بھارت میں مسلمانوں کی کھربوں روپے کی وقف املاک کو ہڑپنے کے لیے مودی حکومت کا “وقف ترمیمی بل” لوک سبھا میں پیش کردیا گیا، راہول گاندھی کی جانب سے بل پر کڑی تنقید کی گئی۔

بھارتی سیاسی جماعت کانگریس کے رہنما راہول گاندھی کا کہنا ہے کہ وقف ترمیمی بل کامقصد مسلمانوں کو پسماندہ اور جائیداد حقوق کو غضب کرنا ہے۔

بھارتی لوک سبھا میں متنازع وقف ترمیمی بل 2025 پیش کرنے کے معاملے پر
راہول گاندھی نے کہا کہ بی جے پی اور اتحادیوں کا آئین پر یہ حملہ مسلمانوں پر حملہ ہے۔

راہول گاندھی کا کہنا تھا کہ وقف ترمیمی بل مستقبل میں دوسری برادریوں کو نشانہ بنانے کی مثال بنے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ بل ہندوستان کے تصور پر حملہ اور مذہبی آزادی کیخلاف ورزی ہے۔

Post Views: 1.

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

وقف ترمیمی بل مسلمانوں کو بے اختیار کرنے کے لیے لایا گیا، محبوبہ مفتی

انہوں نے فرقہ وارانہ بھائی چارے پر یقین رکھنے والے ہندوئوں پر زور دیا کہ وہ اس طرح کی ناانصافیوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ وقف ترمیمی بل مسلمانوں کو بے اختیار کرنے کے لیے لایا گیا۔ ذرائع کے مطابق محبوبہ مفتی نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی زیرقیادت حکومت کی جانب سے لوک سبھا میں پیش کیے گئے وقف (ترمیمی) بل 2024ء پر اپنے ردعمل میں کہا کہ مجھے بی جے پی سے کوئی امید نہیں لیکن سیکولر ہندوئوں سے بہت امیدیں ہیں، انہیں آگے آنا چاہیے کیونکہ بھارت کو آئین کے مطابق چلانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں مسلمانوں کو ظلم و ستم کا نشانہ بنانے، پیٹ پیٹ کر قتل کرنے کے واقعات میں تیزی آ رہی ہے۔ انہوں نے فرقہ وارانہ بھائی چارے پر یقین رکھنے والے ہندوئوں پر زور دیا کہ وہ اس طرح کی ناانصافیوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بی جے پی اس ملک کو توڑنے کا کام کر رہی ہے۔

دریں اثنا جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس کے صدر اور ہندواڑہ سے رکن اسمبلی سجاد غنی لون نے ایک میڈیا انٹرویو میں کہا کہ ریاست کو مذہب میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے اور وقف (ترمیمی) بل مذہب کا معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف جائیداد اجتماعی طور پر ملک کے مسلمانوں کی ملکیت ہے اور یہ مسلمانوں کا حق ہے کہ وہ اپنے اداروں کا استعمال کرتے ہوئے ان جائیدادوں کا فیصلہ کریں، ریاست کو مذہب کے ساتھ کوئی مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔ یاد رہے کہ مودی حکومت نے وقف ترمیمی بل پارلیمنٹ میں پیش کر دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • وقف ترمیمی بل غیرآئینی اور مسلمانوں کی توہین ہے، اسد الدین اویسی
  • وقف ترمیمی بل مسلمانوں کے خلاف سازش ہے، غلام محی الدین میر
  • مودی سرکار نے مسلمانوں کی اوقاف ہتھیانے کے لیے ترمیمی بل پارلیمنٹ میں پیش کردیا 
  • بھارتی لوک سبھا میں مسلمانوں کی وقف جائیدادوں سے متعلق متنازع ترمیمی بل منظور
  • وقف ترمیمی بل مسلمانوں کو بے اختیار کرنے کے لیے لایا گیا، محبوبہ مفتی
  • وقف ترمیمی بل مسلمانوں کو بے اختیار کرنے کے لیے لایا گیا، محبوبہ
  • القدس کانفرنس بعنوان "غزہ میں بنیادی انسانی حقوق کی پائمالی"
  • وقف ترمیمی بل مسلمانوں کے مذہبی حقوق میں مداخلت ہے، مولانا طارق قاری
  • ہماری پارٹی بھی وقف ترمیمی بل کی حمایت کریگی، پریم کمار جین