Islam Times:
2025-04-04@00:13:22 GMT

کچھ باتیں کتاب "معنوی آزادی" کے بارے میں

اشاعت کی تاریخ: 3rd, April 2025 GMT

کچھ باتیں کتاب 'معنوی آزادی' کے بارے میں

اسلام ٹائمز: انکی کتاب میں قرآن و حدیث کے اقتباسات کے علاوہ داستان، شعر، مشرق و مغرب کے دانشمندوں کے نظریات اور ان پر تنقیدی جائزہ سب کچھ ملتا ہے، جو ملالت کا احساس نہیں ہونے دیتا۔ انکی کتابیں محض علمی گھتیاں سلجھانے کیلئے نہیں ہوتیں، بلکہ انکی کوشش ہوتی ہے کہ سماجی مسائل و مشکلات کو علمی انداز سے حل کیا جائے۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی انکی کتاب "معنوی آزادی" ہے۔ دراصل یہ انکی تقاریر کا مجموعہ ہے، جسکو بعد میں کتابی شکل دی گئی ہے۔ جناب سجاد حسین مہدوی اور سید سعید حیدر زیدی صاحب نے اسکا اردو ترجمہ کرنے کی کاوش انجام دی ہے اور دارالثقلین نامی ادارے نے اس کو زیور طباعت سے آراستہ کیا ہے۔ اس کتاب میں انسان کی انفرادی و اجتماعی زندگی کی ایک اہم مشکل کو موضوع سخن قرار دیا گیا ہے۔ تالیف: شہید آیت اللہ مرتضیٰ مطہری
خلاصہ: کاشف رضا

شہید آیت اللہ مرتضیٰ مطہری مذہبی اور انسانی علوم کے اندر کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ وہ قدیم و جدید علوم کے اندر خاص تبحر رکھتے تھے، جن کا اعتراف مشرق و مغرب کے دانشمند کرتے ہیں۔ علم کلام ہو، منطق و فلسفہ ہو، عرفان و معنویت کی ابحاث ہوں یا فقہ و معارف کی گھتیاں، ہر میدان میں وہ مرد قلندر ثابت ہوئے ہیں، جس کی گواہی ان کی کتابیں دیتی ہیں۔ ان کی تقریر ہو یا تصنیف، ہر دو صورت میں ان کا مخاطب کبھی احساس خستگی کا شکار نہیں ہوتا۔ وہ خشک سے خشک تر موضوع کو بھی اس انداز و پیرائے میں بیان کرتے ہیں کہ ہر سن و سال کا شخص بغیر کسی تفریق مذہب و قوم ان کے بیان کردہ معارف سے مستفید ہوتا ہے۔ ان کی کتابوں میں علمی ابحاث خشک رسوماتی انداز میں بیان نہیں ہوتیں، وہ اپنی ابحاث کو فکری سوال میں بدل دینے کے ماہر ہیں اور جواب میں ایک ہی موضوع کی کئی مختلف زاویوں سے جراحی کر دیتے ہیں۔

ان کی کتاب میں قرآن و حدیث کے اقتباسات کے علاوہ داستان، شعر، مشرق و مغرب کے دانشمندوں کے نظریات اور ان پر تنقیدی جائزہ سب کچھ ملتا ہے، جو ملالت کا احساس نہیں ہونے دیتا۔ ان کی کتابیں محض علمی گھتیاں سلجھانے کے لئے نہیں ہوتیں، بلکہ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ سماجی مسائل و مشکلات کو علمی انداز سے حل کیا جائے۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی ان کی کتاب "معنوی آزادی" ہے۔ دراصل یہ ان کی تقاریر کا مجموعہ ہے، جس کو بعد میں کتابی شکل دی گئی ہے۔ جناب سجاد حسین مہدوی اور سید سعید حیدر زیدی صاحب نے اس کا اردو ترجمہ کرنے کی کاوش انجام دی ہے اور دارالثقلین نامی ادارے نے اس کو زیور طباعت سے آراستہ کیا ہے۔ اس کتاب میں انسان کی انفرادی و اجتماعی زندگی کی ایک اہم مشکل کو موضوع سخن قرار دیا گیا ہے۔ آج کی دنیا جہاں مادیت اپنے عروج کو چھو رہی ہے، ہر انسان زیادہ سے زیادہ مادیت جمع کرنے میں لگا ہوا ہے، لیکن اس کے باوجود اپنے اندر ایک کھوکھلا پن محسوس کرتا ہے۔

وہ اس وجہ سے ہے کہ انسان نے مادی اور ظاہری آزادی کے لئے تو جنگیں لڑی ہیں، قتل و کشتار کا بازار گرم کیا ہے، لیکن معنوی اور روحانی آزادی کو سرے سے ہی فراموش کر دیا ہے۔ اس کتاب میں شہید مطہری نے آزادی کی اقسام بیان کرتے ہوئے سماجی و معنوی آزادی پر روشنی ڈالی ہے اور قرآن میں ان کے آپسی تعلق کو خوبصورتی سے بیان کرتے ہوئے انسانی ضمیر کے کردار کو بھی اجاگر کیا ہے۔ انسانی اور حیوانی انانیت کے فرق کو واضح کیا ہے۔ بزرگ روحوں اور بزرگوار روحوں کا تقابل کرنے کے لئے نہج البلاغہ اور حضرت امام حسین کے کلام سے اقتباس کیا ہے۔ بحث کے تسلسل میں قرآنی عقیدے "غیب پر ایمان" کی وضاحت کی ہے۔ غیبی امداد کے قاعدے کو بیان کیا ہے۔ اس کتاب میں ایک اہم بحث "معیار انسانیت" کی ہے، جس کے ذیل میں انسان کامل و انسان ناقص کو بیان کیا گیا ہے۔ معیار انسانیت کے بارے میں پائے جانے والے مختلف نظریات، جیسے کہ "علم، اخلاق و عادات، انسان دوستی، ارادہ، آزادی، فریضہ کی ادائیگی اور زیبائی" پر نقد و تنقید کی گئی ہے۔

کتاب کے آخری حصے میں "مکتب انسانیت" کے بارے میں سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے، جس کے اندر انسان و حیوان کے درمیان بنیادی فرق پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ انسان کی اصالت پر مبنی مکاتب کے اندر موجود تضاد کو واضح کرتے ہوئے آگوست کانٹ کے "دین انسانیت" کا علمی بنیادوں پر تنقیدی جائزہ لیا گیا ہے۔ جس میں شہید نے انسانی زوال کی صدیوں پر محیط تاریخ کو مختصر مگر مفید انداز میں بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ انسان جس نے خود کو اس کائنات میں عظیم اور بلند مقام پر فرض کیا ہوا تھا، وہ خود کو اور زمین کو کائنات کا مرکز و محور گردانتا تھا، وہ تقریباً نیم خدائی کی منزل پر فائز تھا، لیکن پچھلی دو تین صدیوں میں شکوک و شبہات نے پے در پے اس خیال پر کاری ضربیں لگانا شروع کردیں۔

پہلی ضرب یہ تھی کہ زمین نظام شمسی اور کائنات کا مرکز و محور نہیں ہے، لہذا انسان بھی مقصد تخلیق کائنات نہیں۔ دوسری ضرب یہ تھی کہ جو انسان خود کو آسمانی مخلوق سمجھتا تھا، خلیفۃ اللہ اور نفخہ الاہی کا گمان کرتا تھا، نظریہ انواع و ارتقاء کے حیاتیاتی پہلو نے اس کی عمارت کو بھی خدشہ دار کر دیا۔ آخری ضرب یہ لگائی گئی کہ انسانی اقدار، عشق و عقلانیت ان سب کا منشا انسان کے اندر کوئی خدائی یا آسمانی پہلو نہیں بلکہ انسان کا شکم ہے۔ انسان اور باقی حیوانات حتیٰ نباتات میں سوائے ظاہری امتیازات کے کوئی فرق نہیں، انسان بھی ایک مشین مانند چیز ہے، البتہ اس کی پیچیدگیاں باقی مشینوں سے زیادہ ہیں۔ ان سب شبہات کے جواب میں شہید اسلام و قرآن کے اصالت انسانیت و اقدار اور ان کے معیار کو بیان کرتے ہیں۔

.

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: معنوی آزادی اس کتاب میں ان کی کتاب کرتے ہوئے کہ انسان کے اندر گئی ہے کی ایک کیا ہے اور ان گیا ہے

پڑھیں:

محسن اعظم ﷺ کا خُلق عظیم

سرور کائنات، امام الانبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ اپنے دوستوں کی دل جوئی کا خیال رکھتے تھے، غزوہ حنین کے بعد جب مالِ غنیمت کی تقسیم کے سلسلے میں انصار میں سے بعض نوجوانوں کو شکوہ پیدا ہُوا تو آپؐ نے ان کو الگ جمع کیا اور ایسا اثر انگیز خطبہ دیا کہ ان کی داڑھیاں آنسوؤں سے تر ہوگئیں۔

آپؐ نے اس موقع پر جہاں انصار مدینہ پر اسلام کے احسانات کا ذکر فرمایا، وہیں انصار کے احسانات کا بھی کھلے دل سے اعتراف فرمایا اور آخر میں ارشاد فرمایا، مفہوم: ’’کیا تمہیں یہ بات پسند نہیں ہے کہ لوگ بکریاں اور اونٹ لے کر جائیں اور تم نبی (ﷺ) کو اپنے کجاوہ میں لے کر جاؤ۔۔۔؟ اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار ہی میں پیدا ہُوا ہوتا، اگر لوگ ایک وادی میں چلیں تو میں اس وادی میں چلوں گا، جس میں انصار چلیں، میرے لیے انصار کی حیثیت اس لباس کی سی ہے، جو اوپر سے پہنا جاتا ہے۔‘‘ (بخاری)

نبی کریم ﷺ ا پنے صحابہ کرامؓ کی ضرورتوں کا پورا خیال رکھتے۔ ایک صحابیؓ کی کھجوروں کی فصل خراب ہوگئی اور ان پر بہت سارا قرض ہوگیا۔ آپؐ نے اپنے رفقاء سے فرمایا: ’’ان کی مدد کرو۔‘‘ لوگوں نے مدد کی لیکن قرض ادا نہیں ہو پایا۔ آپؐ نے ان کے قرض خواہوں سے کہا: ’’جو موجود ہو، وہ لے لو ، اور تم کو صرف اسی کا حق حاصل ہے۔‘‘ (مسلم)

حضور اکرم ﷺ کے رفقاء میں سے کسی کو تکلیف دہ بات پیش آئی تو ان کی تسلی اور دل جوئی کا پورا اہتمام فرماتے۔ ایک صاحب اپنے چھوٹے بچے کو لے کر خدمتِ اقدس میں حاضر ہُوا کرتے تھے۔ اس بچے کو آپؐ اپنے سامنے بٹھا لیا کرتے، بچے کا انتقال ہوگیا، اس صدمے سے ان کے والد حاضر نہ ہوسکے۔

 آپؐ کو معلوم نہیں تھا، ان کے بارے میں دریافت کیا، بتایا گیا کہ ان کے صاحب زادے کا انتقال ہوگیا ہے۔ آپؐ نے ان سے ملاقات کی، ان کے بچے کے بارے میں دریافت فرمایا اور تعزیت کی پھر آپؐ نے فرمایا: ’’تمہیں یہ بات زیادہ محبوب ہے کہ وہ تمہارے ساتھ زندگی گزارتا، یا یہ بات کہ تم جنّت کے کسی دروازے پر آؤ اور تم دیکھو کہ وہ تم سے پہلے پہنچ چکا ہے اور تمہارے لیے دروازہ کھول رہا ہے۔؟‘‘ انہوں نے عرض کیا: یہ دوسری بات مجھے زیادہ محبوب ہے۔ آپؐ نے فرمایا: ’’یہ چیز تم کو حاصل ہوگئی۔‘‘ صحابہؓ نے عرض کیا: یہ صرف ان کے لیے ہے یا سبھی کے لیے۔ آپؐ نے فرمایا: ’’سبھی کے لیے۔‘‘(نسائی، باب فی التعزیۃ)

نبی کریم ﷺ مشکل امور میں بھی صحابہؓ کے ساتھ شریک رہتے، غزوۂ خندق کے موقع پر سرد موسم تھا، صحابہؓ بھوکے پیاسے خندق کھودنے میں مشغول تھے اور تھک کر چُور ہوجاتے تھے، ایسے وقت آپؐ تشریف لاتے اور فرماتے، مفہوم: ’’اے اﷲ! عیش و آرام تو آخرت ہی کا عیش و آرام ہے۔ اس لیے انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما دیجیے۔‘‘ (بخاری، کتاب المغازی) لوگ جواب میں کہتے: ہم نے آخری دم تک کے لیے جہاد پر (محمد ﷺ) سے بیعت کی ہے۔ (بخاری)

ایک مرتبہ اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ سفر پر تھے چناں چہ ایک بکرے کو ذبح کرنے کی بات طے پائی۔ ایک صحابیؓ نے کہا: اس کو ذبح کرنا میرے ذمے ہے۔ دوسرے نے کہا: اس کی کھال نکالنے کا کام میں کروں گا۔ تیسرے نے کہا: میں اسے پکاؤ ں گا۔ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا: میں ایندھن کی لکڑیاں جمع کروں گا۔

صحابہؓ نے عرض کیا: آپؐ کا کام ہم کردیں گے۔ آپؐ نے ارشاد فرمایا: مجھے معلوم ہے کہ تم لوگ میری طرف سے کفایت کردو گے، لیکن مجھے پسند نہیں ہے کہ میں تم لوگوں کے مقابل میں امتیاز اور بڑائی اختیار کروں، اﷲ تعالی اپنے بندوں میں سے ایسے شخص کو پسند نہیں کرتے ہیں، جو اپنے ساتھیوں میں بڑے بنتے ہوں۔ (کشف الخفاء) نبی کریم ﷺ اپنے رفقاء کے ساتھ اس طرح رہتے تھے کہ گویا آپؐ ان ہی میں سے ایک ہیں۔

حضرت انس ؓسے روایت ہے کہ آپ ﷺ انصار کے یہاں تشریف لے جاتے تھے، ان کے بچوں کو سلام کرتے تھے، بچوں کے سر پر ہاتھ پھیرتے تھے اور انہیں دعائیں دیتے تھے۔ (بیہقی)

حضرت سہل بن حنیف ؓسے روایت ہے کہ آپ ﷺ مسلمانوں میں سے مفلس لوگوں کے پاس تشریف لاتے تھے، ان سے ملاقات کرتے تھے، ان کے بیماروں کی عیادت فرماتے تھے اور ان کے جنازوں میں شریک ہوتے تھے۔ (مستدرک حاکم)

حضرت عبد اﷲ ابن ابی اوفیؓ نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ کو بیواؤں اور مسکینوں کے لیے چلنے اور ان کی ضرورت پوری کرنے میں کوئی عار نہیں ہوتا تھا۔ (نسائی)

بہت سے لوگ جو دیہاتوں کے رہنے والے تھے، عام طور پر تہذیب ناآشنا ہوتے تھے لیکن آپؐ ان کی باتوں کو بھی خندہ پیشانی سے سہہ جاتے تھے۔ ایک موقع پر ایک دیہاتی نے اس زور سے چادر مبارک کھینچ دی کہ گردن مبارک پر نشان پڑگیا۔ آپؐ نے صرف اس قدر فرمایا کہ تم اسے بھلے طریقہ پر بھی تو کہہ سکتے تھے۔ (بخاری)

حضور اکرم ﷺ اپنے رفقاء کے ساتھ ناصرف مالی جہت سے حسن سلوک کرتے تھے بلکہ ان کو مشورے میں بھی شامل رکھتے تھے۔ حالاں کہ آپؐ کا ہر عمل وحی الٰہی پر مبنی ہوتا تھا اس لیے آپؐ کو مشورے کی ضرورت نہیں تھی لیکن اپنے ساتھیوں کی دل جوئی اور مشورے کی اہمیت کو واضح کرنے کے لیے آپ ﷺ مشورہ فرمایا کرتے تھے اور کثرت سے اپنے ساتھیوں سے کہتے تھے: اے لوگو! مجھے مشورہ دو! (مسلم) چناں چہ غزوۂ خندق کے موقع پر خندق کھودنے کا فیصلہ حضرت سلمان فارسیؓ کے مشورے سے ہُوا بل کہ ایسا بھی ہوتا تھا کہ آپ ﷺ بعض اوقات اپنی رائے پر اپنے رفقاء کی رائے کو ترجیح دیتے تھے، جیسا کہ غزوۂ احد میں ہُوا۔ (سیرۃ ابن ہشام) حالاں کہ بعد کے حالات نے ثابت کیا کہ آپؐ ہی کی رائے درست تھی لیکن کبھی آپؐ نے ان ساتھیوں پر کوئی نکیر نہیں فرمائی، جن کے مشورے پر عمل کیا گیا تھا اور جو بہ ظاہر مسلمانوں کے لیے نقصان کا سبب ہوا۔

جہاں آپؐ اپنے رفقاء کی مادی ضرورتوں کا اور دل جوئی و حسن سلوک کا خیال رکھتے تھے، وہیں ان کی دینی تربیت پر بھی متوجہ رہتے تھے، آپؐ نے ایک صاحب کو جلدی جلدی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، پوری توجہ سے ان کی نماز کا جائزہ لیا اور پھر ان کو اعتدال و میانہ روی کے ساتھ نماز پڑھنے کی تلقین کی۔ (مسلم ، کتاب الصلوۃ)

ایک موقع پر اپنے رفقاء سے فرمایا: جس طرح مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو ، اسی طرح نماز پڑھا کرو۔

 ( بخاری، باب رحمۃ الناس و البھائم)

دینی تربیت ہی کا ایک پہلو یہ ہے کہ آپ ﷺ اپنی تمام تر نرمی، رحم دلی، تواضع اور خوش اخلاقی کے باوجود احکام شریعت کے معاملے میں سختی سے کام لیتے تھے۔

آپ ﷺ حضرت اسامہ بن زیدؓ کو بہت چاہتے تھے، عرب کے ایک معزز قبیلے کی ایک خاتون نے چوری کرلی تھی اور اس پر شرعی سزا جاری کرنے کا مسئلہ تھا، حضرت اسامہؓ نے اس کے حق میں سفارش کی، تو آپؐ کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ آپؐ نے ناصرف ان کی تنبیہ کی بلکہ اس موقع سے خطبہ بھی ارشاد فرمایا، مفہوم: ’’گزشتہ قومیں اسی بنیاد پر ہلاک کر دی گئیں کہ ان میں کوئی معزز آدمی چوری کرتا تو لوگ انہیں چھوڑ دیتے اور کوئی معمولی آدمی چوری کرتا تو اس پر سزا جاری کرتے، خدا کی قسم ! اگر فاطمہؓ بنت محمدؐ بھی چوری کرتیں تو اس کے بھی ہاتھ کاٹے جاتے۔‘‘ (بخاری ، باب حدیث الغار)

نبی کریم ﷺ اس بات کا بھی خیال رکھتے کہ اگر اپنے رفقاء کے درمیان کوئی رنجش پیدا ہوجائے تو اسے دور فرما دیں۔ اسی طرح نبی کریم ﷺ نے بعض صحابہؓ کے درمیان مہاجرین و انصار کے درمیان اور انصار کے دو قبائل اوس و خزرج کے درمیان اختلاف کو دور کرنے کی کام یاب کوشش کی اور میل ملاپ کے ماحول کو باقی رکھنے کا سبق دیا۔ اپنے احباب کے ساتھ حسن سلوک کا نتیجہ تھا کہ ہر صحابیؓ کا دل آپؐ کی محبت سے لبریز ہوتا۔ رسول اﷲ ﷺ کی ذات والا صفات اپنے دوستوں، بے تکلف ساتھیوں، ہم عمر اور رفقائے کار کے ساتھ خوش گوار برتاؤ کی ایک بہترین مثال ہیں۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اپنے پیارے نبی ﷺ کی زندگی سے سبق حاصل کریں۔

اﷲ تعالی ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

متعلقہ مضامین

  • محسن اعظم ﷺ کا خُلق عظیم
  • انسان تو انسان پینگوئنز بھی ٹرمپ کے ٹیرف سے محفوظ نہیں
  • اگر الطاف حسین میرے مؤقف کی حمایت کرتے ہیں تو مجھے سپورٹ کریں، آفاق احمد
  • عمران خان کو عید کی نماز نہیں پڑھنے دے گئی، کیسے اسلامی ملک میں رہ رہے ہیں ؟ عمر ایوب
  • بدترین شکستوں پر چیئرمین پی سی بی سے استعفیٰ مانگ لیا، مگر کس نے؟
  • واپڈا کی آبی ذخائرمیں پانی کی آمدو اخراج کے اعدادوشمار بارے رپورٹ
  • بجلی کی قیمتوں بارے وزیراعظم آج اہم اعلان کرینگے
  • بجلی کی قیمتوں بارے وزیراعظم کے اعلان کا انتظار کر رہے ہیں: حافظ نعیم الرحمان
  • اقتدار سے نکالے جانے پر احتجاج کرنے والے بلوچستان کے ایشوز پر احتجاج نہیں کرتے، اختر مینگل