Islam Times:
2025-04-03@19:01:34 GMT

کورونا کا سیاسی استعمال: احتجاج دبانے کا نیا ہتھکنڈہ؟

اشاعت کی تاریخ: 3rd, April 2025 GMT

کورونا کا سیاسی استعمال: احتجاج دبانے کا نیا ہتھکنڈہ؟

اسلام ٹائمز: پاکستان میں سیاسی چالاکیوں کی کوئی کمی نہیں لیکن عوام اب اتنے سادہ نہیں کہ ہر چال کو تسلیم کر لیں۔ اگر "کورونا کی واپسی" کا پروپیگنڈہ محض ایک سیاسی حربہ ہے تو یہ سندھ کے عوام کے ساتھ سنگین زیادتی ہوگی۔ اگر عوامی احتجاج کے خلاف اس قسم کی سازشیں رچی جا رہی ہیں، تو یہ جمہوریت کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ سندھ کے لوگ اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہیں اور اگر حکومت ان کی آواز دبانے کی کوشش کر رہی ہے تو یہ تاریخ کا ایک اور سیاہ باب رقم کرے گا۔ تحریر: سید عباس حیدر شاہ ایڈووکیٹ (سید رحمان شاہ)

پاکستانی سیاست کی تاریخ ہمیشہ سے سازشوں، بحرانوں، بیانیوں کی جنگ حکومتی چالاکیوں اور عوامی احتجاج کو کچلنے کی کہانیوں سے عبارت رہی ہے لیکن جب کسی مخصوص وقت میں حکومتی بیانیہ عوامی ردعمل کو دبانے کے لیے استعمال ہو اور اس کے پیچھے طاقتوروں کا ہاتھ محسوس ہو, تو سوال اٹھنا فطری ہے اور شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں۔ آج سابق صدر آصف علی زرداری کے کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کی خبر نے کئی سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔ حیران کن طور پر یہ خبر اس وقت سامنے آئی جب دنیا بھر میں اس وباء کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ اعلان ایسے وقت میں ہوا جب سندھ کے عوام متنازعہ کینالز کے خلاف سراپا احتجاج ہیں، جس سے یہ خدشہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ خبر کسی گہری سیاسی چال کا حصہ ہے۔

سندھ میں احتجاج کی حقیقت
سندھ کے عوام ہمیشہ سے اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم رہے ہیں۔ دریائے سندھ پر متنازعہ کینالز کی تعمیر ایک دیرینہ مسئلہ ہے، جس پر پہلے بھی مزاحمت کی گئی اور اب یہ ایک بار پھر عوامی تحریک کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ حالیہ دنوں میں سندھ کے مختلف شہروں میں مظاہرے اور احتجاجی جلوس ہو رہے ہیں، جو حکومت کے لیے ایک چیلنج بن چکے ہیں۔ ایسے میں، اچانک "کورونا کی واپسی" کا پروپیگنڈہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ ایک سوچا سمجھا حربہ ہو سکتا ہے تاکہ احتجاج کو کمزور کیا جا سکے۔

کورونا کی واپسی: حقیقت یا فریب؟
عالمی سطح پر کورونا وائرس اب ختم شدہ سمجھا جا رہا ہے، عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق یہ وائرس اب وبائی شکل میں موجود نہیں اور بیشتر ممالک نے اس سے متعلقہ پابندیاں بھی ختم کر دی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق، یہ وائرس اب کسی بڑے خطرے کے طور پر موجود نہیں رہا۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اچانک خصوصاً سندھ میں، یہ وباء کیسے لوٹ آئی؟ کیا یہ واقعی ایک وبائی مسئلہ ہے یا محض عوام کو خوفزدہ کرنے کی کوشش؟ اگر واقعی سندھ میں کورونا وائرس کے کیسز سامنے آ رہے ہیں، تو حکومت کو ان کے سائنسی شواہد پیش کرنے ہونگے۔

احتجاج دبانے کی روایتی کوششیں
پاکستانی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی عوام کسی اہم مسئلے پر احتجاج کرتے ہیں، حکومت کی جانب سے مختلف حیلے بہانے تراشے جاتے ہیں تاکہ عوامی تحریک کو روکا جا سکے۔ کبھی سکیورٹی خدشات کا بہانہ بنایا جاتا ہے، کبھی دفعہ 144 نافذ کر دی جاتی ہے اور اب بظاہر "کورونا کی واپسی" کا شوشہ چھوڑا گیا ہے تاکہ احتجاج کو جواز بنا کر روکا جا سکے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کورونا واقعی واپس آیا ہے، تو یہ صرف سندھ تک محدود کیوں ہے؟ باقی صوبوں میں اس کا کوئی ذکر کیوں نہیں ہو رہا۔

میڈیا کا کردار: ذمہ داری یا حکومتی آلہ کار؟ کیا حکمران ہنگامی حالات کا ڈرامہ رچائیں گے؟
ایسے حساس موقع پر میڈیا کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ بدقسمتی سے، پاکستان میں کئی بڑے میڈیا ہاؤسز حکومتی بیانیے کو بغیر کسی تحقیق کے نشر کر دیتے ہیں، جس سے سچائی پس پردہ چلی جاتی ہے۔ صحافیوں اور میڈیا اداروں کو درج ذیل سوالات حکومت سے کرنے چاہئیں:

کیا حکومت کے پاس سندھ میں کورونا کے دوبارہ پھیلنے کے کوئی ٹھوس سائنسی شواہد موجود ہیں؟
سندھ کے علاوہ دیگر صوبوں میں کورونا وائرس کیوں نہیں پایا گیا؟
کیا اس خبر کا مقصد سندھ میں جاری احتجاج کو ختم کرنا ہے؟
عالمی ادارہ صحت نے اس کی تصدیق کی ہے ؟
کیا حکومت اس معاملے کو شفاف انداز میں عوام کے سامنے رکھ رہی ہے؟
کیا یہ محض سندھ کے احتجاج کو "لاک ڈاؤن" کے ذریعے کچلنے کی کوشش ہے؟

عوام کو چاہیئے
بیداری اور یکجہتی کا مظاہرہ کریں کیونکہ سندھ کے عوام کو اس وقت دوہری جنگ لڑنی ہے، ایک طرف آبی حقوق کی جدوجہد، دوسری طرف حکومتی پروپیگنڈہ کے خلاف۔ یہ وقت ہے کہ عوام حکومتی پروپیگنڈے کے خلاف بیدار ہوں اور حقیقت کو سمجھیں۔ ہر بیان کو بغیر تحقیق کے تسلیم نہ کریں، خاص طور پر ایسے مواقع پر جب عوامی حقوق کی تحریک اپنے عروج پر ہو۔ اگر یہ سازش احتجاج کو دبانے کے لیے رچی گئی ہے، تو عوام کو مزید مستحکم ہوکر اپنی آواز بلند کرنی چاہیئے۔ سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے اس معاملے کو اجاگر کرنا ضروری ہے تاکہ اصل حقیقت منظرِ عام پر آ سکے۔

* ہر غیر مصدقہ خبر کو شک کی نظر سے دیکھا جائے۔
* احتجاج کو سوشل میڈیا اور بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر اٹھایا جائے۔
* سائنس اور مصدقہ شواہد کی بنیاد پر حکومت کو جواب دہ ٹھرایا جائے۔

پاکستان میں سیاسی چالاکیوں کی کوئی کمی نہیں لیکن عوام اب اتنے سادہ نہیں کہ ہر چال کو تسلیم کر لیں۔ اگر "کورونا کی واپسی" کا پروپیگنڈہ محض ایک سیاسی حربہ ہے تو یہ سندھ کے عوام کے ساتھ سنگین زیادتی ہوگی۔ اگر عوامی احتجاج کے خلاف اس قسم کی سازشیں رچی جا رہی ہیں، تو یہ جمہوریت کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ سندھ کے لوگ اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہیں اور اگر حکومت ان کی آواز دبانے کی کوشش کر رہی ہے تو یہ تاریخ کا ایک اور سیاہ باب رقم کرے گا۔

اختتامیہ: تاریخ کا فیصلہ
اگر "کورونا کی واپسی" محض ایک فریب ہے تو یہ پاکستانی جمہوریت کے لئے ایک اور بدنما داغ ہے۔ سندھ کے عوام نے تاریخ میں کبھی بھی ظلم کو قبول نہیں کیا۔ آج بھی ان کا مطالبہ منصفانہ ہے کہ دریائے سندھ پر ہمارا حق ہے، حکومت کو چاہیئے کہ وہ پروپیگنڈے کے بجائے مکالمے راہ اختیار کرے اور دریائے سندھ پر مزید آبی چوری بند کرے ورنہ تاریخ اسے کبھی معاف نہیں کرے گی۔

.

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کورونا کی واپسی کورونا وائرس سندھ کے عوام احتجاج کو ہے تو یہ کے خلاف کی کوشش عوام کو رہی ہے کے لیے

پڑھیں:

پیپلزپارٹی کا6کینال منصوبے کے خلاف کل سندھ بھر میں مشعل برادر ریلیاں نکالنے کا اعلان

کراچی:پیپلز پارٹی سندھ نے متنازع 6 کینالوں کے منصوبے کے خلاف احتجاجی تحریک کا دائرہ واسیع کرکے احتجاج کے دوسرے مرحلے کا اعلان کر دیا۔ نثار کھوڑو کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی 6 کینال منصوبے کیخلاف کل سندھ بھر میں مشعل بردار ریلیاں نکالے گی۔

پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو نے دریائے سندھ پر 6 کینالوں کے منصوبے کے خلاف کل 2 اپریل بدھ کو سندھ بھر کے تمام تحصیل ہیڈ کوارٹرز میں شام کو احتجاجی مشعل بردار ریلیوں کا اعلان کیا ہے۔

صدر پی پی پی سندھ نثار کھوڑو نے وڈیو بیان میں کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کل 2 اپریل کو سندھ کے ہر تحصیل ہیڈ کوارٹرز میں متنازعہ 6 کینال منصوبے کے خلاف احتجاجی مشعل بردار ریلیاں نکالے گی۔

نثار کھوڑو نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی سندھ بھر کی تحصیل سطح کی تنظیمیں اپنے اپنے تحصیلوں کے ہیڈ کوارٹرز میں کینالوں کے خلاف شام کو عوامی قوت کے ساتھ مشعل بردار ریلیاں نکالیں۔

بطوروزیراعلیٰ سندھ میں خود کہہ رہاہوں کہ کینالز نہیں بنیں گی،وزیراعلیٰ سندھ

صدر پیپلز پارٹی سندھ نے ویڈیو بیان میں کہا کہ پانی کا مسئلہ ایک دن کے احتجاج کرنے سے حل نہیں ہوگا، جس کے لیے مسلسل احتجاج کر کے دباؤ ڈالنے کی ضرورت ہے۔ پانی کا مسئلہ سندھ کے مستقبل اور زندگی کا سوال ہے۔

نثارکھوڑو کا کہنا ہے کہ عوام کی زندگیاں بچانے کے لئے کینال منصوبے کے خلاف عوام کے ساتھ ہیں۔ 6 کینالوں کا منصوبہ سندھ کے نقصان میں ہے اس لئے سندھ کے لوگوں کو یہ منصوبہ قبول نہیں ہے۔

صدر پی پی سندھ نے کہا کہ کینالوں کے خلاف پیپلز پارٹی اور سندھ کی عوام کا احتجاج اپنے حق کے لئے ہے۔ پیپلز پارٹی کینالوں کے خلاف احتجاج جاری رکھ کر اپنا جمہوری حق استعمال کرتی رہے گی۔

نثار کھوڑو کا کہنا ہے کہ جب تک 6 کینالوں کے منصوبے سے دستبرداری کا اعلان نہیں ہوگا تب تک احتجاجی تحریک جاری رہے گی۔ کینال منصوبے کے خلاف سب مل کر جدوجھد کرکے سندھ کی حفاظت کریں گے۔ سندھ کے پانی پر ڈاکہ ڈالہ گیا تو مزاحمت کرینگے۔

اس سے قبل انھوں نے کراچی میں پیپلز پارٹی سندھ کے رہنماؤں وقار مہدی اور عاجز دھامراہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے 6 کینال منصوبے کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا تھا، انھوں کہا کہ سندھ کے تمام ضلعی ہیڈ کوارٹرز میں ریلیاں، مظاہرے کیے جائیں گے۔

Post Views: 1

متعلقہ مضامین

  • دریائے سندھ سے نہریں نکالنے کے منصوبے کے خلاف سندھ کے مختلف شہروں میں احتجاج
  • پیپلزپارٹی کا نہروں کی تعمیرکیخلاف احتجاج اور وفاقی حکومت سے اتحادکے خاتمے سمیت دیگر آپشنز پر غور
  • سیاسی اختلافات کی سزا عوام کو کیوں؟
  • کینالز کی تعمیر پر مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی قیادت کے بیک ڈور رابطے
  • پیپلزپارٹی کا6کینال منصوبے کے خلاف کل سندھ بھر میں مشعل برادر ریلیاں نکالنے کا اعلان
  • دریائے سندھ سے کینالز نکالنے کیخلاف ریلیاں و احتجاج
  • صدر زرداری سے وزیراعلیٰ سندھ کی ملاقات، کینالز کیخلاف احتجاج کی رپورٹ پیش
  • وزیراعظم اور گورنر سندھ کا ٹیلی فونک رابطہ، سیاسی صورت حال پر تبادلہ خیال
  • عید کے بعد پی ٹی آئی اور اپوزیشن کا کیا لائحہ عمل ہو گا؟