سندھ حکومت نے ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے موقع پر عام تعطیل کا اعلان کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, April 2025 GMT
کراچی(نیوز ڈیسک)سندھ حکومت نے سابق ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے موقع پر عام تعطیل کا اعلان کر دیا ہے۔
کل پیپلز پارٹی کے بانی کی چھیالیسویں برسی ہے، چیف سیکرٹری سندھ آصف حیدر شاہ نے عام تعطیل کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ صوبے کے تمام سرکاری دفاتر، خودمختار ادارے، کارپوریشنز اور مقامی کونسلیں بند رہیں گی۔
پیپلز پارٹی برسی کے موقع پر گڑھی خدا بخش میں تعزیتی اجتماع منعقد کرے گی، ملک بھر سے کارکنوں اور حامیوں کی بڑی تعداد کے شریک ہونے کی توقع ہے۔
صدر آصف زرداری کورونا میں مبتلا، انہیں آئیسولیشن میں رکھا گیا ہے، ذاتی معالج
.ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
پاکستان کے پہلے منتخب وزیرِاعظم ذوالفقار علی بھٹو کا سیاسی سفر
اسلام ٹائمز: ابتدائی طور پر، ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی۔ بھٹو کی سیاست سماجی جمہوریت، مساوات اور سماجی انصاف کے فروغ پر مرکوز تھی۔ بھٹو نے 1972ء میں لینڈ ریفارمز متعارف کروائیں، جن میں انفرادی ملکیت کو 150 ایکڑ سیراب اور 300 ایکڑ غیر سیراب زمین تک محدود کر دیا گیا۔ بچوں کیلئے تعلیمی سہولیات، طبی نگہداشت، رہائش، ورکرز ویلفیئر فنڈز، رہائش کے اخراجات کی ایڈجسٹمنٹ اور بڑھاپے کی پنشن، لیبر کورٹس کا قیام جیسے اہم معاملات کو باقاعدہ حل کیا۔ خواتین کے قانونی، سیاسی، شہری اور معاشی حقوق کے ذریعے صنفی مساوات کی ضمانت اسے 1973ء کے آئین کا حصہ بنا کر دی گئی تھی۔ تحریر: سید انجم رضا
پاکستان کی تاریخ کے پہلے جمہوری منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو، جنہیں دنیا بھر میں ایک کرشماتی رہنماء مانا جاتا ہے، انہوں نے بے آئین پاکستان کو ایک متفقہ آئین دیا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستانیوں کے قلب و روح کو متاثر کیا، ان کی شخصیت کا تاثر اور سحر آج اتنے برس بعد بھی لوگوں کے اذہان پر طاری ہے۔ سندھ کے سیاستدان سر شاہنواز بھٹو کے ہاں پانچ جنوری 1928ء کو پیدا ہونے والے ذوالفقار علی بھٹو نے بمبئی میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد برکلے اور آکسفورڈ یونیورسٹیوں سے پولیٹیکل سائنس کی اعلیٰ تعلیم کے بعد لنکنز ان سے وکالت پاس کی۔ 1953ء میں کراچی واپس آئے اور قانون پڑھانے کے ساتھ ساتھ کچھ عرصہ وکالت بھی کی۔ ان کے والد سر شاہ نواز بھٹو مشیرِ اعلیٰ حکومتِ بمبئی اور جوناگڑھ کی ریاست میں دیوان تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو 1971ء سے 1973ء تک پاکستان کے چوتھے صدر اور اس کے بعد 1973ء سے 1977ء تک ملک کے وزیراعظم بنے۔ ان کے سیاسی پیروکار آج بھی انہیں ایک عظیم لیڈر کی حیثیت کا دجہ دیتے ہوئے اور متفقہ طور پر اپنا قائد کہتے ہیں۔
حکومت پاکستان نے 1957ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس میں شرکت کرنے کے لیے جو وفد بھیجا تھا، اس میں اس وقت کراچی کے ایک نوجوان وکیل ذوالفقار علی بھٹو بھی شامل تھے۔ ستمبر 1957ء میں جب ذوالفقار علی بھٹو نے امن عالم اور جارحیت کے موضوع پر اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی چھٹی کمیٹی اجلاس کے دوران تقریر کی تو شاید کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ 29 سالہ نوجوان صرف دس سال بعد ایسا مقام حاصل کر لے گا کہ اس کا نام آنے والی نصف صدی کے بعد بھی پاکستانی سیاست میں گونجتا رہے گا۔ جنرل محمد ایوب خان نے 27 اکتوبر کو مارشل لا لگایا تو اس 30 سالہ نوجوان وکیل کو اپنا وزیر تجارت بنایا۔ 23 جنوری 1963ء کو سابق وزیراعظم پاکستان اور وزیر خارجہ محمد علی بوگرہ کی وفات کے بعد اگلے دن ذوالفقار علی بھٹو کو پاکستان کا وزیر خارجہ مقرر کیا گیا۔ لیکن 17 جون 1966ء کو ایوب خان اور ذوالفقار علی بھٹو کی راہیں جدا ہوگئیں۔
مئی 1964ء میں کشمیری رہنماء شیخ محمد عبداللہ کے دورہ پاکستان کو ممکن بنانے میں ذوالفقار علی بھٹو کا کردار اہم رہا۔ اس کے علاوہ بھی عالمی سطح پر پاکستان کا موقف اجاگر کرنے پر انہیں 21 جون 1964ء کو فیلڈ مارشل ایوب خان نے "ہلال پاکستان" کے اعزاز سے نوازا۔ 1965ء کی جنگ کے بعد بھٹو ہیرو کے طور پر سیاسی منظر پر ابھرے، جب انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تاریخی خطاب کرتے ہوئے بھارت کو للکارا تھا۔ انہیں تین ماہ کی جبری رخصت پر پاکستان سے باہر بھیج دیا گیا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے جنگ ستمبر1965ء کے نتیجے میں ہونے والے معاہدہ تاشقند پر شدید تحفظات کی وجہ سے آٹھ سالہ رفاقت کے بعد 17 جون 1966ء کو صدر ایوب خان کی حکومت کو خیرآباد کہہ دیا تھا۔ دارالحکومت راولپنڈی/اسلام آباد سے جب وہ ٹرین پر کراچی کے لیے روانہ ہوئے تو ہر سٹیشن پر عوام الناس کے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر نے ان کا شاندار استقبال کیا تھا، جس سے بھٹو صاحب کو اپنی عوامی مقبولیت کا اندازہ ہوا تھا۔
ایسے میں انہوں نے عملی سیاست میں حصہ لینے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ بقول جسٹس جاوید اقبال "محترمہ فاطمہ جناح" بھٹو صاحب کو اپنی جماعت "کونسل مسلم لیگ" میں شامل کرنا چاہتی تھیں، لیکن بھٹو صاحب نے اپنی سیاسی جماعت بنانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ اس سے قبل ان کے ابتدائی دور میں ان کے والد بھٹو کی عوامی لیگ میں شمولیت کے خواہشمند تھے، لیکن اس پارٹی کو مغربی پاکستان میں کبھی پذیرائی نہیں ملی تھی۔ راولپنڈی سازش کیس نے پاکستان میں لیفٹ کی تحریک کے تار و پود بکھیر دیئے تھے، سو اب بچے کھُچیے سوشلسٹوں کیمونسٹوں کو کوئی ٹھکانا چاہیئے تھا، سو یہ پڑھا لکھا سندھی وڈیرا ان کی امیدوں کا مرکز ٹھہرا۔ محترم قیوم نظامی کے مطابق "انہی دنوں لاہور میں دانشوروں کا ایک گروپ کام کر رہا تھا، جس میں ڈاکٹر مبشر حسن، حامد سرفراز اور مرزا عبدالطیف شامل تھے، اس گروپ کے ہفتہ وار اجلاس ہوتے تھے۔
ڈاکٹر مبشر حسن نے ذوالفقار علی بھٹو سے ملاقات کرکے ان کو نئی سیاسی جماعت کے سلسلے میں "اتحاد عوام" کے نام سے ایک پیپر پیش کیا، جسے بعد میں پی پی پی کی بنیادی دستاویزات میں شامل کر لیا گیا۔ جے اے رحیم فرانس میں پاکستان کے سفیر تھے، جو بھٹو کے ذاتی دوست تھے اور پکے سوشلسٹ تھے۔ انہوں نے نئی پارٹی کی بنیادی دستاویزات اور منشور تیار کرنے میں دلچسپی لی۔ اکتوبر 1966ء میں انہوں نے نئی پارٹی کا منشور تیار کرکے بھٹو کو روانہ کیا اور یہ خط لکھا۔ "منشور ہماری رہنمائی کرے گا، ہمیں امید ہے کہ آپ پارٹی کے سولہ راہنما اصولوں پر سختی سے کاربند رہیں گے۔ جب سیاستدان آپ کے پاس سودے بازی کے لیے آئیں گے تو آپ ان سے سودا نہیں کریں گے۔ اصولوں کے بغیر تحریک کچھ حیثیت نہیں رکھتی۔"
ذوالفقار علی بھٹو اور ان کے رفقاء نے لاہور میں پاکستان پیپلز پارٹی کا پہلا کنوینشن 30 نومبر 1967ء کو کرنے کا فیصلہ کیا، جو یکم دسمبر تک جاری رہا۔ یہ کنونشن ڈاکٹر مبشر حسن کے گھر پر ہوا، کیونکہ جنرل ایوب خان کے خوف سے کوئی ہوٹل ہال دینے کے لئے تیار نہیں تھا۔ اس کنوینشن میں چار سو کے قریب مندوب شامل تھے، جو مختلف صوبوں سے آئے ہوئے تھے۔ نئی پارٹی کے لیے تین نام پیش کیے گئے۔ پیپلزپروگریس پارٹی، پاکستان پیپلز پارٹی، سوشلسٹ پارٹی آف پاکستان، مندوبین نے پاکستان پیپلز پارٹی کے نام کی منظوری دے دی اور ذوالفقار علی بھٹو کو چیئرمین منتخب کرلیا ۔( قیوم نظامی)
سوشلسٹ نظریات کی اس عوام دوست سیاسی پارٹی کا نعرہ "روٹی، کپڑا اور مکان" تھا جبکہ بنیادی منشور تھا:
* اسلام ہمارا دین ہے۔
* جمہوریت ہماری سیاست ہے۔
* طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں۔
* سوشلزم ہماری معیشت ہے۔
ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار "اسٹیٹس کو" کو للکارا اور غریب عوام کے حقوق روٹی کپڑا مکان کی پرزور وکالت کی، جس کی وجہ سے ان کا پیغام پورے پاکستان میں آگ کی طرح پھیل گیا۔ 1970ء کے انتخابات میں پاکستان کے غریب عوام نے سیاسی معجزہ کر دکھایا اور پاکستان پیپلزپارٹی نے روایتی سیاسی برج الٹ کر رکھ دیئے۔ پی پی پی اپنے قیام کے صرف تین سال بعد وفاق، پنجاب اور سندھ میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئی۔ پاکستان کے قیام کے بعد پہلی بار بالغ رائے دہی کی بنیاد پر الیکشن مغربی و مشرقی پاکستان کے عوام کے لئے ایک انوکھا اور بہت خوبصورت تجربہ تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی نئی پارٹی کے ساتھ اپنی الیکشن کمپیئن بہت جاندار انداز میں چلائی، پنجاب اور سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کو ریکارڈ ووٹ ملا، مخالفین نے پی پی پی کو "ہے جمالو" پارٹی کہہ کر پھبتیاں بھی کسیں، مگر بھٹو کا عوامی جمہوری قیادت کا انداز اور سیاسی عمل میں عوام کی براہ راست شرکت و شمولیت نے ووٹر کو متحرک و بیدار کیا۔
1970ء میں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے انتخابات کا اعلان کیا تو آٹھ اکتوبر 1970ء کو پاکستان پیپلز پارٹی کو تلوار کا نشان دیا گیا، جبکہ جماعت اسلامی کو ترازو، مسلم لیگ قیوم کو شیر کا نشان دیا گیا۔ سات دسمبر 1970ء کو مشرقی اور مغربی پاکستان کی تین سو نشستوں پر 1499 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوا تو مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ کو دو کے علاوہ تمام نشستوں پر فتح ملی جبکہ مغربی پاکستان کی 138 میں سے 81 نشستیں پیپلز پارٹی کے نام رہیں۔ سانحہ سقوط مشرقی پاکستان کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کی جماعت کو مغربی پاکستان میں حکومت بنانے کا موقع ملا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستانیوں کے قلب و روح کو متاثر کیا، ان کی شخصیت کا تاثر اور سحر آج اتنے برس بعد بھی لوگوں کے اذہان پر طاری ہے، ان کے اپنے الفاظ ہیں۔ "میں نے اس ملک کے لوگوں کی روح کو متاثر کیا ہے اور اب اس ملک کی تاریخ کبھی وہ نہ رہے، جو میری عدم موجودگی میں ہوتی۔ ایک طویل عرصے تک عوام آزاد سوچ اور شخصی آزادی کے طالب رہیں گے، اب طاقت کے بل بوتے پر ان پر حکومت نہیں کی جا سکے گی۔"
پاکستان کی تاریخ کے پہلے جمہوری منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو ، جنہیں دنیا بھر میں ایک کرشماتی رہنماء مانا جاتا ہے، انہوں نے بے آئین پاکستان کو ایک متفقہ آئین دیا، 1973ء سے 1977ء تک کے دور حکومت میں ذوالفقار علی بھٹو نے عوام کے لئے تاریخی اصلاحات متعارف کروائیں، کامیاب خارجہ پالیسی جس کی وجہ سے ہم آج تک دنیا سے بہتر تعلقات قائم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کی کامیاب خارجہ پالیسی اور سفارت کاری تھی، جس کے نتیجے میں ملک کو متفقہ آئین دیا، بھارت سے شملہ معاہدہ کرکے پائیدار امن کی بنیاد رکھی اور ہزاروں مربع میل رقبہ اور جنگی قیدیوں کو بھارت سے چھڑایا۔ بھٹو کے دور میں پسے ہوئے طبقات کے حقوق کے لئے کئی اقدامات کیے گئے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اسلامی ممالک کے ساتھ مضبوط تعلقات قائم کرتے ہوئے اسلامی کانفرنس کروائی۔ لاہور میں سربراہی کانفرنس اور کمیونسٹ چین اور سوویت یونین کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو فروغ دیا۔
ابتدائی طور پر، ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی۔ بھٹو کی سیاست سماجی جمہوریت، مساوات اور سماجی انصاف کے فروغ پر مرکوز تھی۔ بھٹو نے 1972ء میں لینڈ ریفارمز متعارف کروائیں، جن میں انفرادی ملکیت کو 150 ایکڑ سیراب اور 300 ایکڑ غیر سیراب زمین تک محدود کر دیا گیا۔ بچوں کے لئے تعلیمی سہولیات، طبی نگہداشت، رہائش، ورکرز ویلفیئر فنڈز، رہائش کے اخراجات کی ایڈجسٹمنٹ اور بڑھاپے کی پنشن، لیبر کورٹس کا قیام جیسے اہم معاملات کو باقاعدہ حل کیا۔ خواتین کے قانونی، سیاسی، شہری اور معاشی حقوق کے ذریعے صنفی مساوات کی ضمانت اسے 1973ء کے آئین کا حصہ بنا کر دی گئی تھی: اس میں یہ شامل تھا کہ ”صرف جنس کی بنیاد پر کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا، کہ تمام شہری برابر ہیں۔ قانون اور قانون کے مساوی تحفظ کے حقدار ہیں۔ بھٹو حکومت نے تمام سرکاری اور مسلح افواج میں خواتین کے لیے مواقع کھولے اور اس کے نتیجے میں بہت سی خواتین سول سروس میں شامل ہوئیں۔ قومی اسمبلی کی دس فیصد اور صوبائی اسمبلیوں میں پانچ فیصد نشستیں خواتین نمائندوں کے لیے مختص کی گئیں اور خواتین کی حیثیت سے متعلق پہلا کمیشن بنایا گیا۔
ذوالفقار علی بھٹو کے دور اقتدار کی کہانی بہت پر پیچ اور حیرتوں کا سامان لیے ہوئے بھی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو بظاہر تو عام انسان ہی تھے، لیکن ان کا مزاج اور فیصلے آمرانہ رہے۔ وہ اختلاف رائے کو اپنی توہین تصور کرکے اختلاف کرنے والوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی انتقامی کارروائیوں کی تفصیل بھی بہت طویل ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے جہاں مخالفین کے لہو سے اپنے ہاتھ رنگے، وہاں پیپلز پارٹی کے بانی اراکین اور اپنے دیرینہ ساتھیوں کو بھی نہیں بخشا۔ جے اے رحیم کا شمار پیپلز پارٹی کے بانی ارکان میں ہوتا ہے، انہیں اختلاف کی سزا دینے کے لیے بدنام زمانہ تنظیم ایف ایس ایف کو ہی استعمال کیا گیا۔ جن پر اس قدر تشدد کیا گیا کہ ان کے چہرے اور ناک پر گہرے زخم آئے۔ ملک محمد قاسم، خواجہ خیرالدین، مولانا شیر محمد، ممتاز شاعر حبیب جالب، مولوی سلیم اﷲ، جماعت اسلامی کے رکن مجلس عاملہ رانا نذر الرحمن، میاں محمد یسٰین خان وٹو، بزرگ سیاسی رہنماء سید قسور گردیزی، پروفیسر غفور احمد شامل ہیں۔
بھٹو دور میں ہی دلائی کیمپ کو قومی سطح پر شہرت ملی۔ دلائی کیمپ میں بھی میاں افتخار احمد تاری سمیت درجنوں اپنے اور پارٹی مخالف لوگوں کو بہیمانہ تشدید کا نشانہ بنایا گیا۔ بھٹو نے سات مارچ سنہ 1977ء کو عام انتخابات کروائے۔ آنے والے انتخابی نتائج پر عام پاکستانیوں نے یقین نہیں کیا۔ بھٹو کی پیپلز پارٹی کو قومی اسمبلی کی 200 میں سے 155 نشستیں ملیں جبکہ حزب اختلاف پیپلز نیشنل الائنس کو اس قدر تشہیر کے باوجود صرف 36 نشستیں ملیں۔ سنہ 1970 کے انتخابات میں جب پیپلز پارٹی اپنی مقبولیت کے عروج پر تھی، اس وقت اسے صرف 39 فیصد ووٹ ملے تھے جبکہ اس انتخاب میں ان کا ووٹ 55 فیصد ہوگیا تھا۔ بھٹو کے خلاف حزب اختلاف کی بڑی انتخابی مہم کے باوجود انھیں صرف 39 فیصد ووٹ ملے۔ 1977ء کے عام انتخابات میں ذوالفقار علی بھٹو کی جماعت پی پی پی کا مقابلہ پاکستان قومی اتحاد میں شامل نو سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے اتحاد سے تھا۔
جن میں اس وقت کی تمام بڑی جماعتیں شامل تھیں، جنہوں نے انتخابات میں پیپلز پارٹی پر دھاندلی، جعلی ووٹوں اور حکومتی مشینری کے کردار کے الزامات لگاتے ہوئے ذوالقار علی بھٹو کی کامیابی کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور ان کے خلاف احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کیا تھا۔ اس الیکشن کے نتائج پر سیاسی جماعتوں نے یقین نہیں کیا اور بدترین دھاندلی کے الزامات لگائے گئے اور الیکشن سے محض چار ماہ بعد ہی یعنی جولائی 1977ء میں فوجی آمر جنرل ضیاء نے ملک میں مارشل لا نافذ کر دیا۔ اس دوران ملک ہنگاموں کی زد میں آگیا اور پانچ جولائی 1977ء کو جنرل ضیاء الحق نے بغاوت کرتے ہوئے بھٹو صاحب کی حکومت ختم کردی اور انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ بھٹو صاحب کی معزولی کہ کم و بیش اڑھائی ماہ بعد ستمبر 1977ء کو انہیں نواب محمد احمد خان کے قتل میں گرفتار کر لیا گیا اور 18 مارچ 1978ء کو ہائیکورٹ نے انہیں سزائے موت کا حکم سنایا۔
6 فروری 1979ء کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے ہائیکورٹ کے فیصلے کی توثیق کر دی اور 4 اپریل 1979ء کو انہیں راولپنڈی کی سینٹرل جیل میں تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل پاکستان کے پسے ہوئے لوگوں کی امیدوں کو کچلنے کی ناکام کوشش تھی، کیونکہ بھٹو نے غریب، پسماندہ اور محروم عوام کو سیاسی آواز اور وقار کا احساس دلایا، انہیں یہ احساس دلایا کہ ”طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں۔“ ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک سنگِ میل ضرور ایستادہ کر گیا کہ ہر وہ عوامی جمہوری انداز اختیار کرنے والا سیاسی لیڈر جو عوامی امنگوں کا ترجمانی کرتا ہے اور "اسٹیٹس کو" کو للکارتا ہے، سمجھوتہ نہیں کرتا تو عوام کسی بھی پراپیگنڈے سے متاثر ہوئے بغیر اس پر اعتماد کرتے رہیں گے۔