خیبرپختونخوا کے عوام نے دہشت گردی کیخلاف بہادری کا مظاہرہ کیا، آرمی چیف
اشاعت کی تاریخ: 3rd, April 2025 GMT
جنرل سید عاصم منیر نے مغربی سرحد پر تعینات افسروں اور اہلکاروں کے ساتھ عید الفطر منائی
پاک فوج کے جوانوں کا عزم اور قربانیاں پاکستان سے گہری محبت کی بھی عکاسی کرتی ہے
آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے بھی ہمیشہ دہشت گردی کی لعنت کے خلاف بہادری کا مظاہرہ کیا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے خیبرپختونخوا کے ضلع جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا اور ڈیرہ اسمٰعیل خان کے علاقے چہکان کا دورہ کیا۔ترجمان پاک فوج نے کہاکہ جنرل سید عاصم منیر نے مغربی سرحد پر تعینات افسروں اور اہلکاروں کے ساتھ عید الفطر منائی جبکہ نوجوانوں کے ساتھ نماز عید ادا کی اور پاکستان کے استحکام اور خوشحالی کے لیے دعا کی۔آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف پاک فوج کے جوانوں کو عید الفطر کی مبارکباد دی اور قوم کے لیے ان کی غیر متزلزل لگن اور قوم کی مثالی خدمت کو سراہا۔پاک فوج کے سربراہ نے کہا کہ آپ کا عزم اور قربانیاں نہ صرف ہمارے وطن کو محفوظ بناتی ہے بلکہ یہ قربانیاں پاکستان سے آپ کی گہری محبت کی بھی عکاسی کرتی ہے۔جنرل عاصم منیر نے مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملکی دفاع کے لیے فوجی جوانوں کا عزم قابل فخر ہے ۔ انہوںنے کہاکہ خیبر پختونخوا کے عوام نے بھی ہمیشہ دہشت گردی کی لعنت کے خلاف بہادری کا مظاہرہ کیا ہے۔آرمی چیف نے جوانوں کی انتھک کاوشوں کا اعتراف کیا اور شہدا کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ امن واستحکام کے لیے شہدا کی قربانیاں ہماری کامیابیوں کی بنیاد ہے۔
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: پاک فوج کے ا رمی چیف کے لیے
پڑھیں:
مودی کے برسر اقتدار آنے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی میں تیز ی سے اضافہ ہوا
مقبوضہ کشمیر میں روزانہ کی بنیاد پر تلاشی اور محاصرے کی کارروائیاں، چھاپے، قتل عام، گرفتاریاں اور دیگر ظلم و تشدد کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں نریندر مودی کے برسر اقتدار آنے کے بعد سے غیر قانونی طور پر زیر قبضہ جموں و کشمیر میں ریاستی دہشت گردی میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ذرائع کے مطابق بھارت نے کشمیریوں کی حق پر مبنی جدوجہد آزادی کو کچلنے ریاستی دہشت گردی میں کئی گنا اضافہ اور ان پر ظلم و تشدد کا سلسلہ مزید تیز کر دیا ہے۔ مقبوضہ علاقے میں کشمیریوں کی مذہبی آزادی سمیت تمام بنیادی حقوق سلب ہیں اور کشمیریوں کو سرینگر میں جامع مسجد اور عیدگاہ میں نماز عید ادا کرنے کی بھی اجازت نہیں دی گئی۔ 5 اگست 2019ء سے، تاریخی جامع مسجد سرینگر کو بار بار لاک ڈائون اور نمازوں کی ادائیگی پر پابندی عائد کی جا رہی ہے۔مقبوضہ کشمیر میں روزانہ کی بنیاد پر تلاشی اور محاصرے کی کارروائیاں، چھاپے، قتل عام، گرفتاریاں اور دیگر ظلم و تشدد کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ 5 اگست 2019ء سے اب تک بھارتی فوجی 980 سے زائد کشمیریوں کو شہید کر چکے ہیں اور حریت رہنمائوں اور کارکنوں سمیت 5 ہزار سے زائد کشمیری بھارتی جیلوں میں قید ہیں۔ فسطائی مودی حکومت مقبوضہ کشمیر میں اپنے ہندوتوا ایجنڈے کو آگے بڑھا رہی ہے۔ تاہم مودی حکومت تمام تر مظالم کے باوجود کشمیریوں کے جذبہ حریت کو کمزور نہیں کر سکے گی۔