شاہ رخ کے گھر ’منت‘ کو چھوڑنے کے بعد اہلیہ گوری خان نے بھی اپنا اپارٹمنٹ بیچ دیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, April 2025 GMT
شاہ رخ خان کی اہلیہ گوری خان نے دادر ویسٹ میں واقع اپنا 2000 مربع فٹ کا اپارٹمنٹ فروخت کر دیا۔
شاہ رخ خان کا خاندان پہلے اپنے معروف زمانہ گھر منت سے نسبتاً چھوٹے اپارٹمنٹ میں شفت ہوچکا ہے۔
اداکار شاہ رخ خان اپنے گھر منت جس کا رقبہ 27 ہزار مربع فٹ ہے میں مزید توسیع کرنا چاہتے ہیں۔ تعمیراتی کام دو سال میں مکمل ہوگا۔
اس دوران اچانک گوری خان نے بھی اپنا ایک اپارٹمنٹ 11 کروڑ 61 لاکھ بھارتی روپوں میں فروخت کردیا۔
خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ رقم بھی منت کی تعمیراتی کاموں میں خرچ کی جائے گی جس میں گوری خان انقلابی تبدیلیاں کرنا چاہتی ہیں۔
تاحال اپنا اپارٹمنٹ فروخت کرنے کے حوالے سے گوری خان یا شاہ رخ خان کی جانب سے کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔
گوری خان نے یہ اپارٹمنٹ اگست 2022 میں ساڑھے آٹھ کروڑ بھارتی روپوں میں خریدا تھا۔ اس طرح گوری خان کو 3.
یاد رہے کہ شاہ رخ خان اور گوری خان نے 1991 میں شادی کی تھی اور ان کے تین بچے آریان خان، سہانا خان، اور ابراہم خان ہیں۔
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: گوری خان نے شاہ رخ خان
پڑھیں:
پاکستان چھوڑنے کی ڈیڈ لائن ختم، 8 لاکھ 85 ہزار سے زائد افغان باشندے وطن لوٹ گئے
پاکستان چھوڑنے کی ڈیڈ لائن ختم، 8 لاکھ 85 ہزار سے زائد افغان باشندے وطن لوٹ گئے WhatsAppFacebookTwitter 0 1 April, 2025 سب نیوز
اسلام آباد: افغان باشندوں کےلئے پاکستان چھوڑنے کی ڈیڈ لائن ختم ہوگئی، حکومت نے واضح کیا ہے کہ اب سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، 31 مارچ تک پاکستان چھوڑنے والے غیرقانونی افغان باشندوں کی تعداد 8 لاکھ 85 ہزار 902 ہوگئی۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان میں غیرقانونی طور پر مقیم غیرملکیوں اور افغان سٹیزن کارڈ ہولڈرز کے ملک چھوڑنے کی ڈیڈلائن ختم ہوگئی ہے جس کے بعد حکومت نے 31 مارچ تک پاکستان چھوڑنے والے غیرقانونی افغان باشندوں کی تعداد 8 لاکھ 85 ہزار902 ہوگئی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ ڈیڈلائن گزرنے کے بعد اب سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائےگی۔
رپورٹ کے مطابق ڈیڈ لائن ختم کے بعد ملک بھر میں اے سی سی ہولڈرز کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا جائے گا۔
غیر قانونی افغان شہریوں کو اپنی جائیدادیں کرائے پر دینے والے شہریوں کو بھی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
غیر قانونی افغانوں کا سراغ لگانے کے لیے سرچ آپریشن کیے جائیں گے، اور ان کا بائیومیٹرک ریکارڈ سرکاری ریکارڈ میں رکھا جائے گا تاکہ مستقبل میں ان کے ملک میں داخلے کو روکا جا سکے۔
واضح رہے کہ پاکستان 15 لاکھ 20 ہزار رجسٹرڈ افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کرتا ہے، ایک اندازے کے مطابق 8 لاکھ افغان شہریت کے حامل افراد کے ساتھ ساتھ دیگر افراد بھی سرکاری طور پر تسلیم کیے بغیر ملک میں رہ رہے ہیں۔