ہمیں تو صحافت کے علاوہ اور کوئی کام نہیں آتا، غریدہ فاروقی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, April 2025 GMT
اسلام آباد:
اینکر پرسن کرن ناز کا کہنا ہے کہ کسی خاتون کو بار بار یہ ثابت کرنا پڑتا ہے کہ وہ اپنی محنت سے وہاں پہنچی ہے، اس کو کسی نے پہنچایا نہیں ہے لیکن مردوں کو یہ وضاحت نہیں دینی پڑتی۔
ایکسپریس نیوز کے پروگرام کل تک میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ مردوں کو یہ نہیں بتانا پڑتا کہ میں محنت سے یہاں پہنچا ہوں، خواتین کو یہ بتانا پڑتا ہے، بار بار بتانا پڑتا ہے کہ وہ جس پوزیشن پر بیٹھی ہوئی ہے وہاں وہ اپنی محنت سے پہنچی ہوئی ہے، وہ کسی پرچی کے تھرو نہیں آئی ہے یا وہ کسی کی منظور نظر ہو کر وہاں نہیں آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جرنلزم ٹف فیلڈ تو نہیں ہے شاید پرسن ٹو پرسن ویری کرتا ہے اس لیے کہ آپ نے آغاز میں بات کی تھی کہ جس کام میں آپ کو مزہ آتا ہے وہی کام آپ کر رہے ہوتے ہو وہ آپ کیلیے مشکل نہیں ہوتا۔
اینکر پرسن غریدہ فاروقی نے کہا کہ ہم ایسے ہی ہوتے ہیں جیسے آن سکرین ہوتے ہیں ویسے ہی آف اسکرین ہوتے ہیں ہمارا برتائو عام انسانوں جیسا ہی ہوتا ہے، ہمیں تو صحافت کے علاوہ اور کوئی کام بھی نہیں آتا۔
اینکر پرسن انیقہ نثار نے کہا کہ نہ تو مجھے جرنلزم کا شوق تھا اور نہ میں نے اس وقت تک پڑھا تھا، چارٹرڈ اکائونٹینسی کر کے، نمبر پڑھ کہ ، میتھیمیٹکس ، کیلکولیشنز وہ ساری چیزیں کر کے آئی لیکن ڈبیٹر میں ہمیشہ سے تھی۔
.ذریعہ: Express News
پڑھیں:
زمین کا کوئی کونہ نہ بخشا! ٹرمپ نے غیر آباد جزیرے پر بھی ٹیرف لگا دیا
واشنگٹن(انٹرنیشنل ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جوابی ٹیرف سے ایک غیر آباد جزیرہ بھی محفوظ نہ رہا جہاں ایک دہائی میں کسی انسان نے قدم نہیں رکھا۔
انٹارکٹیکا کے قریب دور دراز غیر آباد آسٹریلوی جزیرے پر محصولات عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق انٹارکٹیکا کے قریب ترین جزیرے جہاں صرف گلیشیئرز اور پینگوئن رہتے ہیں کو بھی مین لینڈ آسٹریلیا کے ساتھ ٹرمپ کے 10 فیصد ٹیرف کا سامنا کرنا پڑے گا۔
رپورٹ کے مطابق ہرڈ آئی لینڈ نامی آئی لینڈ دنیا کے سب سے الگ تھلگ جگہوں میں شمار ہوتا ہے۔ جزائر تک پہنچنے کے لیے پرتھ سے کشتی کا دو ہفتے کا مشکل سفر درکار ہوتا ہے تقریباً ایک دہائی میں کسی انسان نے وہاں قدم نہیں رکھا۔
ٹرمپ کے ٹیرف لگانے کے اقدام نے آسٹریلوی وزیر اعظم انتھونی البانیس کی جانب سے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ زمین پر کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں رہی ہے۔
آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانی نے ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی طرف سے عائد کردہ امریکی محصولات پر تنقید کرتے ہوئے انہیں غیر منطقی اور غیر دوستانہ قرار دیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مذکورہ محصولات دونوں ممالک کے درمیان شراکت داری سے متصادم ہیں۔ البانی نے یہ بھی کہا ہے کہ آسٹریلیا امریکہ کے خلاف اپنے محصولات کے ساتھ جوابی کارروائی نہیں کرے گا، بجائے اس کے اثرات کا مقابلہ کرنے کے لیے آسٹریلیائی ساختہ مصنوعات کی خریداری کو فروغ دے گا۔
ہرڈ آئی لینڈ، آسٹریلیا کا حصہ، ایک دور دراز اور ناہموار مقام ہے۔ سرد موسم کے باعث مغربی آسٹریلیا سے جہاز کے ذریعے وہاں پہنچنے میں تقریباً 10 دن لگتے ہیں۔ یہ جزیرہ پینگوئن، سیلز اور پرندوں کی بہت سی اقسام کا گھر ہے، جن میں سے کچھ کو ان کے تحفظ کی حیثیت کی وجہ سے قومی اور بین الاقوامی قوانین کے ذریعے تحفظ حاصل ہے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پاکستان سمیت درجنوں ممالک پر کئی سالوں سے غیر منصفانہ تجارتی طریقوں کا حوالہ دیتے ہوئے دو طرفہ محصولات عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ٹیرف تمام بیرونی ممالک پر بیس لائن 10% ٹیرف کے ساتھ اثر ڈالیں گے، جبکہ کچھ کو نمایاں طور پر زیادہ شرحوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
مزیدپڑھیں:شوٹنگ کے دوران لگنے والے تھپڑ نے پاکستانی اداکارہ کی سماعت متاثر کردی