ایلون مسک ٹرمپ انتظامیہ کے قائم ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشنسی سے دستبردار
اشاعت کی تاریخ: 2nd, April 2025 GMT
امریکی اخبار نے دعویٰ کیا کہ مسک اور صدر ٹرمپ نے فیصلہ کیا کہ مسک دوبارہ اپنے کاروبار کو دیکھیں، انہیں حکومتی اخراجات میں کمی لانے کی ذمے داری سونپی تھی اور ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشنسی (DOGE) کے سربراہ تھے۔ اسلام ٹائمز۔ دنیا کے امیر ترین شخص اور ٹیسلا و اسپیس ایکس کے بانی ایلون مسک نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ میں قائم کردہ ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشنسی (DOGE) سے دستبردار ہوگئے۔ امریکی اخبار نے ایلون مسک کے حکومتی کردار سے دستبردار ہونے سے متعلق انکشاف کیا اور کہا کہ ٹرمپ نے کابینہ اور قریبی افراد کو مسک کے دستبردار ہونے سے متعلق آگاہ کردیا ہے۔
امریکی اخبار نے دعویٰ کیا کہ مسک اور صدر ٹرمپ نے فیصلہ کیا کہ مسک دوبارہ اپنے کاروبار کو دیکھیں، انہیں حکومتی اخراجات میں کمی لانے کی ذمے داری سونپی تھی اور ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشنسی (DOGE) کے سربراہ تھے۔ امریکی اخبار کے مطابق حکومتی کردار سے دستبرداری کی مسک کی ٹیم یا وائٹ ہاؤس نے تصدیق نہیں کی۔
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: امریکی اخبار کیا کہ مسک
پڑھیں:
امریکا کی 23 ریاستوں کا ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف مقدمہ
واشنگٹن:تقریباً دو درجن امریکی ریاستوں نے صحت کے شعبے میں فنڈز کی کٹوتی کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا ہے۔
ریاستوں کے اٹارنی جنرلز نے ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف رہوڈ آئی لینڈ کی فیڈرل کورٹ میں درخواست دائر کی، ان ریاستوں میں نیویارک، کولوراڈو، پنسلوانیا اور کولمبیا شامل ہیں۔
مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے 11 ارب ڈالرز کی کٹوتی غیرقانونی طور پر کی، جس سے عوامی صحت کو شدید نقصان پہنچے گا اور مستقبل میں وباؤں کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ جائے گا۔
مزید پڑھیں: وائس آف امریکا سے عملے کی جبری برطرفی، جج نے ٹرمپ انتظامیہ کو روک دیا
عدالت سے درخواست کی گئی ہے کہ کٹوتی کو فوری طور پر روکا جائے، کیونکہ یہ فنڈز کووڈ 19 کی ٹیسٹنگ، ویکسینیشن اور ذہنی صحت کے پروگرامز کے لیے مختص تھے۔
یو ایس ہیلتھ اینڈ ہیومین سروسز ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے کٹوتی پر کسی بیان سے گریز کیا گیا ہے، تاہم یہ کہا گیا کہ فنڈز اب وبا کے خاتمے کے بعد ضائع نہیں کیے جائیں گے۔
اس فیصلے کے نتیجے میں ہزاروں افراد کی ملازمتیں خطرے میں ہیں اور بیماریوں کی روک تھام کی کوششوں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔