پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے 10ویں سیزن کیلئے آفیشل ترانہ جاری کردیا گیا ہے۔

اگلے ایڈیشن کے ترانے کیلئے معروف گلوکاروں نے آواز کا جادو جگایا ہے جن میں ابرارالحق، علی ظفر، نتاشا بیگ اور طلحہ انجم شامل ہیں۔

گزشتہ روز پی ایس ایل کے 10ویں ایڈیشن کے گانے کو ریلیز کیا گیا تاہم شائقین کی جانب وہ پذیرائی نہیں ملی۔

مزید پڑھیں: پی ایس ایل10؛ ترانے کیلئے نام فائنل، اعلان ہوگیا

مداحوں کی بڑی تعداد نے پی ایس ایل انتھم کو زیادہ پسند نہیں کیا تاہم گزشتہ 12 گھنٹوں کے دوران فیس بُک پر 10 لاکھ جبکہ یوٹیوب پر محض 3 لاکھ افراد نے گانے کو سُنا ہے، اسکے علاوہ دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وینیوز الگ ہیں۔

مزید پڑھیں: پی ایس ایل10؛ ری پلیسمنٹ ڈرافٹ میں کِس ٹیم نے کِس کو چُنا؟

ادھر کئی فینز نے گلوکار علی ظفر کے ماضی کے ترانوں پھر سیٹی بجے گی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ اس جیسا انتھم دوبارہ نہیں بنایا جاسکتا۔

واضح رہے کہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے دسویں ایڈیشن کا آغاز 11 اپریل سے ہورہا ہے۔ 
 

https://www.

facebook.com/thePSL/videos/9380987855350849/?rdid=4RLZ3pXQwA8iB5VA&share_url=https%3A%2F%2Fwww.facebook.com%2Fshare%2Fr%2F1ZQRQ6GRbv%2F

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پی ایس ایل

پڑھیں:

تحقیق کیلئے انسانی جسموں اور اعضاء کی شدید قلت، سائنسدانوں کا لیبارٹری میں جسم بنانے کا فیصلہ

میڈیکل تحقیق کو انسانی جسموں اور اعضاء کی شدید قلت کا سامنا ہے، لیکن اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے اس مسئلے کا ایک متنازع لیکن ممکنہ حل تجویز کیا ہے۔ ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو میں شائع ہونے والے ایک مضمون کے مطابق، یہ طریقہ تحقیق اور دوا سازی میں انقلابی تبدیلی لا سکتا ہے، جانوروں پر تجربات کی ضرورت کو کم کر سکتا ہے، اعضا کی پیوندکاری کے منتظر مریضوں کے لیے امید کی کرن بن سکتا ہے اور زیادہ مؤثر علاج اور ادویات کی تیاری میں مدد دے سکتا ہے—اور وہ بھی اخلاقی حدود کو پار کیے بغیر۔

یہ تصور سائنس فکشن لگ سکتا ہے، لیکن حالیہ تکنیکی ترقی نے اسے حقیقت کے قریب پہنچا دیا ہے۔ اسٹیم سیلز، جو جسم میں ہر قسم کے خلیات بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، کی مدد سے سائنسدانوں نے ایسے ڈھانچے تیار کیے ہیں جو انسانی جنین کی ابتدائی نشوونما کی مشابہت رکھتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مصنوعی رحم کی ٹیکنالوجی بھی تیزی سے ترقی کر رہی ہے، جو جسم سے باہر انسانی جنین کی نشوونما کا امکان پیدا کر رہی ہے۔

ان ٹیکنالوجیز کے ساتھ جینیاتی تکنیکوں کے استعمال سے دماغی نشوونما کو محدود کرنے کی صلاحیت بھی حاصل ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں ”باڈی اوئیڈز“ یعنی مکمل انسانی جسم تیار کیے جا سکتے ہیں جو جسم سے باہر اسٹیم سیلز سے بنائے جائیں گے، لیکن ان میں شعور یا درد محسوس کرنے کی صلاحیت نہیں ہو گی۔

سائنسدانوں کے مطابق، یہ نئی ایجاد جدید طب میں کئی اخلاقی مسائل کا حل پیش کر سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، باڈی اوئیڈز جانوروں پر تجربات کی ضرورت کو ختم کر سکتے ہیں اور خوراک کی پیداوار میں بھی ایسے ذرائع فراہم کر سکتے ہیں جن میں کسی جاندار کو تکلیف نہ ہو۔

تاہم، جب انسانی باڈی اوئیڈز کی بات آتی ہے، تو اخلاقی مسائل پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔ کئی افراد اس تصور کو خوفناک یا غیر انسانی قرار دے سکتے ہیں، کیونکہ انسانی زندگی کا ہر شکل میں احترام کیا جاتا ہے۔ ہم ان افراد پر وسیع پیمانے پر تحقیق کی اجازت نہیں دیتے جو شعور کھو چکے ہیں یا جنہیں کبھی شعور حاصل ہی نہیں ہوا تھا، اور یہی وجہ ہے کہ اس تحقیق کو شدید بحث و مباحثے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

Post Views: 1

متعلقہ مضامین

  • پی ایس ایل10؛ آن لائن ٹکٹوں کی فروخت کا آغاز ہوگیا، کہاں سے ملیں گے؟
  • پاکستان سپر لیگ 10 کا آفیشل ترانہ جاری.
  • ایک ٹولہ پاکستان کو ڈیفالٹ کرنے کیلئے تمام حدیں پار کر گیا،وزیراعظم شہباز شریف
  • تحقیق کیلئے انسانی جسموں اور اعضاء کی شدید قلت، سائنسدانوں کا لیبارٹری میں جسم بنانے کا فیصلہ
  • ’یہ کس کی شادی کا گانا ریلیز کردیا‘، پی ایس ایل 10 کے اینتھم پر صارفین کے تبصرے
  • جعلی حکومت نے عمران خان پر ظلم وجبر کے تمام حربے آزما لیے لیکن انہیں جھکا نہیں سکے
  • برطانیہ کیلئے کینیڈا اور یورپ کیساتھ "متحدہ محاذ" بنانے کی تجویز
  • دوسرا ون ڈے؛ ٹاپ آرڈر مکمل ناکام، کیویز کے ہاتھوں پاکستان کو شکست
  • عید کی تعطیلات کے بعد افغان مہاجرین کی ملک بدری کا عمل شروع کرنے کا فیصلہ