درپیش چیلنجز سے نمٹنے کی تدبیر کریں
اشاعت کی تاریخ: 3rd, April 2025 GMT
اس بار اہل وطن نے عید الفطر کی خوشیاں پرامن ماحول میں منائیں، تینوں دن بخیریت و عافیت گزرے اور دہشت گردی کا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا، جس کا کریڈٹ بلاشبہ سیکیورٹی فورسز اور حکومت کو جاتا ہے۔ دوسری جانب حکومت کے سامنے تاحال متعدد درپیش چیلنجز ہیں، جب کہ ملکی معیشت ٹیک آف کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے، بشرطیکہ معاشی استحکام کے لیے مربوط پالیسیاں بنائی جائیں۔ دوسری جانب سیاست میں ہمیں برداشت، رواداری اور مکالمے کو فروغ دینا ہوگا، اسی میں پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کا راز مضمر ہے۔
اس وقت دنیا میں جاری جغرافیائی سیاسی منظر نامہ بہت سے ممالک میں عدم استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔ امریکا چین تعلقات، تائیوان پر ممکنہ تصادم، یوکرین میں جاری جنگ اور مشرق وسطیٰ میں بدامنی ایک بڑھتی ہوئی تقسیم شدہ دنیا کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
پاکستان کو خارجی سطح پر افغانستان اور بھارت کی جانب سے دہشت گردوں کی سرپرستی اور مالی امداد کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا ہے جب کہ عالمی حالات اور دنیا میں جاری تنازعات کا اثر پوری دنیا پر مہنگائی کی صورت میں پڑ رہا ہے اور پاکستان کے لیے بھی ان اثرات سے بچنا مشکل ہے۔ وطن ِ عزیز میں نہ صرف دہشت گرد گروہ فتنہ الخوارج کی بزدلانہ کارروائیاں ، مشکل معاشی صورتحال، مہنگائی، بیروزگاری، سیاسی کشیدگی جیسے عوامل بھی ملک کی بقاء اور سلامتی کے لیے زہر قاتل ثابت ہو رہے ہیں لہٰذا سماج دشمن عناصر کا قلع قمع کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر چیلنجز سے نبرد آزماء ہونا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
رمضان المبارک میں بھی مقامی انتظامیہ فعال رہی، بازاروں کی سیکیورٹی بھی بہتر رہی، پاکستان کی آبادی کا بھی ایک بڑا حصہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرتا ہے، خوراک، پانی اور صحت کی دیکھ بھال جیسی بنیادی ضروریات تک ان کی رسائی محدود ہے۔ ملک کی تقریباً 40% آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے اور آنے والے برسوں میں اس تعداد میں اضافے کی توقع ہے کیونکہ محدود معاشی مواقع، تعلیم کی کمی اور ناکافی انفرا اسٹرکچر بڑے پیمانے پر غربت میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔ غربت، غذائیت کی کمی، صحت کی خراب دیکھ بھال، اور تعلیم تک محدود رسائی کا باعث بنتی ہے۔
پاکستان کی شرح خواندگی تقریباً 60% ہے، جس میں شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان نمایاں تفاوت ہے۔ ناکافی فنڈنگ، ناکافی انفرا اسٹرکچر، اور قابل اساتذہ کی کمی تعلیمی نظام کی ترقی میں اہم رکاوٹ ہے۔ پاکستان میں خواتین کو اکثر امتیازی سلوک، تشدد اور تعلیم، صحت کی دیکھ بھال اور معاشی مواقعے تک محدود رسائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سماجی اور ثقافتی اصول، ناکافی قوانین، اور نفاذ کے محدود طریقہ کار صنفی عدم مساوات کو برقرار رکھتے ہیں۔ یہی صنفی عدم مساوات معاشی ترقی میں رکاوٹ بنتی ہے، غربت کو برقرار رکھتی ہے اور سماجی ہم آہنگی کو کمزور کرتی ہے۔ معاشی نظام میں خواتین کو بھرپور مواقع ملنے چاہیں۔
پاکستان کو صحت کے نظام میں ناکافی فنڈنگ، ناکافی طبی سہولیات، اور صحت کی دیکھ بھال کرنے والے پیشہ ور افراد کی کمی کا سامنا ہے جب کہ معیاری صحت کی دیکھ بھال تک محدود رسائی غربت، عدم مساوات اور سماجی ناانصافی کو برقرار رکھتی ہے۔ ملک میں آج بھی ملیریا، تپ دق، ہیپاٹائٹس، پولیو اور ایچ آئی وی/ایڈز جیسی بیماریوں پر قابو پانے میں اہم چیلنجز درپیش ہیں۔ پاکستان میں بدعنوانی بڑے پیمانے پر پھیلی ہوئی ہے، جس کے معاشی ترقی اور سماجی انصاف پر نمایاں اثرات ہیں۔
ناکافی قوانین، نفاذ کا محدود طریقہ کار اور استثنیٰ کا کلچر بدعنوانی میں معاون ہے۔ بدعنوانی معاشی ترقی کو روکتی ہے، غربت کو برقرار رکھتی ہے، اور اداروں پر اعتماد کو کمزور کرتی ہے۔ پاکستان کے اداروں اور نظاموں میں وسیع پیمانے پر بدعنوانی معاشی ترقی میں رکاوٹ ہے، عدم مساوات کو برقرار رکھتی ہے، اور حکومت پر اعتماد کو ختم کرتی ہے۔ پاکستان کی آبادی 2.
پاکستان کو بدترین موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا ہے، جس کے زراعت، آبی وسائل اور انسانی بستیوں کے لیے اہم مضمرات ہیں۔ جس میں متواتر قدرتی آفات، پانی کی کمی، اور گرمی کی شدت لاکھوں لوگوں کی زندگیوں اور معاش کو متاثر کرتی ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کی وجہ سے ہوتی ہے، پاکستان عالمی اخراج میں کم سے کم حصہ ڈالتا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی غربت، عدم مساوات اور سماجی بدامنی میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے، جس سے پاکستان کی معاشی اور سماجی ترقی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
ذہنی صحت کے مسائل پاکستان میں عام ہیں، جس کے انفرادی اور اجتماعی بہبود کے لیے اہم مضمرات ہیں۔ سماجی اور ثقافتی اصول، ناکافی قوانین، اور ذہنی صحت کی خدمات تک محدود رسائی دماغی صحت کے مسائل میں معاون ہے۔ دماغی صحت کے مسائل غربت، عدم مساوات اور سماجی بدامنی میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں، جس سے پاکستان کی معاشی اور سماجی ترقی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ان سماجی مسائل کو حل کرنے کے لیے پورے ملک میں ایک کثیر جہتی نقطہ نظر ہموار کرنے کی ضرورت ہے جس میں ملک گیر اور یکساں حکومتی پالیسیاں، تمام طبقات معاشرہ اور کمیونٹی کی شمولیت کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی تعاون بھی شامل ہو کیونکہ ماحولیاتی تبدیلیوں کا بڑا حصہ دار نہ ہونے کے باوجود اس کے مسائل کا دوسرا بڑا متاثرہ ملک ضرور ہے۔
جب تک حکومت، مراعات یافتہ طبقہ اپنے لائف اسٹائل اور طرزِ حکمرانی میں بنیادی تبدیلی نہیں لائیں گے، اس وقت تک عوام کا اعتماد بحال ہو گا اور نہ ہی ملک کے اندر معیشت ٹھیک ہوگی۔ ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہ اور مراعات میں اضافے کو بھی باشعور حلقوں نے اچھی نظر سے نہیں دیکھا ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ اپنی تنخواہوں میں اضافے پر یک زبان رہے، اس حوالے سے سیاسی قیادت کو خود احتسابی کی ضرورت ہے۔
اراکین پارلیمنٹ متحد ہو کر جس جذبے سے اپنی تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ کرتے ہیں کاش، اسی جذبے سے عوام کا بھی خیال کریں؟ ایسے لگتا ہے کہ جیسے ہمارے ارباب اقتدار کی سیاسی فہم و فراست میں گہرائی نہیں ہے۔ حکومت امیروں پر ٹیکس لگانے اور انھیں ٹیکس نیٹ میں لانے کے بجائے مسلسل غریب طبقے اور تنخواہ دار افراد کو نشانہ بنا رہی ہے۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ٹیکس قوانین کا نفاذ نہ ہونے کے برابر ہے، اسی طرح دیہی سندھ اور جنوبی پنجاب کی دہی اشرافیہ، قبائلی وڈیرہ، پیر اور گدی نشین ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں۔ان کے معیار زندگی کا سارا مالی بوجھ عوام پر ڈال دیا گیا ہے۔ لوگوں کی زندگی اجیرن بنادی گئی ہے۔
ادھر اپوزیشن میں شامل سیاسی و مذہبی جماعتوں کی قیادت کی ساری جدوجہد بھی طبقاتی نوعیت کی ہے، اس میں عوام کے حقوق کے حوالے سے کوئی چیز شامل نہیں ہے۔ عید کے بعد حکومت کے خلاف تحریک بھی محض طبقاتی ریلیف لینے تک محدود رہے گی، صوبائی حکومتیں اپنی جوابدہی سے بچنے کے لیے وفاق کو نشانے پر لیتی ہیں حالانکہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبائی حکومتوں کی ذمے داریوں میں بہت زیادہ اضافہ ہوگیا ہے ۔
اپوزیشن کو چاہیے کہ وہ حکومت سے کہے کہ وہ عوام کی ترقی اور ملکی سلامتی کے لیے اپنا کردار اداکرے، قانون و آئین کی بالا دستی اور ملکی نظام حیات کو نئے سرے سے ترتیب دے تاکہ جمہوریت کو سہارا مل سکے۔ حکومت کا فرض بنتا ہے کہ وہ سنجیدہ فہمی کا مظاہرہ کرے کیونکہ ملک کے عوام کے مسائل بارے غور و فکر کرنا اسی کی ذمے داری ہے۔ اس وقت قومی مسائل میں دہشت گردی، معاشی بحران، مہنگائی، بے روزگاری اور دیگر چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے حکومت کو ایک مربوط پالیسی مرتب کرنا پڑے گی۔
پاکستان کے مسائل میں اس وقت تک کمی نہیں آ سکتی جب تک دہشت گردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ نہیں ہوتا ‘موجودہ حکومت کی ڈائریکشن ماضی کی حکومت کی نسبت درست سمت میں ہے تاہم اس کی راہ میں ابھی بہت سی کئی سنگین نوعیت کی رکاوٹیں بھی ہیں۔ ماضی کی قوتوں نے سسٹم کو خاصی حد تک کنٹرول میں رکھا ہے۔ ابھی بھی سسٹم پر اس کے اثرات خاصے گہرے ہیں۔
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: عدم مساوات اور سماجی صحت کی دیکھ بھال تک محدود رسائی پاکستان کی کا باعث بن میں اضافے کا سامنا کے مسائل سکتا ہے کے لیے صحت کے کی کمی
پڑھیں:
بھارتی مسلمانوں کا معاشی قتل
بھارت میں ہندو انتہا پسند دائیں بازو کی تنظیموں کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف پچھلے کچھ سالوں سے مہم چل رہی ہے جس کی باقاعدہ سرپرستی مبینہ طور پر حکمران جماعت بھارتیہ جنتاپارٹی کررہی ہے بی بی سی نے حالیہ دنوں میں ایک ڈاکومنٹری فلم پیش کی ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح انتہا پسند ہندوئوں کی جانب سے مسلمان کے خلاف متعصبانہ رویہ اختیار کیا جا رہا ہے اور مہم چلائی جارہی ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ ہندو کاروبار نہ کریں دکانیں اور مکان کرائے پر بالکل نہ دیں اور مسلمانوں سے سودا سلف بھی نہ خریدیں جبکہ ہندوئوں اور مسلمانوں کی دکانوں کے باہر ان کے ناموں کے سائن بورڈ آوازیں کرنے کی بھی مہم چل رہی ہے تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ یہ دکان مسلمان کی ہے یا ہندو کی۔ پچھلے کچھ سالوں سے سوشل میڈیا پر مسلسل اس کی تشہیر کی جا رہی ہے
افسوسناک امر یہ ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت میں یہ معاشی تفریق کا رجحان بڑھ رہا ہے جس کا مقصد مسلم کاروباری افراد کو غربت کی جانب دھکیلنا ہے۔ دکانوں پر مالک کا نام ظاہر کرنے کی پالیسی اور مسلمانوں کے خلاف صفائی سے متعلق بے بنیاد الزامات نے ان کے کاروبار کو شدید نقصان پہنچایا ہے اس امتیازی رویے کی وجہ سے مسلمانوں کے کاروبار گاہکوں سے محروم ہو رہے ہیں اور کئی افراد اپنی دکانیں ریسٹورنٹس اور ذبح خانے بند کرنے پر مجبور ہورہے ہیں۔ ہندوستان میں مسلمانوں پر مظالم کی تاریخ اگرچہ بہت پرانی ہے لیکن اس میں سرکاری سطح پر نریندرمودی کے کے دور حکومت میں اضافہ ہوا ہے جس کی سرپرستی حکومتی لیول پر کی جارہی ہے۔ نریندر مودی کے ان شرمناک اقدامات کو مسلمانوں ممالک کے سربراہان نے آج تک کسی باقاعدہ پلیٹ فارم پر نہیں اٹھایا جو ایک لمحہ فکریہ ہے بلکہ بے شرمی کا یہ عالم ہے کہ نریندرمودی جب مسلمان ممالک کا دورہ کرتا ہے تو سرخ کارپٹ بچھایا جاتا ہے آج عرب ممالک سب سے زیادہ سرمایہ کاری بھارت میں کررہے ہیں او آئی سی، عرب لیگ اور اقوام متحدہ کے کسی پلیٹ فارم پر 57 مسلمان ممالک میں سے کوئی آواز آٹھانے سے قاصر ہے کہ بھارت میں تقریباً 20 کروڑ مسلمانوں کا جینا محال کردیا گیا ہے جو ملک کی کل آبادی کا 14.28 فیصد ہے اس وقت یہ پراپیگنڈا کیا جارہا ہے کہ مسلمان سب سے زیادہ بچے پیدا کررہے ہیں اور آبادی میں اگر اسی طرح اضافہ جاری رہا تو 2050 ء تک مسلمانوں کی آبادی 35 کروڑ تک ہوسکتی ہے جس سے اکثریتی ہندو بھارت کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے اسی لئے بھارتی مسلمانوں کے خلاف مہم جوئی کا دائرہ کار وسیع کیا گیا ہے جو کئی سطحوں پر چل رہی ہے جس میں سیاسی، سماجی، اور معاشی عوامل شامل ہیں۔
بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی) اور اس کی حامی تنظیمیں ہندو قوم پرستی کو بڑی تیزی سے فروغ دے رہی ہیں جس میں مسلمانوں کو’’دوسرا‘‘ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔
بی جے پی نے شہریت ترمیمی قانون (CAA) اور نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (NRC) جیسے اقدامات کرکے مسلمانوں کے حقوق کو محدود کرنے کی کوشش ہے۔
اسی طرح کئی مواقعوں پر مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا جیسے دہلی فسادات 2020ء گجرات 2002 ء اور دیگر واقعات شامل ہیں۔
مسلمانوں کے خلاف میڈیا اور سوشل میڈیا پر مسلسل منفی پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، جس میں انہیں ملک دشمن، دہشت گرد یا آبادی بڑھانے کی سازش کرنے والے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
لوجہاد کا الزام: مسلمان مردوں پر ہندو خواتین کو زبردستی مسلمان بنانے کے جھوٹے الزامات لگائے جاتے ہیں، جس کی بنیاد پر کئی ریاستوں نے سخت قوانین بنا دیئے ہیں۔
سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں مسلمانوں کے لیے مواقع محدود کیے جا رہے ہیں، جس کا مقصد مسلمانوں کو مزید پسماندہ کرنا ہے۔
گائے کے تحفظ کے نام پر کئی مسلمانوں پر تشدد کر کے قتل کر دیا گیا ہے جن میں اخلاق، پہلو خان، اور دیگر کئی افراد شامل ہیں۔
اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں: ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ، اور دیگر ادارے بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے مظالم پر آواز اٹھا چکے ہیں، مگر بھارتی حکومت اکثر انہیں داخلی معاملات میں مداخلت کہہ کر مسترد کر دیتی ہے۔
کئی اسلامی ممالک بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات کی وجہ سے کھل کر مذمت کرنے سے گریز کرتے ہیں جبکہ پاکستان کی موجودہ حکومت میں شامل جماعتیں بھی نریندرمودی کے خلاف اور مسلمانوں کے حق میں کسی قسم کی آواز اٹھانے سے گریزاں ہیں ۔
بھارتی مسلمانوں کو ایک منظم مہم کے ذریعے حاشیے پر دھکیلا جا رہا ہے۔ یہ مسئلہ صرف بھارت کا نہیں بلکہ عالمی انسانی حقوق کا بھی ہے، جس پر عالمی برادری کو سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا اور مسلمانوں ملکوں کو اس پر آواز اٹھانی چاہئے۔