حریت لیڈر کا کہنا ہے کہ اس وقت کروڑوں بھارتی مسلمان اپنے حقوق کی کھلم کھلا پامالی دیکھ رہے ہیں اور وہ خود کو انتہائی بے بس محسوس کر رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق نے افسوس کا اظہار کیا ہے کہ وقف ترمیمی بل کے حوالے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی نے مسلمانوں کے تحفظات کو دور کرنے میں کسی قسم کی دلچسپی ظاہر نہیں کی۔ ذرائع کے مطابق میرواعظ عمر فاروق نے” ایکس“ پر اپنی ایک پوسٹ میں کہا کہ حکمران جماعت بی جے پی جس طرح پارلیمنٹ میں وقف ترمیمی بل کا دفاع کر رہی ہے وہ انتہائی افسوسناک اور پریشان کن ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں قائم تنظیم متحدہ مجلس علماء سمیت بھارتی مسلم تنظیموں نے بل کے بارے میں اپنے سنگین خدشات اور تحفظات کا اظہار کیا ہے لیکن اسکے باوجود بل پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا اور یوں مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی گئی۔ میر واعظ نے کہا کہ اس وقت کروڑوں بھارتی مسلمان اپنے حقوق کی کھلم کھلا پامالی دیکھ رہے ہیں اور وہ خود کو انتہائی بے بس محسوس کر رہے ہیں۔

.

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: رہے ہیں

پڑھیں:

بھارتی لوک سبھا میں مسلمانوں کی وقف جائیدادوں سے متعلق متنازع ترمیمی بل منظور

بھارت کے ایوان زیریں (لوک سبھا) میں قانون سازوں کی جانب سے متنازع بل پر بحث کے بعد وقف بل کی منظوری دے دی گئی، بل کے حق میں 288 جب کہ مخالفت میں 232 ووٹ ڈالے گئے، بل کی منظوری کے لیے کم از کم 272 ووٹ درکار تھے، اس بل کا مقصد صدیوں سے بھارتی مسلمانوں کی جانب سے عطیہ کردہ اربوں ڈالر مالیت کی جائیدادوں کے انتظام کو تبدیل کرنا ہے۔

غیر ملکی اور بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت نے وقف (ترمیمی) بل، 2024 پارلیمنٹ کے ایوان زیریں (لوک سبھا) میں پیش کیا تھا، جس میں موجودہ قانون میں درجنوں ترامیم کی گئی ہیں۔

بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ اس بل سے وقف کے انتظام میں شفافیت آئے گی، وقف سے مراد مسلمانوں کی متروکہ جائیدادیں ہیں۔

وزیر اقلیتی امور کرن رجیجو نے اپوزیشن کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس بل کا مقصد مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانا نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وقف بورڈ صرف وقف املاک کی نگرانی کرے گا، انتظام نہیں کرے گا، اس بل کا مقصد پچھلی حکومتوں کے ادھورے کاموں کو پورا کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج 8 لاکھ 72 ہزار جائیدادیں وقف کے تحت ہیں، جب کہ 2004 میں یہ تعداد 4 لاکھ 90 ہزار تھی۔

حزب اختلاف کی جماعتوں اور مسلم گروپوں نے اس بل کی شدید مخالفت کی ہے اور اسے بھارت کی سب سے بڑی مذہبی اقلیت کے آئینی حقوق کو کمزور کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ یہ بل پہلی بار گزشتہ سال اگست میں پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا تھا، لیکن حزب اختلاف کے ارکان کے احتجاج کے بعد اسے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) کو بھیج دیا گیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر اقلیتی امور کرن رجیجو کی جانب سے بدھ کو پیش کیے گئے بیان میں 25 تبدیلیوں کو شامل کیا گیا، جو انتہائی منقسم کمیٹی نے تجویز کیں، جس میں حزب اختلاف کے ارکان بھی شامل تھے۔

یہ بل لوک سبھا (ایوان زیریں) میں منظور کرلیا گیا ہے۔

کانگریس سمیت زیادہ تر اپوزیشن جماعتوں نے بل کے خلاف ووٹ دیا، لیکن مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت والے اتحاد کے پاس اس کو منظور کرانے کے لیے کافی تعداد تھی، اس کے بعد اسے بحث اور منظوری کے لیے ایوان بالا (راجیہ سبھا) میں بھیجا جائے گا۔

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھرگے نے کہا کہ اپوزیشن متحد ہے اور وقف ترمیمی بل پر مودی حکومت کے غیر آئینی اور تقسیم کرنے والے ایجنڈے کو شکست دینے کے لیے کام کرے گی۔

مسلم گروپوں نے دلیل دی ہے کہ اس بل کا مقصد وقف قوانین کو کمزور کرنا اور وقف املاک کو ضبط کرنے اور تباہ کرنے کی راہ ہموار کرنا ہے۔

بدھ کو پارلیمنٹ میں بل پیش کرتے ہوئے رجیجو نے اپوزیشن پر یہ افواہیں پھیلانے کا الزام عائد کیا کہ یہ بل مسلمانوں کے حقوق چھین لے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے جو وقف (ترمیمی) بل پیش کیا ہے، اس میں جے پی سی کی کئی سفارشات شامل ہیں، جنہیں ہم نے قبول کرکے اس بل میں شامل کیا ہے۔

سیاہ ترین دن
اپوزیشن جماعت کانگریس کی لوک سبھا میں رکن ماہوا موئترا نے کہا کہ آج بھارت کی سیکولر جمہوریت کا سیاہ ترین دن ہے، ترمیمی بل میں 3 سے 4 شقیں شامل کی گئی ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ آپ کو یہ بتانا ہے کہ آپ 5 سال سے عملی طور پر مسلمان ہیں، میں خود برہمن ہندو ہوں، اگر مجھے یہ ثبوت دینا ہو تو میں کیسے دوں گی کہ میں ہندو ہوں؟ آپ سب کیسے یہ ثبوت دیں گے؟۔

انہوں نے کہا کہ میرے حلقے میں مسلمان اتنے امیر نہیں ہیں کہ وہ قبرستان یا مسجد کے لیے زمین خرید سکیں، وہاں کئی مساجد اور مسلمانوں کے قبرستانوں کے لیے اراضی ہندو کمیونٹی نے عطیہ کی ہے، اب جب یہ سب ختم کردیا جائے گا، تو کسیے مسلمان اپنی رسومات کے لیے جائیدادیں خریدیں گے؟، یہ بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہے۔

بل بھارتی جمہوریت کی فتح ہے، ناصرالدین چشتی
چیئرمین آف آل انڈیا سجادہ نشین کونسل ناصرالدین چشتی نے کہا ہے کہ وقف ترمیمی بل کی لوک سبھا سے منظوری بھارت میں جمہوریت کی فتح ہے، بل کی منظوری پر وزیراعظم مودی، وزیراقلیتی امور کرن رجیجو کو مبارک باد پیش کرتے ہیں۔
ناصرالدین چشتی نے کہا کہ بھارتی حکومت نے مسلمانوں کے حق میں بہت بڑا قدم اٹھایا ہے، امید ہے کہ بھارتی حکومت غریب مسلمان کمیونٹی کی خواتین اور بچوں کے لیے خصوصی اسکیمیں متعارف کروائے گی۔

دوسری جانب انڈین صوفی فاؤنڈیشن کے صدر کشش وارثی نے بھی بل کا خیر مقدم کرتے ہوئے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ اس بل کو ضرور پڑھیں، وفاقی وزرا کے لوک سبھا میں بیان سے واضح ہوگیا کہ بل مسلمانوں کے خلاف نہیں ہے، بلکہ اس بل کے ذریعے غریب مسلمانوں کے لیے اسکیمیں متعارف کروائی جائیں گی۔

دونوں مسلمان رہنماؤں کی جانب سے امید کی گئی کہ بل راجیہ سبھا (ایوان بالا) سے بھی منظور ہوجائے گا۔

Post Views: 1

متعلقہ مضامین

  • بھارتی ایئر فورس کا طیارہ مشن کے دوران گر کر تباہ، پائلٹ ہلاک
  • بھارتی مسلمانوں کا معاشی قتل
  • بھارتی لوک سبھا میں مسلمانوں کی وقف جائیدادوں سے متعلق متنازع ترمیمی بل منظور
  • بھارتی فضائیہ کا لڑاکا طیارہ ’جیگوار‘ گر کر تباہ
  • بھارتی فضائیہ کا جیگوار لڑاکا طیارہ گر کر تباہ
  • سلمان خان نے 37 سالہ کیرئیر کا بدترین ریکارڈ اپنے نام کرلیا
  • اسرائیل کی غزہ کے متعدد علاقوں پر قبضہ کرکے صیہونی ریاست میں شامل کرنے کی دھمکی
  • نیول چیف کا کوسٹل اور کریکس کے علاقوں میں اگلے مورچوں کا دورہ، جوانوں سے ملاقات
  • دشمن کو خوفناک سرپرائز دیں گے؛ یمنی وزیر دفاع کا اعلان