔

ان حالات میں امدادی ادارے بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور یہ صورتحال مزید عدم تحفظ کا باعث بنے گی۔وسائل کی قلت کا مسئلہ

جائلز میشو نے کہا کہ جب اور جہاں اقوام متحدہ اور اس کے شراکت داروں کے لیے حسب ضرورت امداد کی فراہمی ممکن نہیں ہو گی تو ان کے اہلکاروں کے لیے خطرات بھی بڑھ جائیں گے۔ غزہ اور دیگر جگہوں پر یہی کچھ دیکھنے کو مل رہا ہے اور امدادی کارکن مایوس لوگوں کا پہلا ہدف ہو سکتے ہیں۔

ایسے حالات میں اقوام متحدہ کو اپنے کام میں دستیاب امدادی وسائل اور تحفظ کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے تبدیل لانا ہو گی۔

'یو این ڈی ایس ایس' کا عزم

انہوں نے واضح کیا کہ اقوام متحدہ کو اپنی امدادی کارروائیاں نئے سرے سے ترتیب دینا ہوں گی اور بعض جگہوں پر وسائل کی کمی کے باعث اپنا کام بند کرنا پڑے گا۔ تاہم، 'یو این ڈی ایس ایس' اس مشکل وقت میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا اور جہاں بھی امدادی شراکت داروں کو مدد کی ضرورت ہوئی وہ انہیں پہنچائی جائے گی۔

اس حوالے سے انہوں نے بتایا کہ، ادارہ سلامتی کونسل اور رکن ممالک کے ساتھ مل کر کام کرے گا جس میں امداد کی فراہمی، امن، سلامتی اور ترقی کے حوالے سے اب تک ہونے والے کام کو تحفظ دینا بھی شامل ہے۔ تاہم، اقوام متحدہ اور امدادی عملے کے اہلکاروں پر حملے فوری طور پر بند ہونا ضروری ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • امریکی اضافی ٹیرف گلوبل اکنامی کیلئے منفی ہے: ملیحہ لودھی
  • عاصم افتخار نے اقوام متحدہ میں مستقل مندوب کا چارج سنبھال لیا
  • عاصم افتخار احمد نے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھال لیں۔
  • امدادی اور عالمی اداروں کے کارکنوں پر حملے بند کرنے کا مطالبہ
  • اقوام متحدہ سے سبکدوش مستقل مندوب منیر اکرم کے اعزاز میں الوداعی استقبالیہ
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کے سبکدوش ہونے والے مستقل مندوب منیر اکرم کے اعزاز میں الوداعی استقبالیہ
  • خیبرپختونخوا کے عوام نے دہشت گردی کیخلاف بہادری کا مظاہرہ کیا، آرمی چیف
  • عاصم افتخار نے یو این میں پاکستان کے مستقل مندوب کا منصب سنبھال لیا
  • اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں فلسطین پر پاکستان کی قرارداد کثرت رائے سے منظور