پی ٹی آئی سمیت ہر جماعت سے بات کرنے کو تیار ہیں،وفاقی وزیر
اشاعت کی تاریخ: 3rd, April 2025 GMT
مولانا فضل الرحمن زیرک سیاستدان ہیں اور وہ کسی انتشار کا حصہ نہیں بنیں گے
پی ٹی آئی چاہے تو قومی اسمبلی کا سیکیورٹی اجلاس دوبارہ بلا سکتے ہیں، رانا تنویر
وفاقی وزیر دفاعی پیداوار رانا تنویر حسین کا کہنا ہے کہ ملک میں سیاسی استحکام کے لیے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سمیت ہر جماعت سے بات کرنے کو تیار ہیں، پی ٹی آئی چاہے تو قومی اسمبلی کی سیکیورٹی کمیٹی کا اجلاس دوبارہ بلا سکتے ہیں۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا تنویر نے کہا کہ ہم جمہوری لوگ ہیں اس لیے پی ٹی آئی سمیت ہر جماعت سے بات کرنے کو تیار ہیں، جبکہ سیاسی استحکام آجائے تو پاکستان بہت ترقی کرے گا۔انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کہتے ہیں کہ حکومت سے نہیں اسٹیبلشمنٹ سے بات ہوگی، اسٹیبلشمنٹ کئی بار کہہ چکی ہے سیاسی لوگوں سے بات کریں۔انہوںنے کہاکہ پی ٹی آئی چاہے تو قومی اسمبلی کی سیکیورٹی کمیٹی کا اجلاس دوبارہ بلا سکتے ہیں، پی ٹی آئی نے پہلے بھی 14 نام دے کر سیکیورٹی کمیٹی میں شرکت نہ کی۔ایک سوال پر رانا تنویر حسین نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن زیرک سیاستدان ہیں اور وہ کسی انتشار کا حصہ نہیں بنیں گے۔انہوں نے کہا کہ معیشت کی بہتری کے لیے وزیر اعظم شہباز شریف کی دن رات کی محنت سے پاکستان کی سمت درست ہوئی، ان کی کوشش ہے کہ عوام کو سستی بجلی ملے جبکہ وزیراعظم مستقبل میں بجلی اور ٹیکس کی کمی کا اعلان کر سکتے ہیں۔ایک سوال پر انہوںنے کہاکہ جعفر ایکسپریس اور دیگر دہشت گردی واقعات پر افغانستان سے رابطے میں ہیں، افغانستان سے کہہ دیا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سمیت کسی دہشت گرد گروپ کی سرپرستی نہ کرے، جبکہ بات چیت سے مسئلہ حل نہ ہوا تو سختی سے کام لیں گے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پروگرام ہماری معیشت کے لیے بہتر ہوتے ہیں، تاہم کچھ شرائط کی وجہ سے اقتصادی نمو میں رکاوٹ آتی ہے۔
.ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: رانا تنویر پی ٹی ا ئی سکتے ہیں سے بات
پڑھیں:
دہشت گرد بلوچستان کو پاکستان سے الگ کرنا چاہتے ہیں،رانا ثناء اللہ
ماہرنگ اور پختون خواہ کے لوگوں کو دہشت گرد نہیں کہتے، انہیں دہشت گردی کی مذمت کرنی چاہیے
بلوچستان کی ترقی کا ہر مطالبہ پورا کیا جائیگا، جوآئین اور قانون تسلیم کرتے ہیں ان کی بات مانیں گے
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی و عوامی امور رانا ثناء اللہ خان نے کہاہے کہ بے گناہ معصوم شہریوں کو شہید کرنا، ٹرین کو یرغمال بنانا اور بسوں سے لوگوں کو عام شہریوں کو اتار کرشناخت کر کے قتل کرنا کسی طور پر قبول نہیں،ماہرنگ بلوچ اور خیبر پختون خواہ کے لوگوں کو ہم دہشت گرد نہیں کہتے، ان لوگوں کو دہشت گردانہ کارروائیوں کی مذمت کرنی چاہیے،ملک معاشی بحران سے نکل چکا ہے،مہنگائی کی رفتار رک چکی ہے، اب مہنگائی مزید نیچے آئے گی اور غریب کو ریلیف ملے گا،بلوچستان کی ترقی کا ہر مطالبہ پورا کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ قوم کا دو ٹوک فیصلہ ہے کہ دہشت گردی کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی کسی بھی دہشت گرد کامطالبہ پورا نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بے گناہ معصوم شہریوں کو شہید کرنا، ٹرین کو یرغمال بنانا اور بسوں سے لوگوں کو عام شہریوں کو اتار کرشناخت کر کے قتل کرنا کسی طور پر قبول نہیں ہے،ہر عوامی احتجاج قابل قبول ہوگا، لوگ مظاہرہ کریں یا کوئی بھی مطالبہ کریں، ان کا مطالبہ نہ صرف مانا جائے گا بلکہ پورا بھی کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ہی ایک حل ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگرد بلوچستان کو پاکستان سے الگ کرنا چاہتے ہیں۔ یہ دہشتگرد ’’را‘‘ کے ایجنٹ ہیں اور افغانستان میں بیٹھ کر بلوچستان کو علیحدہ کرنا چاہتے ہیں، ان کے خلاف کارروائی ہورہی ہے اور ایسے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی جاری رہے گی لیکن جو لوگ پاکستان کے آئین اور قانون کو تسلیم کرتے ہیں ہم ان کی بات مانیں گے، ان کے ناز نخرے بھی اٹھائیں گے، ان کے مطالبات بھی پورے کریں گے تاہم وہ ایسا رویہ نہ اپنائیں جس سے ان کی باتوں سے دہشتگردوں کے ساتھ ہمدردی کا پہلو نکلے۔ انہوں نے مسنگ پرسنز کے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ ماہرنگ بلوچ اور خیبر پختون خواہ کے لوگوں کو ہم دہشت گرد نہیں کہتے، لیکن ان کو دہشت گردانہ کارروائیوں کی مذمت کرنی چاہیے،اس سے ان کے بیانیہ کو تقویت ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی کا ہر مطالبہ پورا کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ اگر آل پارٹیز کانفرنس بلائی جائے گی تو حکومت اپنے ساتھ شامل جماعتوں کے ساتھ اس سلسلہ میں مشاورت کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کو اور اس کے ساتھ شامل جماعتوں کو مدعو نہ کیا گیا تو پھر یہ کیسی آل پارٹیز کانفرنس ہوگی۔ پیکا ایکٹ کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جو صحافی حق سچ کی بات کرتے ہیں ہم ان کے ساتھ پیکا ایکٹ کے سلسلہ میں بیٹھنے کو تیار ہیں اور مشاورت سے ایسی ترامیم لانے کو بھی تیار ہیں جس سے پیکا ایکٹ کا غلط استعمال نہ ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ پیکا ایکٹ دراصل ان لوگوں کیلئے لایا گیا ہے جو سوشل میڈیا کے ذریعے کسی کی عزت اچھال دیتے ہیں یاان سے کسی کے خاندان کی عزت محفوظ نہیں رہتی یہ ان لوگوں کیلئے ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ہم صحافی تنظیموں کے ساتھ مل کر ترامیم کرنے پر تیار ہیں۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بلدیاتی الیکشن کے سلسلہ میں قائد نواز شریف سے مشاورت جاری ہے اور امید ہے کہ اسی سال بلدیاتی انتخابات ہو جائیں گے۔