ٹرمپ ٹیرف وار: امریکا کو متعدد ممالک کی طرف سے شدید ردعمل کا سامنا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, April 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی ٹیرف پالیسی سے متاثرہ ممالک کی طرف سے شدید ردعمل دیکھنے کو مل رہا ہے۔ متعدد ممالک نے پہلے ہی جوابی کارروائی کے لیے امریکا کو خبردار کر رکھا ہے۔
چین نے کہا ہے کہ امریکی ٹیرف عالمی اقتصادی ترقی کے لیے خطرہ ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ امریکا نئے ٹیرف کو فی الفور منسوخ کرے۔ چینی وزارت تجارت نے کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ نئے ٹیرف سے خود امریکی مفادات اور عالمی سپلائی چین کو نقصان پہنچے گا۔
دوسری طرف برازیلین پارلیمنٹ نے ٹرمپ ٹیرف سے نمٹنے کے لیے قانون کی منظوری دیدی ہے۔ جبکہ امریکی اتحادی آسٹریلیا نے انہیں ’غیرضروری‘ قرار دیا اور اٹلی نے یورپی یونین پر ٹیرف کو ’غلط‘ قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیےامریکی صدر ٹرمپ کا درآمدات پر ٹیرف کا اعلان، پاکستان پر 29 فیصد ٹیرف عائد
آئرلینڈ نے کہا کہ یورپی یونین کو امریکی ٹیرف کا مناسب جواب دینا چاہیے۔ جرمن کیمیل انڈسٹری نے ٹرمپ حکومت کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ جبکہ برطانیہ نے کہا کہ امریکی ٹیرف کے باوجود امریکا کے ساتھ اقتصادی معاہدے کے لیے پرعزم ہیں۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستانی مصنوعات پر 29 فیصد ٹیرف عائد کردیا۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ پاکستان ہم 58 فیصد ٹیرف وصول کرتا ہے۔ ہم پاکستان پر 29 فیصد ٹیرف عائد کریں گے۔
یہ بھی پڑھیےکینیڈین وزیراعظم نے ٹیرف کے نفاذ کو کینیڈا پر حملہ قرار دے دیا
امریکی صدر نے بھارت پر 26 فیصد، بنگلہ دیش پر 37 فیصد، برطانیہ پر 10 فیصد، یورپ پر 20 فیصد، چین پر 34 فیصد، جاپان پر 24 فیصد، ویت نام پر 46 فیصد، تائیوان پر32 فیصد، جنوبی کوریا پر 25 فیصد، تھائی لینڈ پر 36 فیصد، سوئٹزر لینڈ پر31 فیصد، انڈونیشیا پر 32 فیصد، ملائشیا پر 24 فیصدکمبوڈیا پر 49 فیصد، جنوبی افریقہ پر 30 فیصد، برازیل اور سنگاپور پر 10 فیصد، اسرائیل اور فلپائن پر 17 فیصد، چلی اور آسٹریلیا پر 10 فیصد، ترکیہ پر 10 فیصد، سری لنکا پر 44 فیصد، کولمبیا پر 10 فیصد جوابی ٹیرف لگا دیا۔
امریکی صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں خطاب میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے اتحادی 30 سال سے مراعات لے رہے ہیں۔امریکی مصنوعات پر ڈیوٹیز لگانے والوں کو اب جواب ملے گا۔ اب میں آپ کو بتادوں کہ وہ دن گنے جاچکے ہیں، درآمدات پرٹیرف لگے گا۔ جوابی ٹیرف کا نفاذ امریکا کے لیے اچھا ہوگا۔ امریکا تمام درآمدات پر 10 فیصد ٹیکس عائد کرے گا۔
مزید پڑھیں چین کا امریکا کی مسلط کردہ ’ٹیرف وار‘ آخر تک لڑنے کا اعلان
امریکی صدر نے کہا کہ آج کا دن امریکی تاریخ کے لیے اہم ترین دن ہے۔ آج امریکا کی اقتصادی آزادی کا دن ہے۔ برسوں تک امریکی شہریوں کو سائیڈ لائن رکھا گیا۔ اس دوران دوسری قومیں طاقتور بن گئیں۔ اب امریکا کی خوشحالی کی باری ہے۔ اضافی ٹیکس عائد کرنے سے مضبوط مسابقت اور اشیا کی قیمتیں کم ہوں گی۔ ان کا کہنا ہے کہ محصولات سے حاصل ہونے والی رقم کو اپنے ٹیکس کم کرنے کے لیے استعمال کریں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا ٹرمپ ٹیرف وار.ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا ٹرمپ ٹیرف وار امریکی صدر پر 10 فیصد کے لیے نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
نئی عالمی تجارتی کشمکش کے مضمرات
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب کے دوران یوم آزادی کے موقع پر یورپی یونین اور 46 ممالک پر نئے تجارتی محصولات کے نفاذ کا اعلان کیا۔
امریکی صدر نے کہا کہ حاصل شدہ محصولات کو امریکا میں ٹیکس کی شرح کو کم کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ یورپی یونین پر 20 فیصد اضافی ٹیکس، چین پر 34 فیصد اور جاپان پر 24 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ بھارت پر 26 فیصد، اسرائیل پر 17 فیصد اور برطانیہ پر 10 فیصد ٹیرف لگایا جائے گا، جب کہ اب پاکستان پر 29 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔
کئی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے محصولات بڑھانے کے لیے عالمی تجارتی جنگ چھیڑ دی ہے۔ امریکی صدر کے بظاہر یہ اقدامات امریکی تجارتی تعلقات میں عدم توازن کو درست کرنے اور ملکی صنعتوں کے تحفظ کے لیے اٹھائے گئے ہیں، تاہم ان فیصلوں سے عالمی قیمتوں پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جب کہ امریکی کاروباری شعبے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔
ماہرین اقتصادیات خبردار کر رہے ہیں کہ ان محصولات کے نتیجے میں تجارتی جنگ چھڑ سکتی ہے اور قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ بڑے امریکی تجارتی شراکت داروں کے ساتھ ایک نئی تجارتی جنگ امریکا اور عالمی نمو کو تباہ کردے گی، جب کہ صارفین اور کمپنیوں، دونوں کے لیے قیمتیں بڑھنے کا سبب بن جائے گی۔ متعدد امریکی تجارتی شراکت داروں اور اتحادی ممالک نے اس تجارتی پالیسی کو پسند نہیں کیا ہے، جب کہ جوابی ٹیرف لگائے جانے کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں، جس سے اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی ٹیرف پالیسی نے دنیا کی بڑی معیشتوں کے درمیان جنگ جیسا ماحول بنا دیا ہے۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ اس سے عالمی ترقی سست پڑسکتی ہے اور افراط زر میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ بظاہر صدر ٹرمپ کے فیصلے کے اثرات پاکستان تک نہیں پہنچ رہے لیکن ماہرین اس سلسلے میں ایک محتاط پالیسی کی ضرورت پر بات کر رہے ہیں جو صدر ٹرمپ کے دور میں پاک امریکا تجارت میں آنے والے ممکنہ رکاوٹوں سے نمٹ سکے۔ بہتر ہوگا کہ پاکستان علاقائی تجارت کو مضبوط بنائے اور کینیڈا و میکسیکو میں امریکی مہنگی اشیا کی وجہ سے پیدا مسابقتی گنجائش کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے۔
صدر ٹرمپ کی خارجہ، داخلی اور تجارتی پالیسی نے عالمی سطح پر کشیدگی پیدا کر دی ہے اور ممالک اپنی خود مختاری کو برقرار رکھنے کی فکر میں متبادل طریقوں پر غورکررہے ہیں۔
دنیا کے کئی ممالک میں ڈالرز کے بجائے اپنی مقامی کرنسیوں میں تجارت کا عمل کچھ سالوں سے بڑھا ہے، سب سے پہلے چین نے دیگر ممالک کے ساتھ اپنی کرنسی میں تجارت شروع کی، چین نے اپنے تجارتی شراکت داروں کے ساتھ مقامی کرنسی میں تجارت کرنے کی پالیسی اس وقت اختیارکی جب امریکا کی مالیاتی پالیسیوں کی وجہ سے ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ ہو رہا تھا، لٰہذا یورپ نے بھی اسی سمت میں قدم بڑھایا اور یورپی یونین نے یوروکو عالمی تجارت میں ایک مضبوط کرنسی کے طور پر استعمال کرنا شروع کیا، تاہم یہ رجحان تیزی سے مقبول ہوا اورکئی ممالک نے اپنی مقامی کرنسیوں میں تجارتی معاہدے کیے تاکہ ڈالرز پر انحصارکم کیا جاسکے۔
دنیا کی پانچ ابھرتی ہوئی معیشتوں پر مشتمل برکس گروپ جن میں برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ ہیں، یہ گروپ اقتصادی، سیاسی اور تجارتی تعاون کی بنیاد پر قائم کیا گیا ہے اور عالمی سطح پر ڈالرکے بجائے متبادل مقامی کرنسیوں میں تجارت کو فروغ دینے کی کوشش میں مصروف عمل ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ کو صدارت سنبھالنے کے بعد جب بھی موقع ملا، وہ برکس ممالک کو بھاری ٹیرف عائد کرنے سے ڈراتے رہے ہیں، صدرٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ یہ سوچنا چھوڑ دیں کہ برکس ممالک خود کو ڈالر سے دورکررہے ہیں اور ہم دیکھتے ہی رہیں گے، ان نام نہاد حریف ممالک کو واضح طور پر وعدہ کرنا ہوگا کہ وہ طاقتور امریکی ڈالرکو بدلنے کے لیے نہ تو نئی برکس کرنسی بنائیں گے اور نہ ہی کسی دوسری کرنسی کی حمایت کریں گے، اگر ایسا نہ ہوا تو انھیں 100 فیصد ٹیرف کا سامنا کرنا پڑے گا۔
یہی نہیں بلکہ انھیں امریکا کی عظیم مارکیٹ میں اپنا سامان بیچنا بھی بھولنا پڑے گا، یہ ممالک کوئی اور احمق ملک تلاش کرسکتے ہیں اور انھیں امریکا کو بھی الوداع کہنا پڑے گا۔ اس کے ساتھ ہی ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ان کی 150 فیصد ٹیرف کی دھمکی نے برکس گروپ کو توڑ دیا ہے۔ عالمی تناظر میں اس دھمکی کے دور رس نتائج نکلیں گے، کیونکہ امریکا پرکوئی بھروسہ نہیں کہ وہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ کے اقدامات برکس ممالک خاص کر روس اور چین کو ایسے اقدامات کرنے پر مجبورکرسکتے ہیں جس سے امریکا کی معاشی بالادستی کو شدید خطرہ لاحق ہوجائے گا۔
تیزی سے متحرک عالمی منظرنامے میں، براعظم ایشیا کو تبدیلی کا سامنا ہے، جو معاشی انضمام کے مشترکہ عزم کی وجہ سے ہے اور یہ خطے کی معاشی ترقی و عالمی ترقی کے لیے انتہائی اہم بھی ہے۔ دنیا کی نصف سے زیادہ آبادی پر مشتمل براعظم ایشیا قوت خرید کے لحاظ سے عالمی پیداوارکا تقریباً ایک تہائی حصہ رکھتا ہے۔ آئی ایم ایف نے ایشیا کے لیے 2025 کے لیے چار اعشاریہ چار فیصد شرح نمو کا تخمینہ لگایا ہے جب کہ ایشیائی ترقیاتی بینک نے ایشیا کے لیے اپنے چار اعشاریہ نو فیصد نموکے برقرار رہنے کی پیشگوئی کی ہے، جس سے عالمی معاشی توسیع کے ایک اہم محرک کے طور پر ایشیائی خطے کے کردارکی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
اس امید افزا نکتہ نظر کے باوجود، ایشیا کو مسلسل جغرافیائی سیاسی چیلنجوں کا سامنا ہے، جن میں بڑھتی ہوئی تجارتی رکاوٹیں، عالمی تناؤ اور معاشی غیر یقینی کی صورتحال جیسے محرکات شامل ہیں۔ یہ سب وہ عوامل ہیں جو خطے کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ جغرافیائی سیاسی تناؤکے درمیان، چین کی اقتصادی رفتار خطے میں استحکام کی علامت بنی ہوئی ہے۔ داخلی چیلنجوں اور ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے نئے سرے سے دباؤ کے باوجود چین کی حکومت نے واضح اور مستقل پالیسی اپنا رکھی اور اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ معاشی ترقی کی رفتار سست نہ پڑے۔ چین مشرق وسطیٰ اور یورپ میں بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) کی سرمایہ کاری کو وسعت دینے، بنیادی ڈھانچے اور تجارتی رابطوں کو مضبوط بنانے کے امکانات بھی پیش نظر رکھے ہوئے ہے۔
ماہرین نے نشاندہی کی ہے کہ امریکی حکومت درآمد کنندگان پرجو ٹیکس عائد کرتی ہے، اسے بالآخر امریکی صارفین ہی برداشت کرتے ہیں۔ حقائق نے بار بار ثابت کردیا ہے کہ تجارتی جنگ اور ٹیرف جنگ میں کوئی فاتح نہیں ہے اور تجارتی تحفظ پسندی صرف ’’ نقصان‘‘ لاتی ہے، نہ کہ تحفظ۔ بیشتر ماہرین اقتصادیات کے مطابق اس خطرناک تجارتی اقدام سے معیشت کے بدحال ہو جانے اورکئی دہائیوں پرانے اتحادوں کو بھاری نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔
گرتی ہوئی اسٹاک مارکیٹ یا صارفین کی ناراضگی کے بارے میں انتباہی علامات کے باوجود ٹرمپ انتظامیہ نے اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کرنا پسند نہیں کیا۔ محصولات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال سرمایہ کاروں، صارفین اورکاروباری اداروں کا اعتماد ختم کر رہی ہے۔
فیڈرل ریزرو بینک آف اٹلانٹا کے ماہرین اقتصادیات نے کہا کہ ایک حالیہ سروے سے ظاہر ہوا ہے کہ کارپوریٹ شعبے کے مالیاتی سربراہوں کو توقع ہے کہ اس سال قیمتوں میں اضافہ ہوگا اور نئے کارکنوں کی بھرتی اور ترقی میں کمی ہوگی۔ پریشان سرمایہ کاروں نے ممکنہ نقصانات کے مدنظر اپنے اسٹاک کو جارحانہ طور پر فروخت کرنا شروع کردیا ہے۔ فروری کے وسط سے تقریباً پانچ ٹریلین امریکی ڈالرکا صفایا ہوچکا ہے۔ ٹرمپ کے اس اقدام سے ممکنہ طور پر ہر طرف سے جوابی کارروائی کا خدشہ بھی ہے۔ اس کے باوجود وائٹ ہاؤس نے اعتماد کا اظہارکیا ہے۔
گو ڈونلڈ ٹرمپ نے ’’ سب سے پہلے امریکا‘‘ کے نعرے کو عملی شکل دینے کی بھرپورکوشش کی ہے۔ ایک مضبوط رائے یہ بھی ہے کہ اس سے دنیا بھر میں امریکی اثر و رسوخ میں کمی آنے کے امکانات بڑھ جائیں گے، اگر چین، یورپ اور دیگر ممالک تجارتی محاذ پر ایک دوسرے کے قریب آ گئے تو امریکی معیشت کا عالمی تجارتی نظام میں کردار کم ہو جائے گا۔ مستقبل میں امریکا اور دیگر ممالک نئے تجارتی معاہدے کریں گے جس سے موجودہ حالات بدل جائیں گے اور نئی تجارتی پالیسیاں بننے لگیں گی۔ عالمی تجارت کو پر امن رکھنے کے لیے عالمی تنازعات کا حل بہت ضروری ہے، اگر جنگوں اور تنازعات کا ماحول برقرار رہا تو عالمی تجارت بھی متاثر ہوتی رہے گی۔