ٹرمپ کا خیر سگالی دور صرف 2 ماہ میں ختم، مقبولیت میں کمی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, April 2025 GMT
پروجیکٹ 2025ء، ٹیرف کی دھمکیوں اور عجیب و غریب خیالات جیسے خلیج میکسیکو کا نام تبدیل کرنے اور گرین لینڈ پر قبضے کی خواہش نے امریکیوں کو مایوس کیا ہے۔ ایلون مسک کی بےلگام مداخلت اور سگنل گیٹ اسکینڈل نے بھی تنازعات کو ہوا دی۔ اسلام ٹائمز۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا انتخاب کے بعد کا خیر سگالی دور صرف دو ماہ میں ختم ہوگیا۔ گیلپ کے مطابق ان کی مقبولیت 47 فیصد سے گھٹ کر 43 فیصد ہوگئی ہے۔ پروجیکٹ 2025ء، ٹیرف کی دھمکیوں اور عجیب و غریب خیالات جیسے خلیج میکسیکو کا نام تبدیل کرنے اور گرین لینڈ پر قبضے کی خواہش نے امریکیوں کو مایوس کیا ہے۔ ایلون مسک کی بےلگام مداخلت اور سگنل گیٹ اسکینڈل نے بھی تنازعات کو ہوا دی۔
پولز بتاتے ہیں کہ صرف 38 فیصد لوگ ان کی تجارتی پالیسیوں سے مطمئن ہیں جبکہ معیشت اور دیگر امور پر بھی حمایت کم ہو رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق ٹرمپ کا دوسرا دور پہلے کی طرح افراتفری اور غیر یقینی سے بھرپور ہے۔ اس دوران ہارورڈ-ہیریس ایکس کے ایک تازہ سروے کے مطابق مسک کی مقبولیت فروری سے مارچ کے دوران 10 پوائنٹس کم ہوگئی، کیونکہ پورے ملک میں ٹیسلا کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
ٹرمپ کا درآمدات پر جوابی ٹیرف کا اعلان! پاکستان پر کیا اثرات ہوں گے؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا میں داخل ہونے والی تمام غیر ملکی مصنوعات پر کم از کم 10 فیصد ٹیکس عائد کرنے کا اعلان کردیا جبکہ پاکستان پر29 فیصد جوابی ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ پاکستان 58 فیصد ٹیرف وصول کرتا ہے ہم پاکستان پر 29 فیصد ٹیرف عائد کریں گے۔
وی نیوز نے معاشی ماہرین سے گفتگو کی اور یہ جاننے کی کوشش کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس فیصلے سے پاکستانی برآمدات پر کیا اثر پڑے گا؟ اور پاکستان سے امریکا کو کون سی اشیا برآمد کی جاتی ہیں؟
ماہر معیشت ڈاکٹر خاقان نجیب نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کا اس وقت تجارتی حجم 7 ارب ڈالر کا ہے جس میں سے 5 ارب ڈالر کی پاکستان کی امریکا کو ایکسپورٹس ہیں جبکہ 2 ارب ڈالر کی امپورٹس ہیں۔
پاکستان سب سے زیادہ ٹیکسٹائل سے متعلقہ مصنوعات امریکا کو ایکسپورٹ کرتا ہے۔ اس کے علاوہ سرجیکل آلات اور دیگر الات بھی ایکسپورٹ کیے جاتے ہیں۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ 29 فیصد کے ٹیرف پر مذاکرات ہو سکتے ہیں۔ اس فیصلے کا عالمی دنیا پر اثر پڑا ہے، دنیا بھر کی سٹاک مارکیٹ اس فیصلے سے متاثر ہوئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے امریکی صدر ٹرمپ کا درآمدات پر ٹیرف کا اعلان، پاکستان پر 29 فیصد ٹیرف عائد
ڈاکٹر خاقان نجیب نے کہا پاکستان کو اب اپنی مصنوعات امریکا ایکسپورٹ کرنے کے لیے بہت سی محنت کرنا ہوگی۔ ان کی کوالٹی کو بہتر بنانا ہوگا اور قیمتوں کو عالمی معیار کے مطابق کرنا ہوگا جبکہ اپنی پیداواری لاگت کو بھی کم سے کم کرنا ہوگا۔ پاکستان کو اب زرعی شعبے پر بھی اصلاحات کرنا ہوں گی تاکہ پاکستانی اشیا عالمی مارکیٹ میں کم لاگت اور اعلیٰ معیار کے ساتھ پیش کی جا سکیں۔
معاشی تجزیہ کار شہباز رانا نے وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تمام ممالک پر 10 فیصد ٹیکس تو عائد کیا ہے لیکن جن مالک پر اضافی ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔ ان ممالک پر امریکی صدر کے اس فیصلے کا بڑا اثر سامنے آئے گا۔ امریکی صدر کا 10 فیصد ٹیکس کا نفاذ تو 5 اپریل سے ہی ہو جائے گا تاہم جو اضافی 29 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے اس کا نفاذ 9 اپریل سے ہو جائے گا۔
شہباز رانا نے کہا کہ پاکستان امریکا کو ٹیکسٹائل سے متعلقہ اشیاء ایکسپورٹ کرتا ہے۔ اس وقت جب پاکستان پر اضافی ٹیرف کا نفاذ نہیں ہے تو پاکستانی ٹیکسٹائل کمپنیوں کو عالمی مارکیٹ میں برتری حاصل ہے لیکن جب 29 فیصد کا اضافی ٹیرف عائد کیا جائے گا، تب پاکستانی کمپنیوں کے لیے امریکی مارکیٹ میں مقابلہ کرنا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔ کیونکہ جن ممالک میں پاکستان سے زیادہ ٹیرف عائد کیا گیا ہے، ان کی پیداواری لاگت پاکستان سے بھی کم ہے اور وہ ہو سکتا ہے کہ اس بھاری ٹیرف کے نفاذ سے زیادہ متاثر بھی نہ ہوں۔ اگر پاکستان نے امریکا کو کی جانے والی اپنی برآمدات کو برقرار رکھنا ہے تو اپنی پیداواری لاگت کو کم اور معیار کو مزید بہتر کرنا ہوگا وگرنہ اس ٹیرف کے نفاذ کے بعد پاکستانی برآمدات میں بڑی کمی واقع ہوگی۔
یہ بھی پڑھیے ٹرمپ ٹیرف وار: امریکا کو متعدد ممالک کی طرف سے شدید ردعمل کا سامنا
سینئر صحافی شکیل احمد نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹیرف کے نفاذ سے ایک نئی تجارتی جنگ کا اعلان کیا ہے۔ صدر نے یہ فیصلہ امریکی معیشت کو مستحکم کرنے اور مقامی انڈسٹری کو فروغ دینے کے لیے کیا ہے۔ گزشتہ سال 2024 میں پاکستان اور امریکا کی تجارتی حجم 7.3 بلین ڈالرز تھا جس میں 5.1 ارب ڈالر کی امریکا کو ایکسپورٹ جبکہ 2.2 ارب ڈالر کی امپورٹس شامل تھیں۔ اس طرح امریکا کو پاکستان سے 3 ارب ڈالر کا تجارتی خسارے کا سامنا تھا۔ پاکستان امریکا کو کئی گنا زیادہ چیزیں ایکسپورٹ کرتا ہے جبکہ امریکا سے کم اشیاء امپورٹ کرتا ہے۔
شکیل احمد نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے امریکا کو سب سے زیادہ ٹیکسٹائل اور اس سے متعلقہ اشیاء ایکسپورٹ کی جاتی ہیں جن میں ریڈی میڈ کپڑے، تولیا اور دیگر پہننے والی اشیاء۔ اس کے علاوہ چمڑے کی جیکٹس، چمڑے کے جوتے، سرجیکل اور میڈیکل آلات، چاول، سی فوڈز اور کھیلوں کی مصنوعات ایکسپورٹ کی جاتی ہیں۔ امریکی صدر کے اس فیصلے کے بعد اب پاکستان کے لیے ان تمام اشیاء کا امریکا کو ایکسپورٹ کرنا مشکل ہوگا۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اب امریکا سے زیادہ توجہ یورپی ممالک اور برطانیہ کی مارکیٹ پر دے کیونکہ اس ٹیکس کے نفاذ کے بعد امریکی مارکیٹ میں مقابلہ کرنا پاکستان کے لیے کافی مشکل ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا پاکستانی برآمدات ٹیکسٹائل