کشمور: کسٹم چیک پوسٹ پر ڈاکوؤں کا حملہ، انسپکٹر سمیت تین افراد اغوا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, April 2025 GMT
فائل فوٹو
کشمور میں انڈس ہائی وے پر قائم کسٹم چیک پوسٹ پر ڈاکوؤں نے حملہ کرکے کسٹم انسپکٹر سمیت تین افراد کو اغوا کر لیا۔
پولیس کے مطابق یاسین ماچھی گینگ کسٹم انسپکٹر راشد سومرو، اہلکار وزیر احمد اور باورچی رفیق چاچڑ کو اغوا کرکے لے گئے oiN.
ڈاکوؤں کی جاری کردہ ویڈیو میں مغوی اہلکار حکومت سے اپیل کررہا ہے کہ ڈاکوؤں کے گرفتار رشتہ دار رہا کئے جائیں، ورنہ انہیں قتل کردیا جائے گا۔
.ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
مارچ 2025 میں دہشتگردوں کے حملوں کی تعداد 11 سال بعد پہلی بار 100 سے متجاوز
پاکستان انسٹیٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (پی آئی سی ایس ایس) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2025 میں ملک میں تشدد اور سیکیورٹی آپریشنز میں تیزی آئی، اور نومبر 2014 کے بعد پہلی بار دہشتگردوں کے حملوں کی تعداد 100 سے تجاوز کر گئی۔
نجی اخبار کی رپورٹ کے مطابق تھنک ٹینک نے مارچ کے مہینے کے دوران 105 حملوں کی اطلاع دی، جس کے نتیجے میں 228 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 73 سیکیورٹی اہلکار، 67 شہری شامل ہیں، جب کہ 88 دہشتگرد بھی مارے گئے، مزید برآں، 258 افراد زخمی ہوئے، جن میں 129 سیکیورٹی اہلکار اور اتنی ہی تعداد میں عام شہری شامل ہیں۔
سیکیورٹی فورسز نے انسداد دہشتگردی کی کارروائیان بھی تیز کیں، جس کے نتیجے میں 83 دہشتگرد ہلاک، 13 سیکیورٹی اہلکار اور 11 عام شہریوں سمیت 107 افراد جاں بحق ہوئے، جب کہ 31 دیگر زخمی ہوئے، جن میں 9 سیکیورٹی اہلکار اور 4 دہشتگرد شامل ہیں۔
مجموعی طور پر دہشتگردوں کے حملوں اور سیکیورٹی آپریشنز میں 335 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 86 سیکیورٹی اہلکار، 78 عام شہری اور 171 عسکریت پسند شامل ہیں۔
عسکریت پسندی کے ڈیٹا بیس (ایم ڈی) کے مطابق، مارچ 2025 میں اگست 2015 کے بعد سے مجموعی طور پر سب سے زیادہ ہلاکتیں ریکارڈ کی گئیں، جنوری 2023 کے بعد سے اسی مہینے میں سیکیورٹی فورسز کی ہلاکتوں کی سب سے زیادہ تعداد بھی دیکھی گئی، جب 114 اہلکار اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
جنوری 2023 کے بعد گزشتہ ایک دہائی میں یہ ملک کی سیکیورٹی فورسز کے لیے دوسرا مہلک ترین مہینہ تھا۔
خودکش حملوں میں اضافہ
مارچ کے مہینے میں 6 خودکش دھماکے ہوئے، جو حالیہ برسوں میں ایک مہینے میں سب سے زیادہ ہیں، ان حملوں کے نتیجے میں 59 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 15 عام شہری، 11 سیکیورٹی اہلکار شامل ہیں، جبکہ 33 عسکریت پسند بھی جہنم واصل ہوئے، ان واقعات میں 94 افراد زخمی ہوئے، جن میں 56 سیکیورٹی اہلکار اور 38 عام شہری شامل تھے۔
ان میں سے 3 خود کش حملے بلوچستان میں، 2 خیبر پختونخوا (کے پی) میں اور ایک سابقہ فاٹا میں ہوا، جو اب کے پی کے قبائلی اضلاع کا حصہ ہے۔
سب سے زیادہ متاثرہ صوبے
بلوچستان اور خیبر پختونخوا سب سے زیادہ متاثر ہونے والے صوبے رہے، سب سے قابل ذکر واقعات میں سے ایک 11 مارچ کو بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) بشیر زیب گروپ کی جانب سے جعفر ایکسپریس کو ہائی جیک کرنا تھا، جس کے نتیجے میں کم از کم 26 یرغمالی جاں بحق اور 33 دہشتگرد ہلاک ہوئے۔
صوبے میں ہونے والے 3 خودکش حملوں میں سے ایک، گاڑی میں ہوا، مبینہ طور پر بی ایل اے ہربیار مری گروپ (بی ایل اے آزاد) سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون خودکش بمبار نے یہ حملہ کیا، جب کہ دوسرے حملے کی ذمہ داری بی ایل اے بشیر زیب گروپ نے قبول کی، بی این پی مینگل کی ریلی کو نشانہ بناتے ہوئے مشتبہ خودکش حملے کا دعویٰ تاحال کسی گروہ نے نہیں کیا۔
مجموعی طور پر بلوچستان میں دہشتگردوں کے حملوں اور سیکیورٹی آپریشنز میں کم از کم 122 ہلاکتیں ہوئیں، جن میں 40 عام شہری، 37 سیکیورٹی اہلکار جاں بحق ہوئے، اور 45 دہشتگرد بھی مارے گئے۔
مزید برآں، ان واقعات میں 148 افراد زخمی ہوئے، جن میں 79 شہری اور 69 سیکیورٹی اہلکار شامل ہیں، سیکیورٹی فورسز نے کم از کم 8 مشتبہ دہشتگردوں کو گرفتار کیا، جب کہ دہشتگردوں نے مبینہ طور پر 11 افراد کو اغوا کیا۔
کے پی میں کم از کم 206 افراد مارے گئے، جن میں 49 سیکیورٹی اہلکار، 34 عام شہری جاں بحق اور 123 دہشتگرد ہلاک ہوئے، جب کہ 115 افراد زخمی بھی ہوئے، جن میں 63 سیکیورٹی اہلکار اور 49 عام شہری شامل ہیں۔
صوبہ کے پی میں 124 ہلاکتیں ریکارڈ کی گئیں، جن میں 32 عام شہری، 30 سیکیورٹی اہلکار اور 62 دہشتگرد شامل ہیں، جب کہ 65 افراد زخمی ہوئے، قبائلی اضلاع (جو سابقہ فاٹا تھے) میں 82 ہلاکتیں ہوئیں، جن میں 19 سیکیورٹی اہلکار، دو عام شہری جاں بحق اور 61 دہشتگرد مارے گئے، اس مہینے کے دوران کے پی میں 123 عسکریت پسندوں کی ہلاکت کے ساتھ سیکورٹی کارروائیوں میں نمایاں تیزی ریکارڈ کی گئی۔
پنجاب میں گرفتاریاں
پنجاب میں عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جہاں کم از کم 7 حملے ریکارڈ کیے گئے، جن میں سے زیادہ تر کا تعلق تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے تھا۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک دہائی کے دوران پنجاب میں ایک ماہ میں دہشتگردوں کے یہ سب سے زیادہ حملے ہیں، ان میں سے 6 حملے ڈیرہ غازی خان میں ہوئے، جہاں ٹی ٹی پی کے پی کی سرحد پر اپنی موجودگی بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے، صوبے میں 6 ہلاکتیں ہوئیں جن میں 3 عام شہری جاں بحق ہوئے، اور 3 شدت پسند بھی مارے گئے۔
دہشتگردی کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر سیکورٹی فورسز نے پنجاب میں اپنی کارروائیاں تیز کیں، کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے ٹی ٹی پی سمیت مختلف عسکریت پسند گروہوں سے تعلق رکھنے والے کم از کم 22 افراد کو گرفتار کیا، یہ تمام گرفتاریاں لاہور میں ہوئیں۔
سندھ میں کم شدت کے 3 حملے
سندھ میں مارچ میں کم شدت کے 3 حملے ہوئے, جن کے نتیجے میں ایک شہری ہلاک اور 6 سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 7 افراد زخمی ہوئے, ایک حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے قبول کی تھی, جس میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما کو نشانہ بنایا گیا تھا, جب کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) نے پولیس اسٹیشن پر حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
اسلام آباد، گلگت بلتستان یا آزاد جموں و کشمیر میں کسی عسکریت پسند حملے کی اطلاع نہیں ملی, تاہم سیکیورٹی فورسز نے آزاد کشمیر میں ٹی ٹی پی کے ایک عسکریت پسند کو گرفتار کر کے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
Post Views: 1