Express News:
2025-04-03@16:32:27 GMT

پروٹین کی زیادتی سے بچئیے

اشاعت کی تاریخ: 2nd, April 2025 GMT

انسان کے پورے جسم میں پایا جانے والا پروٹین ایک ضروری غذائی عنصر ہے۔ یہ نہ صرف پٹھوں بلکہ ہڈیوں، جلد، بالوں اور ہر دوسرے ٹشو میں بھی ملتا ہے۔

یہ انزائمز بناتا ہے جو بائیو کیمیکل رد عمل پیدا کرتے ہیں اور ہیموگلوبن بھی جو خون میں آکسیجن لے جاتا ہے۔ دودھ، گوشت، دالیں اور انڈا ہمیں پروٹین فراہم کرنے والی غذائیں ہیں۔ ماہرین غذائیات کی رو سے ہمیں اپنے وزن کے مطابق روازنہ 50 سے 100 گرام کے درمیان غذاؤں سے پروٹین حاصل کرنا چاہیے۔

جدید طبی تحقیق نے مگر اب انکشاف کیا ہے کہ انسانی جسم میں پروٹین کی زیادتی انسان کو کئی بیماریوں کا نشانہ بنا سکتی ہے۔ وجہ یہی کہ کوئی اچھی سے اچھی غذا بھی حد سے زیادہ کھا لی جائے تو وہ جسم کو نقصان پہنچاتی ہے۔ پروٹین کی زیادتی سے درج ذیل عوارض انسان کو چمٹ سکتے ہیں۔

سوزش

سپین کی ناوارا یونیورسٹی کے محققین نے رپورٹ کیا ہے کہ جانوروں کے گوشت پر مبنی پروٹین کے ذرائع پھلیوں اور گری دار میوے جیسے کھانوں کے مقابلے میں سوزش کی اعلی سطح کا سبب بن سکتے ہیں۔ انہوں نے دوران تحقیق پایا کہ فربہ افراد جنہوں نے گوشت سے زیادہ پروٹین حاصل کیا، ان میں ایسے شرکا کے مقابلے میں سوزش کی سطح زیادہ تھی جو زیادہ تر مچھلی یا پودوں پر مبنی پروٹین کا استعمال کرتے تھے۔

تاہم 2,061 شرکا پر ایک اور مطالعے نے پایا کہ مجموعی طور پر سوزش اور آکسیڈیٹیو تناؤ ان لوگوں میں کم بڑھا جو پروٹین زیادہ لیتے ہیں۔ مطالعے سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ غذائی پروٹین، خاص طور پر پودوں کے ذرائع سے، عمر رسیدہ لوگوں میں سوزش کے بوجھ سے نجات دلاتی فائدہ مند تبدیلیوں سے منسلک ہو سکتا ہے۔

دل کے مسائل

چان سکول آف پبلک ہیلتھ امریکی ہارورڈ یونیورسٹی کا حصہ ہے۔

اس میں کی گئی تحقیق نے پایا کہ باقاعدگی سے تھوڑی مقدار میں سرخ گوشت، خاص طور پر پراسیس شدہ سرخ گوشت کھانے سے دل کی بیماری اور فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور دل کی بیماری یا کسی اور وجہ سے موت کا خطرہ ہوتا ہے۔ 2010 ء کے ایک اور مطالعے میں 84,136 خواتین کی غذائی عادات اور صحت کے نتائج کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا گیا۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ ہوا کہ سرخ گوشت کا زیادہ استعمال دل کی بیماری (CHD) کا خطرہ بڑھاتا ہے اور یہ خطرہ پروٹین کے دیگر ذرائع میں تبدیل کر کے کم کرنا ممکن ہے۔

آنتوں کا کینسر

ایک بار پھر مجرم پروٹین کی مقدار نہیں بلکہ یہ امر ہے کہ انسان کس قسم کا پروٹین استعمال کر رہا ہے۔ برطانوی ماہر غذائیات ، وڈ تھورنٹن وضاحت کرتا ہے: "آنتوں کے کینسر کا تعلق سرخ گوشت کے زیادہ استعمال اور بہت زیادہ پروسس شدہ گوشت کے استعمال سے ہے۔"

2015 ء میں اقوام متحدہ کے ادارے، ڈبلیو ایچ او کی بین الاقوامی ایجنسی برائے تحقیق برائے کینسر نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ پروسس شدہ گوشت کا استعمال سرطان پیدا کرتا ہے۔ اور سرخ گوشت کا استعمال "شاید انسانوں کے لیے سرطان پیدا کرتا ہے"۔ وڈ تھورنٹن کا مزید کہنا ہے کہ پھل، سبزیاں اور سالم اناج جیسے دیگر غذائیت سے بھرپور کھانے کی قیمت پر پروٹین کھانے سے بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں:

’’سرخ گوشت کھانے سے آپ کے گٹ بائیوم یا معدے میں انسان دوست جراثیم کا امکان کم متنوع ہوگا۔ اور ہم جانتے ہیں کہ ایک اچھا، صحت مند متنوع گٹ بائیوم ہونا کینسر سے بچاؤ کے حوالے سے فائدہ مند ہے۔‘‘

ڈیٹا پروسیس شدہ گوشت کے استعمال اور پیٹ کے کینسر کے درمیان تعلق کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ یہ سرخ گوشت کے استعمال اور لبلبے، پروسٹیٹ کینسر اور چھاتی کے کینسر کے درمیان تعلق کو بھی ظاہر کرتا ہے، خاص طور پر جب نوجوانی کے دوران زیادہ سرخ گوشت کا استعمال کیا جائے۔ زیادہ درجہ حرارت کی گرلنگ سرخ گوشت میں سرطان پیدا کرنے والے مرکبات بھی بنا سکتی ہے۔

گردے کی خرابی

جب پروٹین کا استعمال کیا جاتا ہے، تو یہ ہمارے نظام ہاضمہ میں امائنو ایسڈز میں بدل جاتا ہے جو پھر ٹشو کی تعمیر اور مرمت کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ یہ عمل فضلہ پیدا کرتا ہے جیسے یوریا ، پیشاب اور کیلشیم جسے گردوں کے ذریعے خون سے فلٹر کرنا ضروری ہے۔ پروٹین زیادہ کھایا جائے تو یہ امر گردے پر دباؤ ڈال سکتا ہے جس سے گردے کی پتھری اور خرابی سمیت کئی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

جرنل آف دی امریکن سوسائٹی آف نیفروولوجی میں شائع ہونے والے 2020ء کے جائزے میں خبردار کیا گیا ہے کہ زیادہ پروٹین والی غذائیں گردوں کے افعال کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ وہ گردے کی دائمی بیماری پیدا کرتیں اور گردوں کے مستقل خراب ہونے کا باعث بن سکتی ہیں۔ غذائی پروٹین کا معیار بھی کردار ادا کر سکتا ہے۔ کئی مشاہداتی مطالعات میں جانوروں کے پروٹین کو گردے کی بیماری کے آخری مرحلے کے بڑھتے خطرے سے منسلک کیا گیا ہے۔

"زیادہ پروٹین کھانے سے آپ کے گردوں پر ممکنہ طور پر دباؤ پڑتا ہے، خاص طور پر اگر آپ کو گردے کی بیماری ہے۔ اور جیسے جیسے آپ کی عمر بڑھتی ہے، آپ کے گردے کم کارآمد ہو جاتے ہیں۔‘‘ وڈ تھورنٹن کہتے ہیں۔

ذیابیطس

زیادہ سرخ گوشت کھانے سے آپ کو ٹائپ 2 ذیابیطس کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، جبکہ گری دار میوے، پھلیوں اور مرغی کا استعمال کم خطرے سے تعلق رکھتا ہے۔

قبض

اس مرض اور پروٹین کے ضرورت سے زیادہ استعمال کے درمیان تعلق اب بھی غیر نتیجہ خیز ہے، لیکن اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ ایسی غذا جہاں پروٹین دیگر غذائی اجزا خاص طور پر فائبر اور کاربوہائیڈریٹس کی جگہ لے لیتی ہے، وہ معدے کے مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ مثال کے طور پر 2024 ء کے ایک مقالے نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ غذائی پروٹین کی مقدار اگر بڑھ جائے تو وہ قبض پیدا کرتی ہے، خصوصاً جب غذا میں فائبر اور کاربوہائیڈریٹس کی مقدار کم ہو جائے۔

اپھارہ اور اسہال

وہ لوگ جو پروٹین پاؤڈر، شیک اور بارز کا زیادہ مقدار میں استعمال کرتے ہیں، وہ اپھارہ، پیٹ پھولنے اور اسہال کا شکار ہو سکتے ہیں۔ معدے میں خرابی کی علامات عام طور پر مصنوعات میں موجود ان اجزا کی وجہ سے ہوتی ہیں جنھیں شوگر الکوحل کہا جاتا ہے۔ یہ شکریں چھوٹی آنت میں مکمل طور پر جذب نہیں ہوتیں، جس کی وجہ سے انھیں زیادہ کھانے سے ہاضمہ خراب ہو سکتا ہے۔

کچھ شواہد موجود ہیں جو تجویز کرتے ہیں کہ کیٹو ڈائیٹس بھی خرابی ہاضمہ کی علامات پیدا کر سکتے ہیں۔ چوہوں میں کی گئی ایک تحقیق سے پتا چلا ہے کہ زیادہ چکنائی والی اور زیادہ پروٹین والی خوراک نے آنتوں کے مواد میں لییکٹیس پیدا کرنے والے بیکٹیریا کی ساخت کو تبدیل کر دیا، جس سے اسہال ہونے کے امکان نے جنم لیا۔

پروٹین کا خطرہ زون:

 کتنا زیادہ ہے؟

اس کا کوئی حتمی جو اب نہیں اور نقصان دہ پروٹین کی مقدار کا انحصار زیادہ تر پروٹین کی قسم پر ہوتا ہے۔ بوسٹن، امریکہ کے بریگھم اینڈ ویمنز ہسپتال میں پریکٹس کرنے والے ڈاکٹر ہاورڈ لی وائن کے مطابق اوسط صحت مند شخص کے لیے جو کھلاڑی یا باڈی بلڈر نہیں ’’بہتر ہے کہ کل پروٹین کی مقدار کو ڈیرھ گرام فی کلوگرام جسمانی وزن سے زیادہ نہ رکھا جائے۔‘‘ 

.

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پروٹین کی مقدار زیادہ پروٹین یہ نتیجہ اخذ کا استعمال پروٹین کا کے درمیان کی بیماری کھانے سے سے زیادہ سکتے ہیں سرخ گوشت کیا گیا گردے کی گوشت کے کرتا ہے گوشت کا سکتا ہے کا خطرہ پیدا کر جاتا ہے

پڑھیں:

لاہور: 11 سالہ بچے سے4 لڑکوں کی اجتماعی جنسی زیادتی، 3 ملزم گرفتار

لاہور میں 11 سالہ بچے سے 4  لڑکوں نے اجتماعی جنسی زیادتی کی جس کے پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 3 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔

رپورٹ کے مطابق مغل پورہ میں 11 سالہ بچے سے  چاروں لڑکوں نے  اجتماعی زیادتی  کی، وقوعہ کی اطلاع ملتے ہی لاہور پولیس سرگرم ہوئی اور تین ملزمان کو گرفتار کرلیا۔

ایس ایچ او  مغلپورہ نسیم خان  نے کہا کہ پولیس نے  بچے کے والد کے بیان پر چار وں ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔

ایف آئی آر کے متن کے مطابق ملزمان  نے بچے کو ڈرایا دھمکایا اور جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دیں، ملزمان میں فرحان،ابراہیم،وقاص اور عبداللہ شامل ہیں۔

ایف آئی آر کے متن کے مطابق ملزمان بچے کو فحش ویڈیوز بھی دکھاتے رہے۔

متعلقہ مضامین

  • لاہور میں 3 ماہ کے دوران 27 خواتین قتل، 151 سے زیادتی کی گئی
  • ایک کلو چکن کی قیمت ایک ہزار روپے فی کلو کے قریب پہنچ گئی
  • لڑکی کی گلاکٹی لاش؛ قتل سے پہلے 5 افراد نے اجتماعی زیادتی کی
  • 7 سالہ بچی سے زیادتی کی کوشش، ملزم گرفتار
  • سوڈان: جنسی زیادتی بطور جنگی ہتھیار کے استعمال پر یو این ادارے کی رپورٹ
  • فلسطینیوں کی نسل کشی میں استعمال ہونے والے پانچ امریکی بم
  • لاہور: 11 سالہ بچے سے4 لڑکوں کی اجتماعی جنسی زیادتی، 3 ملزم گرفتار
  • عیدالفطر کا دوسرا روز، مرغی، بکرے، گائے کا گوشت، چینی سبزیاں اور پھل سب مہنگے ہوگئے
  • پاکستان میں ڈالی گئی کھاد کا صرف30% پودے کو پہنچتا ہے، باقی ضائع ہو جاتا ہے