بچوں کے جنسی استحصال پر مبنی لاکھوں صارفین والا آن لائن پلیٹ فارم کیسے بند کروایا گیا؟
اشاعت کی تاریخ: 3rd, April 2025 GMT
غیر ملکی میڈیا کے مطابق یورپین پولیس کے تفتیش کاروں نے ایک بہت بڑے آن لائن پیڈوفائل نیٹ ورک کڈ فلکس کے خلاف کریک ڈاؤن کرتے ہوئے اس پلیٹ فارم کو آف لائن کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایف آئی اے کے ہاتھوں چائلڈ پورنوگرافی، جنسی ہراسگی اور فراڈ کے ملزمان گرفتار
یورو پول نے بتایا ہے کہ 31 ممالک کے تفتیش کاروں نے مل کر دنیا بھر میں تقریباﹰ 18 لاکھ صارفین والے ایک بہت بڑے آن لائن پیڈو فائل نیٹ ورک کو بند کر دیا ہے۔ یوروپول نے مزید بتایا کہ اس گھناؤنے جرم میں ملوث 79 افراد کی گرفتاریاں عمل میں لائی گئی ہیں۔
اس کارروائی کی قیادت جرمنی کی جنوبی ریاست باویریا کے فوجداری پولیس آفس نے کی۔ کم سن بچوں کے جنسی استحصال پر مبنی Kidflix نامی اس آن لائن پلیٹ فارم کو آف لائن کر دیا گیا ہے۔ یوں ڈارک نیٹ پر 18 لاکھ صارفین پر مشتمل چائلڈ پورنوگرافی کا یہ پلیٹ فارم اب مؤثر طور پر بند کر دیا گیا ہے۔
بچوں کے جنسی استحصال کے خلاف وسیع پیمانے پر کارروائییوروپول کے مطابق Kidflix دنیا بھر میں پائے جانے والے آن لائن پیڈو فائل کے سب سے بڑے پلیٹ فارمز میں سے ایک تھا۔ اس کے خلاف کیا جانے والا کریک ڈاؤن یورپ ایکٹ کے تحت بچوں کے جنسی استحصال کے خلاف کی جانے والی اب تک کی سب سے بڑی کارروائی ہے۔
اطلاعات کے مطابق تقریباً 1400 مشتبہ افراد کی سرگرمیوں کے ذریعے دنیا بھر میں چلائے جانے والے اس پلیٹ فارم کے سرورز پر ہزاروں ویڈیوز موجود تھیں۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت دُنیا بھر کی خواتین سیاستدان، اداکارائیں فحش ویب سائٹ کا شکار
اس جرم میں ملوث دنیا بھر سے تقریباً 1400 مشتبہ افراد کی شناخت ہو چکی ہے اور اس سلسلے میں گرفتار کیے گئے 79 افراد پر نہ صرف بچوں کے جنسی استحصال کی ویڈیوز دیکھنے یا ڈاؤن لوڈ کرنے کا الزام ہے بلکہ ان میں سے کچھ کے بارے میں بچوں کے ساتھ فعال بدسلوکی اور ان کے جنسی استحصال کا شبہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
تحقیقات کا آغازڈارک نیٹ پر چائلڈ پورنوگرافی کے اس پلیٹ فارم کے خلاف تحقیقات کا آغاز سنہ 2022 میں ہوا تھا۔ دریں اثنا رواں برس 10 سے 23 مارچ تک تفتیش کاروں تک رسائی حاصل کی گئی۔
اطلاعات کے مطابق ہزاروں الیکٹرانک ڈیوائسز اور مجموعی طور پر 91 ہزار سے زائد ویڈیوز ضبط کر لی گئی ہیں۔
یوروپول کے مطابق سائبر کرمنلز کی طرف سے قائم کردہ اس پلیٹ فارم (کڈفلکس) کے خلاف پہلی مرتبہ سنہ 2021 میں کارروائی کی گئی تھی۔ اس کے بعد یہ مبینہ طور پر یہ پیڈو فائلز کے لیے مقبول ترین پلیٹ فارمز میں سے ایک بن گیا تھا۔ Kidflix کے ذریعے صارفین فیس کی ادائیگی کر کے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور ان کے جنسی استحصال کے بارے میں ویڈیوز کی ڈاؤن لوڈ اور لائیو اسٹریم بھی کر سکتے تھے۔
کئی برسوں کا تعاقبجرمن صوبے باویریا کے تفتیش کاروں نے کئی سال سے اس نیٹ ورک کی سرگرمیوں کی تحقیقات کا سلسلہ جاری رکھا ہوا تھا۔ آخر کار میونخ میں باویرین اسٹیٹ کریمنل پولیس آفس اور بامبرگ پبلک پراسیکیوٹر آفس نے بدھ کو اعلان کیا کہ ڈارک نیٹ پر بچوں کے ساتھ بدسلوکی کی ویڈیوز کا ایک بہت بڑا اسٹریمنگ پلیٹ فارم ختم کر دیا گیا ہے۔
یوروپول کا مرکزی کرداررپورٹ کے مطابق اس کریک ڈاؤن میں 31 ریاستوں میں مختلف مقامات پر چھاپے مارے گئے اور تلاشی کی کارروائیاں کی گئیں اور تقریباً 1400 مشتبہ افراد کی شناخت کی گئی۔
یوروپول نے اس آپریشن کے رابطہ کار کی ذمہ داری سنبھالی۔ جرمنی میں 103 مشتبہ افراد سے تفتیش کی جا رہی ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ اس پلیٹ فارم کے صارفین کے لیے 91 ہزار سے زیادہ آن لائن ویڈیوز دستیاب تھیں اور فی گھنٹہ اوسطاً ساڑھے 3 نئی ویڈیوز اپ لوڈ کی جاتی تھیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چائلڈ پورن ڈارک ویب فحش آن لائن پلیٹ فارم فحش ویب سائٹ بند کڈفلکس یوروپول.ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ڈارک ویب فحش ا ن لائن پلیٹ فارم فحش ویب سائٹ بند بچوں کے جنسی استحصال اس پلیٹ فارم مشتبہ افراد تفتیش کاروں دنیا بھر کے مطابق افراد کی ا ن لائن کے خلاف کر دیا کی گئی گیا ہے
پڑھیں:
بیمار ماں کو باپ کے ساتھ اسپتال لانے والا 5 سالہ بچہ کرنٹ لگنے سے جاں بحق
لاہور:لاہور: گورنمنٹ شاہدرہ ٹیچنگ اسپتال میں کرنٹ لگنے سے پانچ سالہ بچہ جاں بحق ہوگیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق شیر خان نامی شہری اپنی بیوی کی طبیعت خراب ہونے پر دوائی لینے بچہ کے ساتھ اسپتال آیا، رش ہونے کی وجہ سے شہری اپنے بچے کے ساتھ اسپتال کے پارک میں بیٹھ کر انتظار کرنے لگا۔
اس دوران بچہ کھیلتا ہوا کھمبے کے پاس گیا تو وہاں پر اُسے کرنٹ نے پکڑ لیا اور وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔ پولیس کے مطابق متوفی کی شناخت بلال کے نام سے ہوئی ہے۔
بچے کی اچانک موت پر اہل خانہ مشتعل ہوئے اور انہوں نے اسپتال میں انتظامیہ کے خلاف احتجاج کیا جس پر پولیس نے بھاری نفری نے موقع پر پہنچ کر اُن سے مذاکرات کیے اور ورثا کو منتشر کردیا۔
پولیس کے مطابق ورثا کی درخواست پر قانونی کاروائی عمل میں لائی جارہی ہے۔