Islam Times:
2025-04-03@15:20:06 GMT

یورپ کی پیٹھ میں ٹرمپ ازم کا خنجر

اشاعت کی تاریخ: 2nd, April 2025 GMT

یورپ کی پیٹھ میں ٹرمپ ازم کا خنجر

اسلام ٹائمز: کینیڈا اور گرین لینڈ کے خلاف ٹرمپ کی دھمکیوں نے بھی نیٹو معاہدے کے آرٹیکل 5 کے بارے میں امریکی عزم میں کمی کو منکشف کیا ہے، جس کے مطابق ایک رکن پر حملے کو سب پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔ تاہم، 2023 میں منظور کردہ ایک قانون کے مطابق نیٹو سے امریکہ کی علیحدگی کے لیے کانگریس کی منظوری درکار ہے، لیکن بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ ٹرمپ چاہیں تو اس قانون کو نظر انداز کر سکتے ہیں۔ خصوصی رپورٹ: 

واشنگٹن کی نئی پالیسیوں کی وجہ سے نیٹو کو اپنی 76 سالہ تاریخ کے سب سے سنگین بحرانوں میں سے ایک کا سامنا ہے۔ فارن افئیرز میگزین کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس واپسی سے یورپی رہنما اپنے براعظم کی سلامتی کے لئے تشویش کا شکار ہیں۔ تجزیاتی میگزین فارن افیئرز نے اپنی ایک رپورٹ میں نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) کے رکن ممالک کو درپیش بحران کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ امریکی صدر کے فیصلوں نے نیٹو ممالک کے اجتماعی دفاع کے لیے واشنگٹن کے عزم پر شدید شکوک پیدا کر دیے ہیں۔ اپنی اشاعت میں میگزین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ٹرمپ کے بیانات، اقدامات اور نیٹو رکن ممالک کا دفاع نہ کرنے کی دھمکی کے بعد یورپی رہنماؤں میں تشویش پائی جاتی ہے۔

 یورپ کی تشویش میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب نیٹو کے تمام ارکان کے برعکس امریکہ نے فروری 2025 میں اقوام متحدہ میں یوکرین پر روس کے حملے کی مذمت کرنے سے انکار کر دیا۔ کینیڈا اور گرین لینڈ کے خلاف ٹرمپ کی دھمکیوں نے بھی نیٹو معاہدے کے آرٹیکل 5 کے بارے میں امریکی عزم میں کمی کو منکشف کیا ہے، جس کے مطابق ایک رکن پر حملے کو سب پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔ تاہم، 2023 میں منظور کردہ ایک قانون کے مطابق نیٹو سے امریکہ کی علیحدگی کے لیے کانگریس کی منظوری درکار ہے، لیکن بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ ٹرمپ چاہیں تو اس قانون کو نظر انداز کر سکتے ہیں۔ ایسے حالات میں امریکہ کے بغیر نیٹو کا مستقبل ایک نازک مسئلہ بن گیا ہے۔

دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے کے لیے یورپ کی کوششیں:
یورپی حکام اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے کے لیے تیزی سے اقدامات کر رہے ہیں۔ یورپی یونین نے حال ہی میں اسلحے کی پیداوار بڑھانے کے لیے 150 بلین یورو مختص کیے ہیں اور دفاعی بجٹ پر عائد پابندیاں ہٹا دی ہیں۔ اس کے علاوہ یورپ کی سب سے بڑی معیشت کے طور پر جرمنی بھی اپنے بجٹ قوانین کو تبدیل کر چکا ہے اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے 400 بلین یورو مختص کر چکا ہے۔ تاہم عسکری ماہرین کا خیال ہے کہ یورپ کو اپنے فوجی بجٹ میں اضافے کے علاوہ نیٹو میں امریکہ کا کردار کم یا ختم ہونے سے پیدا ہونیوالے خلا کو پر کرنے کے لیے ایک عرصے تک محدود امریکی تعاون کی ضرورت ہوگی۔

جدید فضائی دفاعی نظام، سیٹلائٹ مواصلات اور بڑے پیمانے پر جنگی کارروائیاں کرنے کی اہلیت جیسی صلاحیتوں کی فراہمی ایسے چیلنجز ہیں جنہیں یورپ مختصر مدت میں حل نہیں کر سکے گا۔ ماہرین نے پہلے خبردار کیا تھا کہ امریکی ہتھیاروں پر یورپ کے بڑھتے ہوئے انحصار نے براعظم کو کمزور پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہے۔ سوئچ آف، ایک ایسا تصور ہے جو طویل عرصے سے تجزیہ کاروں کے درمیان زیر بحث ہے۔ کچھ کا خیال ہے کہ امریکہ نے اپنے طیاروں اور کچھ ہتھیاروں میں ایسی صلاحیت پیدا کر رکھی ہے جسے وہ جب چاہے استعمال کر سکتا ہے کہ ان سسٹمز کو غیر فعال کر دے اور ان ہتھیاروں کو یورپی ممالک کے لیے ناقابل استعمال بنا دے۔

یورپ کو درپیش بڑا چیلنج:
اس وقت امریکی سلامتی کے وعدوں پر یورپ کے اعتماد میں کمی کے ساتھ نیٹو بنیادی اور ساختیاتی تبدیلیوں کے دہانے پر ہے۔ امریکہ پر انحصار کے بغیر ایک آزاد دفاعی ڈھانچے کی تعمیر، وہ بھی ایسے وقت میں جب سلامتی کے خطرات پہلے سے کہیں زیادہ سنگین ہیں، یورپ کے بڑا چیلنج ہے۔ دوسری جانب بعض تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ کے یہ اقدامات مزید ممالک کو جوہری ہتھیار بنانے کی طرف دھکیلیں گے اور اس کے نتیجے میں مستقبل میں جوہری جنگوں کو ہوا ملے گی۔

.

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کے مطابق یورپ کی کیا ہے کے لیے

پڑھیں:

یمن کا سرخ طوفان امریکہ کو لے ڈوبے گا

اسلام ٹائمز: بحیرہ احمر میں امریکہ کی شکست کوئی معمولی شکست نہیں ہے بلکہ اس کے اثرات آئندہ طویل مدت تک امریکہ کو متاثر کرتے رہیں گے۔ امریکی کمپنی بے ای اے سسٹمز نے اعلان کیا ہے کہ امریکی بحریہ میں شامل جنگی کشتیوں کو جدید ہتھیاروں سے لیس کرنے کا پراجیکٹ 2028ء سے پہلے مکمل نہیں ہو پائے گا جبکہ کچھ رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس پراجیکٹ کے اخراجات بہت بھاری ہونے کے باعث اسے چند مراحل میں انجام دیا جائے گا۔ بحریہ کو مضبوط بنانے میں بھاری اخراجات اور طویل مدت کی ضرورت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ امریکی بحریہ فوری طور پر بحیرہ احمر میں خود کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتی جس کی وجہ سے امریکہ یمن کے خلاف اپنی فوجی حکمت عملی تبدیل کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہے۔ یوں بحریہ کو مضبوط بنانے کا پراجیکٹ بھی بے معنی ہو جائے گا۔ تحریر: فاطمہ محمدی
 
یمن سے تاریخی اور تباہ کن شکست کے اثرات نے امریکہ کی بحریہ کو بری طرح متاثر کر رکھا ہے جس کے باعث اخراجات سمیت مختلف شعبوں میں امریکہ شدید دباو کا شکار ہو چکا ہے۔ امریکہ نے یمن کے فوجی ہتھیاروں اور مہارتوں کی جانب سے خود کو درپیش عظیم چیلنجز پر قابو پانے کی امید پر اپنی بحریہ پر بہت زیادہ اخراجات کیے ہیں۔ لیکن امریکہ کو درپیش چیلنجز اور دباو کا سلسلہ صرف یہیں ختم نہیں ہوتا بلکہ اس کی وسعت مستقبل تک پھیلی ہوئی ہے اور امریکہ مستقبل میں بھی دشمن کے مقابلے میں ممکنہ شکست سے شدید پریشان ہے۔ بحیرہ احمر میں امریکہ کی بحریہ کے ذریعے لشکرکشی نے بہت ہی کم مدت میں اس کی کمزوریوں کو عیاں کر دیا تھا جس کے بعد امریکہ نے اپنی بحریہ کو مضبوط بنانے کا ارادہ کیا۔ اس مقصد کے لیے امریکہ کی فوجی کمپنی بی اے ای سسٹمز نے امریکی بحریہ سے 70 ملین ڈالر کا معاہدہ کیا ہے۔
 
اس معاہدے کے تحت امریکہ کے جنگی بحری جہازوں کی توپوں کو بہتر بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ توپیں جنگی جہاز کی آخری دفاعی لائن تصور کی جاتی ہیں جو میزائل ڈیفنس سسٹم ناکام ہو جانے کے بعد آخری ہتھیار کے طور پر بروئے کار لائی جاتی ہیں۔ بی اے ای سسٹمز نامی کمپنی نے اپنی ویب سائٹ پر اعلان کیا ہے کہ اس معاہدے کے تحت امریکی بحریہ کی توپیں ایم کے 45 کی فورتھ جنریشن تک ترقی پا جائیں گی۔ بی اے سسٹمز کے ماہر برنٹ بوچر نے واضح کیا ہے کہ یہ فیصلہ گذشتہ برس بحیرہ احمر میں امریکی جنگی بیڑے کی حوثی مجاہدین کے حملوں کے مقابلے میں شکست کے بعد اختیار کیا گیا ہے۔ بوچر نے کہا: "گذشتہ برس بحیرہ احمر میں جو کچھ ہوا اس سے ہمیں یہ محسوس ہوا کہ امریکی جنگی کشتیوں پر زیادہ طاقتور توپوں کی ضرورت ہے۔" یمن کے حوثی مجاہدین کے مقابلے میں امریکی بحریہ کی کمزوری کا یہ واضح ثبوت ہے۔
 
امریکی بحریہ یمنیوں کو شکست دینے کی صلاحیت کیوں نہیں رکھتی؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ صرف امریکہ ہی اس مشکل سے روبرو نہیں ہے بلکہ اب تک دنیا کے جتنے ممالک نے بھی یمنیوں سے مقابلہ کر کے انہیں ختم کرنے کا دعوی کیا ہے وہ اس مشکل کا شکار رہے ہیں۔ جرمنی کے ادارے مرکز برائے سمندری اسٹریٹجی و سلامتی کے ماہر سیبسٹین برونز اس بارے میں کہتے ہیں: "یمنیوں نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ امریکہ اور مغرب کے لیے بہت بڑا چیلنج بن سکتے ہیں اور یہ ہمارے لیے بڑی سطح کا خطرہ ہے، خاص طور پر یہ کہ ہماری بحریہ مستقل مشکلات کا شکار ہے اور یہ چیز حقیقی طور پر پریشان کن ہے۔" برونز مزید کہتا ہے: "غزہ میں اسرائیل کی جنگ شروع ہونے کے بعد یمنیوں نے جنگ ختم ہونے تک اسرائیل اور اسرائیلی کشتیوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کر دیا اور وہ اس میدان میں کامیاب بھی رہے۔"
 
پینٹاگون کی رپورٹ کے مطابق جون 2024ء تک 65 سے زیادہ ممالک اور 29 بین الاقوامی کمپنیوں کی کشتیاں بحیرہ احمر میں یمنیوں کے حملوں سے متاثر ہوئی ہیں۔ اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بحیرہ احمر میں یمنیوں کے حملوں نے کینال سویز کو بھی متاثر کیا ہے جو بحیرہ احمر کو بحیرہ روم سے ملاتی ہے۔ جرمن نیوی کے ماہر سیبسٹین برونز اس بارے میں کہتے ہیں: "اگر کوئی یہ خیال کرے کہ یمنیوں سے درپیش خطرہ کم ہو گیا ہے تو وہ سخت غلطی کا شکار ہے اور اسے جان لینا چاہیے کہ یہ خطرہ نہ صرف کم نہیں ہوا بلکہ ماضی کے مقابلے میں ہزار فیصد بڑھ گیا ہے۔" انہوں نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ متبادل راستے کشتیوں کی آمدورفت کے لیے بہت زیادہ اخراجات کے حامل ہیں، کہا: "بحیرہ احمر کے حالات کے باعث ایک انشورنس کمپنی نے اسپشل ملٹری انشورنس متعارف کروائی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سلامتی کی صورتحال بہتر نہیں ہوئی۔"
 
بحیرہ احمر میں امریکہ کی شکست کوئی معمولی شکست نہیں ہے بلکہ اس کے اثرات آئندہ طویل مدت تک امریکہ کو متاثر کرتے رہیں گے۔ امریکی کمپنی بے ای اے سسٹمز نے اعلان کیا ہے کہ امریکی بحریہ میں شامل جنگی کشتیوں کو جدید ہتھیاروں سے لیس کرنے کا پراجیکٹ 2028ء سے پہلے مکمل نہیں ہو پائے گا جبکہ کچھ رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس پراجیکٹ کے اخراجات بہت بھاری ہونے کے باعث اسے چند مراحل میں انجام دیا جائے گا۔ بحریہ کو مضبوط بنانے میں بھاری اخراجات اور طویل مدت کی ضرورت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ امریکی بحریہ فوری طور پر بحیرہ احمر میں خود کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتی جس کی وجہ سے امریکہ یمن کے خلاف اپنی فوجی حکمت عملی تبدیل کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہے۔ یوں بحریہ کو مضبوط بنانے کا پراجیکٹ بھی بے معنی ہو جائے گا۔
 
ملٹری ویب سائٹ The War Zone نے امریکی بحریہ کے چند افسران کے بقول لکھا: "بحیرہ احمر کا معرکہ امریکی جنگی بیڑے کے لیے بہت بڑا امتحان تھا تاکہ اس طرح چین سے جنگ کے لیے تیار ہو سکے اور اس امتحان میں ہماری جنگی کشتیوں کی کمزوریاں اور نقائص عیاں ہو گئے ہیں۔" امریکہ کے ایک جنگی بحری جہاز کا ریٹائرڈ کمانڈر یان ون ٹول اس بارے میں کہتا ہے کہ امریکہ نے انتہائی گراں قیمت زمین سے ہوا میں مار کرنے والے میزائلوں کو یمنیوں کے سستے ڈرون تباہ کرنے کے لیے استعمال کیا۔ اس نے مزید کہا: "چین سے ممکنہ ٹکراو کی صورت میں امریکہ کو کہیں زیادہ قیمت چکانی پڑے گی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ چین کے حملوں کی شدت یمنیوں کے حملوں سے کئی گنا زیادہ ہو گی جس کے باعث امریکی بحریہ کے میزائلوں کے ذخیرے بہت جلدی ختم ہو جائیں گے۔"

متعلقہ مضامین

  • صدر ٹرمپ کے عائد کردہ ٹیرف کے پاکستان پر کیا اثرات پڑیں گے؟
  • افغانستان میں امریکی واپسی : خطے کے لئے نئے چیلنجز
  • ٹرمپ کا ٹیرف عالمی اکانومی پر بڑا حملہ ہے، یورپی یونین کا جوابی اقدامات کا اعلان
  • برطانیہ کیلئے کینیڈا اور یورپ کیساتھ "متحدہ محاذ" بنانے کی تجویز
  • ٹرمپ کی ایران کو دھمکی، تین عرب ممالک کا امریکہ کے ساتھ تعاون سے انکار
  • یمن کا سرخ طوفان امریکہ کو لے ڈوبے گا
  • کیا امریکہ ایران پر حملہ کرے گا؟
  • پاسداران انقلاب دہشتگرد، ایران کو نیو کلیئر پروگرام کے پھیلاو سے روکیں گے ، امریکہ کی دھمکی
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی حملے کی دھمکی، آیت اللہ خامنہ ای کا بھی سخت جواب