امریکا میں دو سہیلیاں گزشتہ 81 برس سے سالگرہ کی مبارکباد دینے کے لیے ایک ہی کارڈ کا تبادلہ کر رہی ہیں۔

منگل کے روز زندگی کے 95 برس مکمل کرنے والی پیٹ ڈی ریمر نے بتایا کہ یہ روایت ان کی 14 ویں سالگرہ پر انڈیانا پولِس میں شروع ہوئی جب ان کی سہیلی میری وہیٹن نے ان کو سالگرہ کا کارڈ بھیجا۔

پیٹ نے اس ہی برس مئی کے مہینے میں اس کارڈ پر اپنے دستخط کیے اور میری کو ان کی سالگرہ پر لوٹا دیا اور تب سے کارڈ تبادلے کی یہ روایت چلی آرہی ہے۔

پیٹ کا کہنا تھا کہ دونوں کبھی یہ نہیں کہا کہ وہ ایسا کریں گی۔کم از کم ان کی یاد داشت میں تو ایسی کوئی بات نہیں ہے۔

دونوں سہیلیوں کو کارڈ تبادلے کے 60 ویں برس میں طویل مدت تک جاری رہنے والی کارڈ تبادلے کی روایت کے لیے گینیز ورلڈ ریکارڈ سے نواز دیا گیا تھا۔

پیٹ کا کہنا تھا کہ وہ مئی کے مہینے میں میری کو کارڈ بھیج کر روایت برقرار رکھیں گی۔

.

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

سانحہ چلاس کو 13 برس مکمل، قاتل تاحال آزاد

3 اپریل 2012ء کو چلاس کے مقام پر اسکردو جانے والی بسوں کو اسلحہ بردار دہشتگردوں نے دن دیہاڑے روک کر مسافروں کے شناختی کارڈ دیکھ دیکھ ایک درجن کے قریب شیعہ مسافروں کو گولیوں سے چھلنی کر دیا تھا۔ اسلام ٹائمز۔ گلگت بلتستان کی تاریخ کا سیاہ ترین واقعہ سانحہ چلاس کو 13 برس بیت گئے۔ 10 سے زائد مومنین کو چلاس کے مقام پر بسوں سے اتار کر اور شناختی کارڈ چیک کر کے بے دردی کے ساتھ قتل کر دیا گیا تھا، اس دہشتگردی کے مجرمان تاحال قانون کی گرفت سے آزاد ہیں۔ تفصیلات کے مطابق 3 اپریل 2012ء کو چلاس کے مقام پر اسکردو جانے والی بسوں کو اسلحہ بردار دہشتگردوں نے دن دیہاڑے روک کر مسافروں کے شناختی کارڈ دیکھ دیکھ ایک درجن کے قریب شیعہ مسافروں کو گولیوں سے چھلنی کر دیا تھا۔ اس دوران دہشتگردوں کے سہولتکاروں کا جم غفیر بھی پتھروں اور ڈنڈوں سے حملہ آور ہوا، تین سے چار گھنٹے تک قیامت خیز مناظر چشم فلک نے دیکھے۔ اس واقعے میں شہید ہونے والے افراد کی لاشیں چار روز بعد اسکردو پہنچائی گئیں۔ ہفتوں تک اس ظلم کے خلاف صدائے احتجاج بلند ہوتی رہی، لیکن نہ صرف ان دہشتگردوں کے سہولت کاروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی بلکہ دہشتگردوں کی ویڈویوز منظرعام پر آنے کے باوجود ان کو تاحال سزائیں نہیں ہو سکیں۔

گلگت بلتستان کی تاریخ میں اسی طرح کے کئی درد ناک سانحات رونما ہوئے لیکن کسی بھی ایک دہشتگرد کو سزا نہ ہو سکی۔ 1988ء جی بی کی تاریخ میں پہلی منظم دہشتگردی جو سرکاری سرپرستی میں ہوئی تھی، اس دوران قبائلی علاقوں سے سینکڑوں دہشتگرد ٹرکوں میں اسلحہ بھر کر گلگت پر حملہ آور ہوئے اور درجنوں مومنین کو شہید کر دیا۔ اسی طرح 16 اگست 2012ء کو لولوسر چلاس کے مقام پر راولپنڈی سے گلگت اور استور جانے والی مسافر بسوں کو دہشتگردوں نے روکا اور شناختی کارڈ چیک کر کے 22 شیعہ مسافروں کو شہید کر دیا۔ 28 فروری 2012ء پاکستان کی تاریخ کا ایک اور سیاہ ترین دن ہے جب شاہراہ قراقرم کوہستان کے مقام پر 19 شیعہ مسافروں کو بسوں سے اتار کر شناخت کے بعد بہیمانہ انداز میں ہاتھ پیر باندھ کر شہید کر دیا گیا۔ ان تمام سانحات کے مجرمان تاحال گرفتار نہ ہو سکے۔

متعلقہ مضامین

  • وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں افسران کے تقرر و تبادلے
  • وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں افسران کے تقرر و تبادلے
  • موبائل فون میں شناختی کارڈ، نادرا کا ڈیجیٹل این آئی سی کیسے کام کرے گا؟
  • سانحہ چلاس کو 13 برس مکمل، قاتل تاحال آزاد
  • ماں کے بغیر پہلی عید کا کرب
  • اسلام آباد اور راولپنڈی میں افغان سیٹیزن کارڈ ہولڈرز کیخلاف کریک ڈاؤن، 60 گرفتار
  • فاطمہ بنو یا راکھی، بنو میری جیون ساتھی: مفتی قوی کا راکھی کے نام عید کا پیغام
  • غیر قانونی، غیر ملکی اور افغان سٹیزن کارڈ ہولڈرز کی واپسی کی ڈیڈ لائن ختم
  • گھوٹکی میں ایک کروڑ سر کی قیمت والا ڈاکو ہلاک