ٹرمپ کا پوری دنیا کیخلاف تجارتی جنگ کا اعلان، روس ٹیرف سے مستثنیٰ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, April 2025 GMT
پریس کانفرنس میں ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان ہم سے 58 فیصد ٹیرف چارج کرتا ہے، پاکستان پر 29 فیصد ٹیرف عائد کریں گے جبکہ بنگلا دیش پر 37 فیصد ٹیرف عائد ہوگا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پاکستان سمیت 185 ممالک پر کئی سالوں سے غیر منصفانہ تجارتی طریقوں کا مبینہ حوالہ دیتے ہوئے دو طرفہ محصولات عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ٹیرف تمام بیرونی ممالک پر بیس لائن 10% ٹیرف کے ساتھ اثر ڈالیں گے، جبکہ کچھ کو نمایاں طور پر زیادہ شرحوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پاکستان کو 29 فیصد ٹیرف کا سامنا ہے جب کہ بنگلہ دیش اور سری لنکا سمیت کچھ دوسرے ممالک پر زیادہ شرح سے ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔ تاہم ٹرمپ ہندوستان اور افغانستان دونوں پر مہربان ثابت ہوئے۔
وائٹ ہاؤس کے روز گارڈن سے خطاب کرتے ہوئے، ٹرمپ نے وضاحت کی کہ ٹیرف کا حساب موجودہ ٹیرف کی شرحوں اور غیر مالیاتی رکاوٹوں، جیسے کرنسی میں ہیرا پھیری کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جاتا ہے، کینیڈا اور میکسیکو یونائیٹڈ سٹیٹس میکسیکو-کینیڈا معاہدے (USMCA) کے تحت اشیاء کے لیے چھوٹ کے ساتھ، 25% ٹیرف کے ساتھ مشروط ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان ہم سے 58 فیصد ٹیرف چارج کرتا ہے، پاکستان پر 29 فیصد ٹیرف عائد کریں گے جبکہ بنگلا دیش پر 37 فیصد ٹیرف عائد ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹیرف مکمل طور پر باہمی نہیں ہوں گے۔ میرا اندازہ ہے کہ میں ایسا کر سکتا تھا۔ لیکن یہ بہت سارے ممالک کے لیے مشکل ہوتا۔ پریس کانفرنس میں ٹرمپ نے کہاکہ اگر کوئی ملک شکایت کرتا ہو، چاہتا ہو کہ ٹیرف ریٹ صفر کردیا جائے تو پھر اسے اپنی مصنوعات امریکا میں تیار کرنا ہوں گی کیوں کہ یہاں کوئی ٹیرف نہیں امریکا تمام درآمدات پر دس فیصد ٹیرف لگائے گا۔ انہوں نے کہا جوابی ٹیرف کا اعلان امریکا کے لیے اچھا ہوگا، ہم امریکا کا سنہری دور واپس لارہے ہیں، نئے محصولات اقتصادی آزادی کا اعلان ہیں۔ واضح رہے روس کیخلاف ٹیرف کا ذکر نہیں کیا گیا۔
جنوبی ایشیائی ممالک پر اس شرح سے ٹیرف عائد کئے گئے ہیں:
پاکستان - 29%
بھارت - 26%
بنگلہ دیش - 37%
سری لنکا - 44%
نیپال - 10%
بھوٹان - 10%
مالدیپ - 10%
افغانستان - 10%
عالمی ٹیرف کی شرح
سب سے زیادہ ٹیرف لیسوتھو (50%)، سینٹ پیئر اور میکیلون (50%) اور کمبوڈیا (49%) پر عائد کیے گئے ہیں، جبکہ یورپی یونین کے ممالک کو 20% ٹیرف کا سامنا ہے۔ دیگر کلیدی شرحوں میں سے کچھ میں شامل ہیں:
چین - 34%
جنوبی کوریا - 25%
جاپان - 24%
یورپی یونین - 20%
برطانیہ - 10%
برازیل - 10%
سعودی عرب - 10%
ترکی - 10%
توقع ہے کہ اس اقدام سے دنیا بھر میں تجارتی تناؤ بڑھے گا، متاثرہ ممالک کی جانب سے جوابی اقدامات کا امکان ہے۔
ذیل میں ممالک کی مکمل فہرست ہے:
لیسوتھو: 50 فیصد
سینٹ پیئر اور میکیلون: 50 فیصد
کمبوڈیا: 49 فیصد
لاؤس: 48 فیصد
مڈغاسکر: 47 فیصد
ویتنام: 46 فیصد ٹیرف
میانمار: 44 فیصد
سری لنکا: 44 فیصد
جزائر فاک لینڈ: 41 فیصد
شام: 41 فیصد
ماریشس: 40 فیصد
عراق: 39 فیصد
گیانا: 38 فیصد
بوٹسوانا: 37 فیصد
بنگلہ دیش: 37 فیصد
ری یونین: 37 فیصد
سربیا: 37 فیصد
لیچٹینسٹائن: 37 فیصد
تھائی لینڈ: 36 فیصد ٹیرف
بوسنیا اور ہرزیگوینا: 35 فیصد
چین: 34 فیصد ٹیرف
شمالی مقدونیہ: 33 فیصد
فجی: 32 فیصد
تائیوان: 32 فیصد ٹیرف
انڈونیشیا: 32 فیصد
انگولا: 32 فیصد
سوئٹزرلینڈ: 31 فیصد
مالڈووا: 31 فیصد
لیبیا: 31 فیصد
الجزائر: 30 فیصد
نورو: 30 فیصد
نورفولک جزیرہ: 29 فیصد
پاکستان: 29 فیصد
تیونس: 28 فیصد
قازقستان: 27 فیصد
ہندوستان: 26 فیصد ٹیرف
جنوبی کوریا: 25 فیصد ٹیرف
برونائی: 24 فیصد
جاپان: 24 فیصد ٹیرف
ملائیشیا: 24 فیصد
وانواتو: 22 فیصد
آئیوری کوسٹ: 21 فیصد
نمیبیا: 21 فیصد
یورپی یونین: 20 فیصد ٹیرف
اردن: 20 فیصد
زمبابوے: 18 فیصد
نکاراگوا: 18 فیصد
اسرائیل: 17 فیصد
فلپائن: 17 فیصد
زیمبیا: 17 فیصد
ملاوی: 17 فیصد
موزمبیق: 16 فیصد
ناروے: 15 فیصد
وینزویلا: 15 فیصد
نائیجیریا: 14 فیصد
چاڈ: 13 فیصد
استوائی گنی: 13 فیصد
جمہوری جمہوریہ کانگو: 11 فیصد
کیمرون: 11 فیصد
برطانیہ: 10 فیصد
جنوبی افریقہ: 10 فیصد
برازیل: 10 فیصد
سنگاپور: 10 فیصد
چلی: 10 فیصد
آسٹریلیا: 10 فیصد
ترکی: 10 فیصد
کولمبیا: 10 فیصد
پیرو: 10 فیصد
کوسٹا ریکا: 10 فیصد
ڈومینیکن ریپبلک: 10 فیصد
متحدہ عرب امارات: 10 فیصد
نیوزی لینڈ: 10 فیصد
ارجنٹائن: 10 فیصد
ایکواڈور: 10 فیصد
گوئٹے مالا: 10 فیصد
ہونڈوراس: 10 فیصد
مصر: 10 فیصد
سعودی عرب: 10 فیصد
یوکرین: 10 فیصد
بحرین: 10 فیصد
قطر: 10 فیصد
ایل سلواڈور: 10 فیصد
ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو: 10 فیصد
مراکش: 10 فیصد
یوراگوئے: 10 فیصد
بہاماس: 10 فیصد
آئس لینڈ: 10 فیصد
کینیا: 10 فیصد
ہیٹی: 10 فیصد
بولیویا: 10 فیصد
پانامہ: 10 فیصد
ایتھوپیا: 10 فیصد
گھانا: 10 فیصد
جمیکا: 10 فیصد
پیراگوئے: 10 فیصد
لبنان: 10 فیصد
تنزانیہ: 10 فیصد
جارجیا: 10 فیصد
سینیگال: 10 فیصد
آذربائیجان: 10 فیصد
یوگنڈا: 10 فیصد
البانیہ: 10 فیصد
آرمینیا: 10 فیصد
نیپال: 10 فیصد
سنٹ مارٹن: 10 فیصد
گبون: 10 فیصد
کویت: 10 فیصد
ٹوگو: 10 فیصد
سورینام: 10 فیصد
بیلیز: 10 فیصد
پاپوا نیو گنی: 10 فیصد
لائبیریا: 10 فیصد
برٹش ورجن آئی لینڈ: 10 فیصد
افغانستان: 10 فیصد
بینن: 10 فیصد
بارباڈوس: 10 فیصد
موناکو: 10 فیصد
ازبکستان: 10 فیصد
جمہوریہ کانگو: 10 فیصد
جبوتی: 10 فیصد
فرانسیسی پولینیشیا: 10 فیصد
جزائر کیمن: 10 فیصد
کوسوو: 10 فیصد
Curaçao: 10 فیصد
روانڈا: 10 فیصد
سیرا لیون: 10 فیصد
منگولیا: 10 فیصد
سان مارینو: 10 فیصد
انٹیگوا اور باربوڈا: 10 فیصد
برمودا: 10 فیصد
ایسواتینی: 10 فیصد
مارشل جزائر: 10 فیصد
سینٹ کٹس اور نیوس: 10 فیصد
ترکمانستان: 10 فیصد
گریناڈا: 10 فیصد
سوڈان: 10 فیصد
ترک اور کیکوس جزائر: 10 فیصد
اروبا: 10 فیصد
مونٹی نیگرو: 1
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: فیصد ٹیرف عائد ممالک پر کا اعلان ٹیرف کا
پڑھیں:
صدر ٹرمپ کے عائد کردہ ٹیرف کے پاکستان پر کیا اثرات پڑیں گے؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان سمیت متعدد ممالک سے امریکہ میں درآمد ہونے والی اشیا پر نئے ٹیرف کے نفاذ کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان پر 29 فیصد ٹیرف عائد ہو گا۔
وائٹ ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے اعلان کیا کہ تمام ممالک پر کم سے کم 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا تاکہ امریکی معیشت کی بحالی میں مدد مل سکے۔ یہ نئی شرح تقریباً 100 ممالک کو متاثر کرے گی، جن میں سے 60 ممالک کو زیادہ درآمدی ٹیکس کا سامنا کرنا ہو گا۔
اپنے خطاب کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ امریکہ درآمد کی جانے والی غیرملکی کاروں پر بھی 25 فیصد ٹیرف عائد کر رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مجموعی طور پر 185 ممالک پرجوابی ٹیرف عائد کردیا ہے۔ ٹرمپ نے پاکستان پر29 فیصد جوابی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کردیا اور کہا پاکستان امریکہ سے 58 فیصد ٹیرف چارج کرتا ہے۔
امریکی صدر کی جانب سے نئے ٹیرف کے اعلان کو دنیا بھر نے تجارتی جنگ قرار دیا ہے۔ چین نے اسے بلیک میلنگ سے تشبیہ دی ہے۔
امریکی ٹیرف کے پاکستان پر اثرات
پاکستان امریکہ کو کپڑے، چاول، سرجیکل آلات وغیرہ برآمد کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ٹیرف کا مطلب یہ ہے کہ امریکی خریداروں کو پاکستانی چیزیں مہنگی پڑیں گی، جس سے پاکستانی ایکسپورٹرز کو نقصان ہوگا۔
پاکستان کا ٹریڈ والیم امریکہ کے ساتھ سرپلس میں ہے۔ سادہ مطلب یہ ہے کہ پاکستان امریکہ کو پانچ ارب ڈالر کا سامان بیچتا ہے اور امریکہ سے اڑھائی سے تین ارب کا سامان خریدتا ہے۔
اس فیصلے کے بعد ڈالر کا زرمبادلہ ملک آنا کم یا بند ہو سکتا ہے جس سے پاکستان میں بے روزگاری بڑھنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب ایسی صورتحال میں جب دنیا کی تمام بڑی سٹاک مارکیٹ کریش کر چکی ہیں پاکستان کی حصص مارکیٹ میں امریکی صدر کی جانب سے عائد کیے گئے 29 فیصد ٹیرف کا کوئی بڑا اثر دکھائی نہیں دے رہا۔
پاکستانی سٹاک ایکسچینج میں معمول کے مطابق ٹریڈنگ ہو رہی ہے۔ تادم تحریر پاکستانی حکومت کی جانب سے بھی امریکی اقدام پر کسی قسم کا کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ جب امریکہ نے جوابی ٹیرف عائد کیا ہے تو ایسے میں انہوں نے تجارتی معاملات پر دو طرفہ مذاکرات کا دروازہ بھی کھلا رکھا ہے تاکہ دونوں ممالک بات چیت کے ذریعے ٹیرف کا تعین کریں۔
معاشی امور کے ماہر ڈاکٹر خاقان نجیب کا کہنا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان مجموعی تجارت سات ارب ڈالر ہے۔ امریکہ کے ساتھ پاکستانی تجارت سرپلس میں ہے یعنی پاکستان امریکہ کو زیادہ مالیت کی چیزیں بیچتا ہے اور کم مالیت کی چیزیں خریدتا ہے۔ اگر پاکستان کی مجموعی برامدات کو دیکھا جائے تو امریکہ کوئی بہت بڑا تجارتی پارٹنر نہیں ہے اس کے باوجود مستقبل کو سامنے رکھتے ہوئے امریکہ کی جانب سے ٹیرف حوصلہ شکن ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو کسی بھی قسم کا رد عمل دینے سے پہلے دیگر ممالک بالخصوص چین انڈیا اور یورپی ممالک کو دیکھنا چاہیے کہ وہ اس پر کیسا رد عمل دیتے ہیں۔ پاکستان کے پاس یہ موقع موجود ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کرے اور جو ہم 58 فیصد ٹیرف وصول کر رہے ہیں اس کے جواب میں امریکہ نے جو 29 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے اس کو متوازن بنانے کی کوشش کی جائے۔
پاکستان کے بڑے ایکسپورٹر اور ماہر معاشی امور مرزا اختیار بیگ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ جب امریکہ نے پاکستانی مصنوعات پر 29 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے تو ایسے وقت میں امریکہ کی جانب سے ان ممالک پر بھی کم و بیش اتنا ہی ٹیرف عائڈ کیا ہے جن سے پاکستان کے متبادل اشیا امریکہ میں درآمد کی جا سکتی ہیں۔ تاہم جو امریکی خریدار ہے وہ پہلے عالمی مارکیٹ میں دیکھے گا کہ پاکستان سے کم ٹیرف کس ملک پر لگایا گیا ہے اور کیا جو اشیا پاکستان سے امریکہ منگوائی جا رہی ہیں وہ کسی دوسری جگہ سے سستی منگوائی جا سکتی ہیں تو ایسے میں پاکستانی ایکسپورٹرز کا نقصان ہوگا۔ اس نقصان کی صورت میں پاکستان میں زر مبادلہ کی آمد میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ نے ایک ایسے وقت میں پاکستان پر 29 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے جب پاکستان امریکہ کے ساتھ فری ٹریڈ ایگریمنٹ کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔
مرزا اختیار بیگ کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد پاکستان میں سب سے بڑا شعبہ جو متاثر ہوگا وہ ٹیکسٹائل ہے۔ نئے امریکی اقدام کے نتیجے میں پاکستانی ایکسپورٹرز کو نئے مقابلہ جاتی رجحان کو سامنے رکھتے ہوئے نئے ریٹس دینا پڑیں گے تاکہ عالمی مارکیٹ بالخصوص امریکہ کی مارکیٹ میں پاکستانی مصنوعات پہنچتی رہیں۔
’یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ امریکہ نے پاکستانی مصنوعات پر جی ایس پی پلس سٹیٹس کی طرز پر مراعاتی ڈیوٹیز عائد کر رکھی تھی کیا وہ بھی ختم کر دی گئی ہیں یا برقرار ہیں اگر وہ ختم کی جاتی ہیں تو اس سے پاکستانی تجارت کو بڑا دھچکا پہنچے گا۔
پاکستان کے پاس حل کیا ہے؟
ماہرین کے مطابق اس کا حل یہ ہے کہ پاکستان انسانی حقوق میں بہتری لائے۔ تاکہ یورپ کے ساتھ جی ایس پی پلس کا سٹیٹس قائم رہے اور پاکستان یورپی مارکیٹ میں زیرو ٹیکس ایکسپورٹ کو انجوائے کر سکے۔ اس کے علاوہ مڈل ایسٹ سے تجارت بڑھانی ہو گی۔
ڈاکٹر خاقان نجیب کا کہنا ہے کہ پاکستان کو دنیا میں اپنی پروڈکٹ بیچنے کے لیے پیداواری معیار کو مزید بہتر بنانا ہوگا تاکہ امریکی ٹیرف کے باوجود درآمدات میں کمی نہ ہو اور ملک کو زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
انھوں نے کہا کہ پاکستانی مصنوعات کو ویلیو ایڈیشن کے ذریعے دنیا میں پہنچانے کے لیے محنت کرنا ہوگی۔ جس طرح کے حالات ہیں ایسے میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ پاکستانی حکام اس کے لیے تیار نہیں تھے بلکہ وہ تیار ہوں گے اور ان کے پاس صورتحال سے نکلنے کا راستہ بھی موجود ہوگا۔
ماہر معاشیات ڈاکٹر عابد قیوم سلہری کا کہنا ہے کہ جب ممالک کے درمیان ٹیرف کی جنگ شروع ہو جاتی ہے تو پھر دونوں ممالک کے عوام اس کا شکار ہوتے ہیں۔ امریکہ کی جانب سے ٹیرف لگائے جانے کے بعد پاکستانی مصنوعات امریکہ میں مہنگی ہو جائیں گی اور یوں امریکہ میں مہنگائی میں اضافہ ہوگا تو دوسری جانب پاکستانی ایکسپورٹرز متاثر ہوں گے اور اگر پاکستان نے جوابی ٹیرف عائد کیا تو ایسی صورت میں پاکستان کے عوام کو بھی مہنگائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
’صرف یہی نہیں بلکہ ایکسپورٹ میں کمی واقع ہونے سے پاکستان میں زر مبادلہ کے ذخائر میں کمی آنے کا بھی امکان ہے۔ ‘
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اپنا جی ایس پی پلس سٹیٹس بچانے کے لیے تگ و دو کرنی چاہیے اور اس کے ساتھ ساتھ دنیا میں نئی مارکیٹوں کی تلاش شروع کرنی چاہیے تاکہ ہماری برآمدات میں کوئی کمی واقع نہ ہو۔