بھارتی فضائیہ کا لڑاکا طیارہ ’جیگوار‘ گر کر تباہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, April 2025 GMT
بھارتی فضائیہ کا لڑاکا طیارہ ’جیگوار‘ گر کر تباہ ہوگیا، لڑاکا طیارہ ضلع گجرات کے علاقے جام نگر میں گر کر تباہ ہوا۔
بھارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق طیارہ تکنیکی خرابی کے باعث گر کر تباہ ہوا۔
یہ پہلا واقعہ نہیں، بھارتی فضائیہ کے طیارے گرنا روزمرہ کا معمول بن چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیےبھارتی فضائیہ کا طیارہ مشق کے دوران راجستھان میں گر کر تباہ
یاد رہے کہ 2 اپریل 2025 کو بھی بھارتی فضائیہ کا سنگل انجن والا طیارہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر مہسانہ شہر کے قریب اُچارپی گاؤں میں گر کر تباہ ہوگیا تھا۔
صرف یہی نہیں گزشتہ ماہ بھی بھارتی فضائیہ کے ایک دن میں 2 طیارے گر کر تباہ ہوگئے جن میں لڑاکا طیارہ جیگوار شامل تھا۔ نومبر 2024 میں بھی، MiG-29 لڑاکا طیارہ آگرہ، اتر پردیش کے قریب گر کر تباہ ہوا
یہ بھی پڑھیےبھارتی فضائیہ بدحالی کا شکار ایک ہی دن میں 2 طیارے گر کر تباہ
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ طیارہ حادثات بھارتی فضائیہ کی آپریشنل تیاریوں اور حفاظتی معیار پر سنگین سوالات ہیں۔ مودی کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے بھارت کا دفاعی نظام کھوکھلا ہو چکا ہے۔ مودی سرکار کی ناکام پالیسیوں اور کرپشن کے سبب بھارتی فضائیہ ہر گزرتے دن کے ساتھ زوال پذیر ہو رہی ہے۔ مودی سرکار کے دفاع میں بہتری کے وعدے صرف زبانی جمع خرچ کے سوا کچھ نہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی ایئر فورس جیگوار.ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارتی ایئر فورس جیگوار بھارتی فضائیہ کا لڑاکا طیارہ گر کر تباہ کا طیارہ
پڑھیں:
سوشل میڈیا پر زیادہ وقت گزارنا آپکی ذہنی صحت کیلئے تباہ کن، مگر کیسے ؟ جانیں
اگر آپ سوشل میڈیا پر بہت زیادہ وقت گزارنے کے عادی ہیں تو یہ عادت ذہنی صحت کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے۔
سوشل میڈیا سے ذہنی وابستگی سے جوان افراد میں ڈپریشن اور انزائٹی جیسے عام دماغی امراض سے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔یونیورسٹی آف ٹیکساس ساؤتھ ویسٹرن میڈیکل سینٹر کی تحقیق میں ڈپریشن کے شکار 40 فیصد جوان افراد نے سوشل میڈیا کے بہت زیادہ استعمال رپورٹ کیا۔
ان افراد کے مطابق جب وہ سوشل میڈیا استعمال نہیں کرتے تو دنیا سے کٹ جانے، مایوسی یا پریشانی جیسے احساسات کا سامنا ہوتا ہے۔ان نوجوانوں کی جانب سے اسکرینوں کے سامنے زیادہ وقت گزارنے کو بھی رپورٹ کیا گیا جبکہ ڈپریشن کی زیادہ علامات، انزائٹی اور خودکشی کے بارے میں سوچنے جیسے مسائل کو بھی رپورٹ کیا۔محققین نے بتایا کہ کافی عرصے سے یہ خیال ظاہر کیا جا رہا تھا کہ سوشل میڈیا کا بہت زیادہ استعمال جوان افراد کی ذہنی صحت کو متاثر کرتا ہے اور اس کے باعث ہی ان میں خودکشی کے خیالات کی شرح بڑھ رہی ہے مگر اب تک اس کی وجہ کو مکمل طور پر سمجھا نہیں جاسکا تھا۔اس تحقیق میں 8 سے 20 سال کی عمرکے ایسے 489 مریضوں کو شامل کیا گیا تھا جن کا ڈپریشن یا خودکشی سے متعلق رویوں کا علاج ہو رہا تھا۔
محققین نے بتایا کہ یہ کہنا تو مشکل ہے کہ سوشل میڈیا کو کتنے وقت تک استعمال کرنا مناسب ہے کیونکہ ہر فرد مختلف ہوتا ہے مگر ہم نے دیکھا ہے کہ اکثر افراد میں یہ عادت اس وقت مسئلہ بن جاتی ہے جب وہ لت کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ جب سوشل میڈیا کے استعمال کے باعث روزمرہ کے کام اور سرگرمیاں متاثر ہونے لگے تو اس کا مطلب ہے کہ یہ عادت مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔