مستونگ، علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی اختر مینگل کے دھرنے میں شرکت
اشاعت کی تاریخ: 3rd, April 2025 GMT
علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے اس موقع پر مظاہرین سے یکجہتی کا اظہار اور ڈاکٹر ماہرنگ سمیت دیگر کی رہائی اور لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ کیا۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کوئٹہ کے نواحی علاقے مستونگ میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر جان مینگل کے دھرنے میں شرکت کرتے ہوئے مظاہرین سے یکجہتی کا اظہار کیا۔ مجلس وحدت مسلمین کے جاری بیان میں کہا گیا کہ بلوچستان میں بدترین سکیورٹی صورتحال کے باوجود، تحریک تحفظ آئین پاکستان کی قیادت نے مستونگ دھرنے میں شرکت کرکے واضح پیغام دیا ہے کہ وہ صوبے میں امن و استحکام کے خواہاں ہیں۔ رہنماؤں نے اپنے خطاب میں ماہرنگ بلوچ سمیت تمام گرفتار اور لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان کے عوام کے حقوق کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں امن کے بغیر ملک میں حقیقی استحکام ممکن نہیں، اور اس مقصد کے لئے تمام سیاسی قوتوں کو متحد ہوکر کام کرنا ہوگا۔ یہ دھرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ بلوچستان کے عوام اپنے بنیادی حقوق کے لیے پرعزم ہیں اور وہ اپنے مسائل کے حل کے لیے پرامن جدوجہد جاری رکھیں گے۔
.ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کہ بلوچستان
پڑھیں:
بلوچستان میں احتجاج جاری، اختر مینگل کا آج احتجاج کے اگلے مرحلے کا اعلان کرنے کا عندیہ
رائٹس ایکٹوسٹس کی حالیہ گرفتاریوں کے خلاف بی این پی کا احتجاج چھٹے روز میں داخل ، بلوچستان میںوائی فائی پھر بند، حکومتی وفد اور سردار اختر مینگل کے درمیان بات چیت کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا
ہمارے جائز مطالبات پر مذاکرات کے لیے کل جو حکومتی وفد آیا تھا، ان کے پاس آزادانہ بات کرنے کا اختیار نہیں تھا، وہ ’پیغام رساں‘ تھے اور ان کے پاس کوئی پاور نہیں تھی، اختر مینگل
بلوچستان نیشنل پارٹی(بی این پی) مینگل کے سربراہ سردار اختر مینگل آج (جمعرات) کو احتجاج کے اگلے مرحلے کا اعلان کریں گے جبکہ رائٹس ایکٹوسٹس کی حالیہ گرفتاریوں کے خلاف ان کا احتجاج چھٹے روز میں داخل ہو گیا۔واضح رہے کہ گزشتہ روز حکومتی وفد اور سردار اختر مینگل کے درمیان بات چیت کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا تھا۔سردار اختر مینگل نے بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی چیف آرگنائزر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور دیگر رہنماؤں کی گرفتاریوں اور دھرنے پر پولیس کریک ڈاؤن کے خلاف وڈھ سے کوئٹہ تک ’لانگ مارچ‘ کا اعلان کیا تھا۔دھرنا اس وقت لک پاس پر جاری ہے ، جہاں ظہور احمد بلیدی، بخت محمد کاکڑ اور سردار نور احمد بنگلزئی پر مشتمل صوبائی حکومت کا وفد بی این پی-مینگل کے سربراہ سے مذاکرات کے لیے پہنچا تھا، لیکن انہیں دھرنا ختم کرنے پر راضی نہ کر سکا تھا۔آج سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں اختر مینگل کا کہنا تھا کہ وہ 3 اپریل ( جمعرات) کو شام 5 بجے نئے احتجاجی سلسلے کا اعلان کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے جائز مطالبات پر مذاکرات کے لیے کل جو حکومتی وفد آیا تھا، ان کے پاس آزادانہ بات کرنے کا اختیار نہیں تھا، مزید کہنا تھا کہ وہ ’پیغام رساں‘ اور ان کے پاس کوئی پاور نہیں تھی، جو ‘ان لوگوں کے پاس ہے جو اس صوبے کو حقیقی معنوں میں کنٹرول کرتے ہیں‘۔سربراہ بی این پی مینگل کا کہنا تھا کہ ہم 3 اپریل 2025 کو احتجاج کے اگلے مرحلے کا اعلان کریں گے ، مزید کہا کہ اگر انہیں (حکومت) یقین ہے کہ وہ ان مذاکرات سے ہماری توجہ ہٹا سکتے ہیں، تو یہ بات واضح ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر غلط اندازہ لگایا ہے۔ ایک علیحدہ پوسٹ میں سردار اختر مینگل نے لکھا کہ پورے بلوچستان میں انٹرنیٹ کا ’بلیک آؤٹ‘ ہو چکا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ کل رات سے بلوچستان میں تمام سیلولر نیٹ ورکس اور وائی فائی بند کر دیے گئے ، اس بلیک آؤٹ کا واحد مقصد مظلوموں کی آواز کو خاموش کرنا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے سینئر اراکین دھرنے میں شامل ہونے جا رہے تھے ، لیکن ان کو منزل تک پہنچنے سے روک دیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ خندقیں کھودی گئی ہیں، مزید کنٹینر رکھے گئے اور فورسز کے اضافی دستے تعینات کر دیے گئے ، حکومت اپنے داغ دھونے کے لیے جو بھی کوشش کرتی ہے وہ اسے مزید داغدار کر دیتی ہے ۔ واضح رہے کہ مختلف سیاسی جماعتوں نے جمعہ کی صبح تقریباً 9 بجے سردار اختر مینگل کے آبائی قصبے وڈھ سے کوئٹہ کے لیے مارچ شروع کیا تھا۔26 مارچ کو بی این پی۔مینگل نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کے 250 سے زائد کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا، جبکہ مارچ کے شرکا مستونگ کے قریب پہنچے تھے تو ایک خودکش حملہ آور نے خود کو اڑا لیا تھا، تاہم سردار اختر مینگل اور دیگر محفوظ رہے تھے ۔