کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی آئی جی کوئٹہ اعتزاز گورایہ، ڈی سی سعد بن اسد اور ترجمان شاہد رند نے کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کارکنوں کو تھری ایم پی او کے تحت گرفتار کیا۔ احتجاج سب کا حق ہے، مگر فیصلہ ہم کرینگے کہ کہاں احتجاج ہوگا۔ اسلام ٹائمز۔ ڈی آئی جی کوئٹہ اعتزاز گورایہ، ڈپٹی کمشنر کوئٹہ سعد بن اسد اور بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند نے کہا ہے کہ احتجاج ہر شہری کا حق ہے، مگر یہ فیصلہ ہم کرینگے کہ احتجاج کہاں ہوگا۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے اراکین کو تھری ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔ اختر مینگل سے مذاکرات جاری ہیں، اس حوالے سے مذاکرات کی کامیابی تک میڈیا پر بات نہیں کرینگے۔ یہ بات انہوں نے سی سی پی او آفس کوئٹہ میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ ترجمان شاہد رند نے کہا کہ 11 مارچ کو جعفر ایکسپریس پر حملہ ہوا، جس کے بعد تقریباً 24 گھنٹے کلیئرنس آپریشن کو لگے۔ اگلے ہی روز کوئٹہ کے قبرستان میں چند میتوں کی تدفین کے بعد بی وائی سی نے قبرکشائی کی کوشش کی اور 12 گھنٹوں تک سریاب روڈ سمیت مختلف مقامات پر احتجاج جاری رہا۔ پہلے دن حکومت بلوچستان کا موقف واضح ہے کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا حق ہے، لیکن اس نے احتجاج کرنا کہاں ہے جگہ کا تعین ضلعی انتظامیہ کریگی۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کبھی اسے تسلیم نہیں کیا۔

ڈی آئی جی کوئٹہ اعتزاز گورایہ نے کہا کہ 11 مارچ کو جعفر ایکسپر یس پر حملہ جو 12 مارچ تک چلتا رہا اور پھر سکیورٹی اداروں نے مل کر علاقے کو کلیئر کیا۔ حملے کے دوران مارے جانے والے 5 افراد کی لاشیں 14 مارچ کو سول ہسپتال لائی گئیں، 19 مارچ کو وزیراعظم میاں شہباز شریف دورہ کوئٹہ پر آئے اور اس دوران بلوچ یکجہتی کمیٹی کے اراکین لاشیں ہسپتال لینے پہنچ گئی۔ جنہیں گہا گیا کہ انکے ورثاء کو بلایا جائے۔ بی ایل اے کا وارث کون ہو سکتا ہے، مشتعل افراد نے ہسپتال کو نقصان پہنچا کر لاشیں اٹھانے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی نے پرامن احتجاج کا اعلان کیا، جس میں سیف سٹی کے تحت شہر میں نصب کئے گئے 36 کیمروں، 18 پولز کو نقصان پہنچا اور جامعہ بلوچستان کا گیٹ توڑا گیا۔ پوسٹ آفس کو جلایا گیا اور بینک لوٹنے کی کوشش کی گئی۔ جس کے بعد پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس دوران بی وائی سی نے 3 افراد کی لاشیں رکھ کر سریاب روڈ پر احتجاج کیا اور موقف اختیار کیا کہ پولیس کی فائرنگ سے 3 افراد شہید ہوئے۔ اگر پولیس نے فائرنگ کرنی ہی تھی تو کیا راہ چلنے والوں کو ہی لگنی تھی۔ ورثاء نے موقف اختیار کیا کہ ہماری لاشیں ہمیں واپس کی جائیں۔ انکا بلوچ یکجہتی کمیٹی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ مقتولین کے خاندان کو بھی بلوچ یکجہتی کمیٹی نے زور زبردستی احتجاج میں بیٹھانے کی کوشش کی۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی نے ورثاء کو لاشیں اٹھانے کی بھی اجازت نہیں دی۔ اس دوران مشتعل افراد کی بڑی تعداد نے مقتولین کے گھروں کا بھی گھیراؤ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج سب کا حق ہے، لیکن عوام اور عوامی مقامات کو نقصان پہنچانے کا حق کسی کو نہیں ہے۔ سوشل میڈیا پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف پروپیگنڈا کیا گیا۔ اس دوران گرفتار ہونے والے کم عمر بچوں کو والدین کی یقین دہانی پر رہا کر دیا گیا۔ دھرنے، جلسے جلسوس اور مظاہرہ کرنے کے حوالے سے بی وائی سی اور حکومت کے درمیان معاہدہ ہوا تھا۔

اس موقع پر ڈپٹی کمشنر کوئٹہ سعد بن اسد نے کہا کہ احتجاج کرنے کا ایک طریقہ کار ہے۔ جس کے لئے ضلعی انتظامیہ مظاہرین کو جگہ اور وقت کا بتاتی ہے، لیکن پرامن احتجاج کے نام پر سڑکوں کو بلاک کرنے کی اجازت کسی صورت نہیں دی جاسکتی ہے۔ حکومت مسائل کو افہام و تفہیم سے حل کرنا چاہتی ہے۔ لیکن اسے ہماری کمزوری نہ سمجھی جائے۔ ایک سوال کے جواب میں ڈی آئی جی کوئٹہ اعتزاز گورایہ نے کہا ہے کہ ایم پی او کے تحت 61 افراد گرفتار اور 13 افراد ریمانڈ پر ہیں۔ جبکہ گرفتار کئے جانے والے 35 کم عمر بچوں کو انکے والدین کی یقین دہانی پر رہا کر دیا گیا ہے۔ احتجاج کے دوران جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین سے رابطے میں ہیں۔ وہ جس کے خلاف بھی مقدمہ درج کروانا چاہیں گے، ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے احتجاج کے دوران 13 پولیس کی گاڑیاں جلائی گئیں اور پولیس اہلکاروں کو زخمی کیا گیا، جبکہ بی این پی کے احتجاج کے دوران کسی چیز کو نقصان نہیں پہنچایا گیا۔

ترجمان بلوچستان حکومت شاہد رند نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی نے وڈھ سے لانگ مارچ کا اعلان کیا، جن سے حکومت رابطے میں ہے۔ امن و امان کی صورتحال سے متعلق بی این پی کے لانگ مارچ کو کوئٹہ آنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ امن و امان کی صورتحال سے تاریخ میں پہلی مرتبہ ان کیمرہ اجلاس ہوا۔ جس میں بی این پی کو بھی دعوت دی گئی۔ حکومت روز اول سے ڈائیلاگ کے لئے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی خدشات کے پیش نظر انٹرنیٹ سروس معطل کی گئی۔ ڈی آئی جی کوئٹہ اعتزاز گورایہ نے کہا کہ بہت سے لوگ چاہتے ہیں کہ حالات خراب ہوں۔ مستونگ خودکش حملے سے متعلق تحقیقات جاری ہیں۔ اگر مستونگ حملہ کامیاب ہوتا تو اسکا نقصان پاکستان کے لئے ناقابل برداشت ہوتا۔ ایک سوال کے جواب میں اعتزاز گورایہ نے کہا کہ زہری پل کو سکیورٹی خدشات کے پیش نظر بند کیا گیا۔ دہشتگرد پہلے دہشتگرد ہیں، بعد میں وہ کچھ اور ہے۔ شاہد رند نے کہا کہ حکومت بلوچستان اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔ مذاکرات ہونے کے بعد ہی اس پر بات کی جا سکتی ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی لیڈرشپ کے حوالے سے حکومت کا موقف واضح ہے۔ عدالتیں موجود ہیں، اگر عدالت کسی کو ریلیف دینا چاہتی تو حکومت کو اعتراض نہیں ہے۔

.

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: بلوچ یکجہتی کمیٹی کے بلوچ یکجہتی کمیٹی نے شاہد رند نے کہا کی کوشش کی احتجاج کے بی این پی نے کہا کہ جاری ہیں انہوں نے کو نقصان کے دوران کا حق ہے مارچ کو کیا گیا کے تحت کے بعد

پڑھیں:

ترجمان بلوچستان حکومت کی اپوزیشن کو پیشکش

فائل فوٹو

ترجمان حکومت بلوچستان شاہد رند نے کہا ہے کہ اپوزیشن حالات بہتر کرسکتی ہے تو مذاکراتی کمیٹی کے سربراہی اپوزیشن یا ڈاکٹر مالک بلوچ کو دینے کے لیے تیار ہیں۔

شاہد رند نے پریس کانفرنس سے خطاب میں اعلان کیا کہ ڈائیلاگ کے لیے فورمز موجود ہیں ، لیکن بی این پی صوبائی اسمبلی اور محمود اچکزئی اور پی ٹی آئی قومی اسمبلی میں آنے کو تیار نہیں۔

ترجمان بلوچستان حکومت نے بی این پی کے لانگ مارچ کو کوئٹہ آنے سے روکنے کے فیصلے پر جواب دیا کہ سیکیورٹی تھریٹ کی بنا پر کچھ فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔

شاہد رند نے کہا کہ بی این پی لانگ مارچ کے موقع پر کوئٹہ میں دہشت گرد حملے کا خطرہ ہے۔

پریس کانفرنس میں ڈی آئی جی کوئٹہ اعتزاز احمد گورایہ نے کہا کہ ٹرین حملے کے بعد آپریشن میں مارے گئے دہشت گردوں کی لاشیں بی وائی سی کے لوگ اسی رات لینے پہنچے، اسپتال انتظامیہ کو مارپیٹ کے لاشیں وہاں سے اٹھائی گئیں۔

انہوں نے پُرامن احتجاج کا کہا تھا، لیکن سی سی ٹی وی کیمرے توڑے گئے، آپٹک فائبر کو جلایا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • ترجمان بلوچستان حکومت کی اپوزیشن کو پیشکش
  • بلوچستان میں احتجاج جاری، اختر مینگل کا آج احتجاج کے اگلے مرحلے کا اعلان کرنے کا عندیہ
  • حکومت اخترمینگل سے مذاکرات کیلئے ایک بااختیار کمیٹی تشکیل دے، صدر سپریم کورٹ بار
  • سرکاری اور عوامی املاک کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں، ڈی آئی جی کوئٹہ
  • بلوچ یکجہتی کمیٹی والے دہشت گردوں کی میتیں لینے پہنچ گئے، ڈی آئی جی سی ٹی ڈی
  • بی این پی اور حکومت کے مذاکرات پھر ناکام
  • بلوچستان حکومت کا وفد اختر مینگل سے مذاکرات کیلئے دھرنے میں پہنچ گیا
  • سرفراز بگٹی سے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی ملاقات، عید کی مبارکباد دی
  • کوئٹہ، سرفراز بگٹی کی ڈاکٹر مالک بلوچ سے ملاقات، بلوچستان کی صورتحال پر گفتگو