سیاسی اختلافات کی سزا عوام کو کیوں؟
اشاعت کی تاریخ: 3rd, April 2025 GMT
عیدالفطر تو گزر گئی مگر ملک میں گرمی کا آغاز ہو گیا ہے اور اپوزیشن کی بڑی جماعت پی ٹی آئی نے اپریل سے ہی سیاسی ماحول گرم کرنا شروع کر دیا ہے جس کو وہ حکومت مخالف سیاسی اتحاد کے ذریعے مزید آگ بھڑکا کر انتہا پر پہنچانے کی بھرپور کوشش میں ہے۔
بلوچستان کے پشتون رہنما محمود خان اچکزئی اور چھوٹی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے علامہ ناصر عباس اور حامد رضا پہلے ہی پی ٹی آئی کے ساتھ ہیں۔ پی ٹی آئی کی سیاسی مجبوری کے بعد حامد رضا کی پارٹی پارلیمانی پارٹی بن گئی تھی اور پی ٹی آئی کی حمایت سے ہی وہ رکن قومی اسمبلی بن گئے تھے جب کہ محمود خان اور علامہ ناصر عباس کا اپنا ووٹ بینک ہے۔
سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی نئی پارٹی عوامی مقبولیت کے مخصوص درجے پر نہیں پہنچ پائی۔ وہ تو 2018 کے الیکشن میں اپنے آبائی حلقے مری سے بھی ہارے تھے، ان کی سیاسی حیثیت سابق وزیر اعظم کی بھی ہے اور اپوزیشن کے بڑے اتحاد کے لیے کوشاں مصطفیٰ نواز کھوکھر، سابق سینیٹر محمد علی درانی کی طرح پی پی کی وجہ سے ایک بار سینیٹر بن گئے تھے۔
جے یو آئی کے مولانا فضل الرحمن موجودہ اپوزیشن میں واحد سیاسی قوت اور اسٹریٹ پاور کے حامل ہیں جو گرمیوں میں بھی سڑکیں گرم رکھنے کی سیاسی طاقت رکھتے ہیں۔ پی ٹی آئی کے پاس کے پی کی حکومت، پارلیمنٹ کے ارکان اور پنجاب و سندھ میں ارکان صوبائی اسمبلی ضرور ہیں مگر اس کا بانی اپنی جارحانہ سیاست کے باعث جیل میں ہے اور انھوں نے اپنی پارٹی ان وکلا کے حوالے کردی ہے جو نئے سیاستدان ہیں جنھیں سیاست نہیں وکالت کا تجربہ ضرور ہے۔
پی ٹی آئی کے کچھ رہنماؤں کا موقف ہے کہ پی ٹی آئی کی آزاد قیادت چاہتی ہی نہیں کہ بانی جیل سے باہر آئیں، ورنہ ان کی وہ سیاسی حیثیت ختم ہو جائے گی جو انھیں بانی کے قید میں رہنے کے باعث حاصل ہے۔ بانی پی ٹی آئی کی اپنی سیاسی بصیرت کا یہ حال ہے کہ بانی کے چاہنے والوں نے برے وقت میں پی ٹی آئی کے جلسے کرائے، بانی کی وکالت کی مگر اپنوں ہی کی سیاسی رقابت کے باعث بانی نے انھیں پارٹی سے فارغ کر دیا اور انھی کے مطابق پی ٹی آئی میں بھی معاہدے کے مطابق فارم 47 کے منتخب ارکان موجود ہیں اور انھی کی وجہ سے حکومت پارلیمنٹ میں پی ٹی آئی کا فارورڈ بلاک بنانے کی کوشش میں ہے۔
پی ٹی آئی کا اہم سیکریٹری جنرل کا عہدہ لاہور کے ایک قابل مشہور وکیل کے حوالے کیا ہے جن کی سیاسی اہمیت ابھی بہت زیادہ نہیں۔ یہی حال پی ٹی آئی کے موجودہ چیئرمین کا ہے جو پی ٹی آئی کی وجہ سے پارلیمنٹ میں کے پی سے ہیں مگر نئے سیکریٹری جنرل لاہور سے الیکشن ہارے ہوئے ہیں۔ حامد خان کی وجہ سے لاہور اور بعض شہروں میں وکیلوں کی بڑی تعداد موجودہ حکومت کی مخالفت میں پی ٹی آئی کی حامی ہے مگر پی ٹی آئی کے حامی وکلا ملک میں حکومت کے خلاف کوئی احتجاجی تحریک نہیں چلا سکے یہ سب سیاست میں غیر اہم مگر وکلا سیاست میں ضرور اہم ہیں۔
پی ٹی آئی کی قیادت جن وکیلوں کے ہاتھ میں ہے وہ ابھی تک بانی کو رہا نہیں کرا سکے اور بانی کی اہلیہ اور بہنوں کے بھی وکیلوں میں مختلف گروپ ہیں اور پرانے پی ٹی آئی رہنماؤں کی حیثیت صرف پارلیمانی رہ گئی ہے جن کا زیادہ تعلق کے پی سے ہے اور پنجاب میں پی ٹی آئی کے نو وارد وقاص اکرم کو پارٹی ترجمان بنایا گیا ہے باقی پنجاب کی قیادت خود خاموش ہے اور محدود سیاست کر رہے ہیں یہی حال سندھ کا ہے اور پی ٹی آئی بلوچستان میں بھی نام کی حد تک ہے صرف کے پی میں اقتدار کے باعث پی ٹی آئی نظر ضرور آتی ہے مگر وزیر اعلیٰ کے پی کی توجہ اب صرف اپنے اقتدار تک محدود ہے کے پی کی پارٹی قیادت اب وزیر اعلیٰ سے واپس لی جا چکی ہے۔
موجودہ صورت حال میں پی ٹی آئی مختلف گروپوں میں تقسیم ہے اور منقسم پی ٹی آئی اپنے بانی کے مفاد کے لیے مولانا فضل الرحمن کو ملا کر حکومت کے خلاف گرمیوں میں تحریک چلانا چاہتی ہے، جو اس کا حق ہے مگر پی ٹی آئی اور اس کے اتحادی مولانا کو بانی کی رہائی کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں مگر مولانا نے کچی گولیاں کھیلی ہیں نہ وہ سیاسی اختلاف کے باوجود ریاست کے خلاف جائیں گے کیونکہ انھیں ملکی مفاد عزیز ہے اور اختلافات کی سزا ریاست کو نہ دینے کے حامی ہیں۔
پی ٹی آئی پہلے بھی ریاست کے خلاف تحریک چلانے میں مکمل ناکام رہی ہے اور اب پھر احتجاجی تحریک چلانا چاہتی ہے تو ضرور چلائے جو اس کا حق ہے مگر اپنے سیاسی اختلافات کی سزا ریاست کو نہ دے کیونکہ حکومت کے پاس ریاستی طاقت ہے جو کمزور نہیں اگر تحریک چلی تو نقصان حکومت کا نہیں پی ٹی آئی کا اپنا ہوگا۔ پی ٹی آئی اپنے ساتھ ریاست کا جو نقصان کرے گی وہ حکومت کا نہیں عوام کا ہوگا اور سزا عوام بھگتیں گے اور مزید ٹیکسوں، مہنگائی اور بدامنی کا شکار ہو جائیں گے اس لیے سب کو چاہیے کہ اپنے احتجاج کی سزا عوام کو بھی نہ دیں تو بہتر ہوگا۔
.ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: میں پی ٹی آئی پی ٹی آئی کے پی ٹی آئی کی کی وجہ سے کی سیاسی کے خلاف کے باعث ہے مگر کی سزا ہے اور میں ہے
پڑھیں:
کابل فال کے وقت افغان ایئر فورس طالبان کے خلاف امریکی ایئر کرافٹس کیوں استعمال نہیں کرپائی؟
سنہ 2021 میں افغانستان سے اپنا بوریا بستر لپیٹنے وقت امریکا اربوں ڈالر کے اپنے جنگی ہتھیار بشمول متعدد طیارے اور بلیک ہاکس ہیلی کاپٹرز اسی سرزمین پر چھوڑگیا تھا اور اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وہ سامان حرب واپس لینا چاہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے امریکا کو مطلوب دہشتگرد کیسے پکڑا؟
جہاں تک اپنے ہتھیار اور جہاز و ہیلی کاپٹرز افغانستان میں ہی چھوڑ کر جانے کا سوال ہے تو اس وقت امریکا کی جانب سے یہ تاثر دیا گیا تھا کہ وہ سامان اور جہاز ملک میں ہر شہر پر اپنا قبضہ جماتے ہوئے تیزی سے کابل کی جانب بڑھتے طالبان سے نمٹنے کے لیے افغان فوج کے کام آئیں گے جبکہ اس وقت ایک رائے یہ بھی تھی کہ امریکا نے وہ اسلحہ جان بوجھ کر طالبان کے لیے چھوڑ دیا تھا اور اس کو یہ بھی پتا تھا کہ افغان فوج طالبان جنگجوؤں سے نہیں لڑ سکے گی۔یاد رہے کہ طالبان اور امریکا کے مابین کامیاب معاہدے کے بعد امریکا نے اعلان کردیا تھا کہ وہ 11 ستمبر 2021 کو افغناستان چھوڑ جائے گا لیکن پھر اس کی فوجیں پہلے ہی ملک چھوڑ گئیں اور 15 اگست کو طالبان نے کابل پر اپنا قبضہ جمالیا اور امریکا کی اتنی تربیت لینے والی افغان فوج دیکھتی ہی رہ گئی۔
واضح رہے کہ امریکا 20 سال افغانستان میں رہا اور اس دوران طالبان کو امریکا اور نیٹو کی زمینی افواج سے تو اتنا بڑا مسئلہ نہیں تھا لیکن اگر انہیں کوئی مشکل پیش آتی تھی تو وہ خصوصاً دشمنوں کے فائٹر جہازوں کی وجہ سے آتی تھی جن کے حملوں کا ان کے پاس کوئی توڑ نہیں ہوتا تھا۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس وقت افغان ایئرفورس کے پاس 170 کے قریب طیارے اور بلیک ہاکس تھے تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ امریکا نے وہ تمام وہیں چھوڑ دیے یا کچھ ساتھ لے گیا۔ لیکن چھوڑے جانے والے جہازوں اور ہیلی کاپٹرز بہرحال بہت زیادہ تھی۔ علاوہ ازیں امریکا نے جو حربی سامان افغانستان میں چھوڑا اس کی کل مالیت 7 ارب ڈالر سے 10 ارب ڈالر کے درمیان بتائی جاتی ہے۔
مزید پڑھیے: افغانستان میں زلمے خلیل زاد کی واپسی ایک نیا گیم پلان جس کا نشانہ پاکستان ہے: برگیڈئیر آصف ہارون
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب افغان فوج کے پاس جنگی ایئر کرافٹس موجود تھے تو انہوں نے کابل کی جانب بڑھتے ہوئے طالبان جنگجوؤں پر کیوں نہیں استعمال کیا اور بغیر لڑے ہی میدان خالی کرگئے۔ تو اس کی ایک بہت بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ امریکی افواج کے انخلا کے موقعے پر فائٹر جہازوں کے جتنے بھی غیر ملکی ٹیکنیشنز تھے وہ بھی افغانستان سے نکل گئے۔ حالاں کہ پہلے امریکی حکام نے افغان ایئر فورس کو یقین دہانی کرائی تھی کہ ان کے جہاز اور ماہرین کچھ عرصہ افغانستان میں ہی رہیں گے۔
اس صورتحال پر ہکا بکا ہوکر افغان ایئر فورس نے امریکی حکام سے پوچھا کہ جب جہازوں کی دیکھ بھال کرنے والے ٹیکنیشن ہی نہیں ہوں گے تو ان کے پائلٹس جہاز کیسے استعمال کریں گے۔
مزید پڑھیں: سی آئی اے کی معلومات پر کابل دھماکے کا ماسٹر مائنڈ شریف اللہ گرفتار
اس پر امریکی حکام نے کہا کہ چوں کہ ہماری سیکیورٹی بھی اب افغانستان میں نہیں رہے گی اس لیے جہازوں کی مینٹیننس اور دیکھ بھال کی ذمے دار غیر ملکی کمپنی نے بھی کہہ دیا ہے کہ ان کے ٹینکیشن یہاں نہیں رہیں گے۔ تاہم پھر کمپنی نے یہ پیغام دیا کہ اگر افغان فوج کو جہازوں کے لیے ٹیکنیکل مدد چاہیے ہوگی تو وہ ویڈیو لنک پر کمپنی سے رابطہ کرسکتے ہیں۔ اب ظاہر ہے یہ افغان ایئر فورس کے لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ فائٹر جہازوں کی مینٹیننس ویڈیو لنک پر دیکھ دیکھ کر کرپائیں اور پھر اس حوالے سے انہیں پڑوسی ممالک کی جانب سے بھی کوئی باقائدہ معاونت نہ مل سکی جس کے باعث جہاز ہوتے ہوئے بھی وہ انہیں طالبان کے خلاف استعمال کرنے سے قاصر رہے۔ علاوہ ازیں جب طالبان 15 اگست کو کابل فتح کرنے پہنچے تو عین اسی وقت افغانستان کے صدر اشرف غنی بھی چپ چاپ ملک چھوڑ گئے تھے نتیجتاً طالبان کو دارالخلافے کے کنٹرول کے حصول اور ایوان صدر میں گھستے وقت کسی افغان فوجی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اشرف غنی افغان ایئرفورس امریکی اسلحہ امریکی افواج امریکی جنگی جہاز طالبان کابل فال نیٹو افواج