Express News:
2025-04-03@13:58:48 GMT

میانمار میں ہولناک زلزلہ کیوں آیا؟ سنسنی خیز انکشاف

اشاعت کی تاریخ: 2nd, April 2025 GMT

میانمار میں آنے والے 7.7 شدت کے زلزلے نے تباہی مچا دی ہے۔ قدرتی آفت کے نتیجے میں 2800 کے قریب اموات ہوئیں ہیں جبکہ ہزاروں افراد زخمی ہیں۔ تاہم، سائنس دانوں نے اس زلزلے کے سبب کا پتہ لگا لیا ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق یہ زلزلہ ’سپر شیئر‘ رپچر کی وجہ سے پیش آیا ہے۔ سپر شیئر زلزلے ایسے زلزلے ہوتے ہیں جس میں فالٹ (زیر زمین چٹانوں کے درمیان دراڑ) کے پھٹنے کی رفتار، زلزلے کے بعد پیدا ہونے والی لہروں (ایس-ویوز) سے زیادہ ہوجاتی ہے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ زلزلے کے دوران ٹوٹنے والی ارضیاتی فالٹ (وسیع ساگائینگ فالٹ جو کہ برما اور سنڈا ٹیکٹونک پلیٹس کے درمیان ہے) ممکنہ طور پر بہت تیزی سے اور 400 کلو میٹر تک کے فاصلے پر پھٹی جو اس شدید زلزلے کا سبب بنی۔

یونیورسٹی آف لندن کے ایک ماہر آئن واٹکنسن کا کہنا تھا کہ یہ زلزلہ ساگائینگ فالٹ پر پیش آیا ہے۔ یہ ایک ایسا بڑا ٹیکٹونک اسٹرکچر ہے جس پر بھارت اور مغربی میانمار سمیت باقی جنوب مشرقی ایشیاء کی شمالی حرکت ہوتی ہے۔

ایک اور ماہر برائن بیپٹائی کا کا کہنا تھا کہ یہ دھماکا شمال سے جنوب کی جانب ایک منٹ کے اندر پھیلا۔

.

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

میانمار میں زلزلے سے ہونے والی ہلاکتیں 3000 سے متجاوز

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 03 اپریل 2025ء) میانمار میں پچھلے ہفتے آنے والے ایک شدید زلزلے کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 3000 سے تجاوز کر گئی ہے۔ میانمار کی فوجی حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے تازہ اعداد و شمار کے مطابق اس زلزلے کے باعث ملک میں اب تک 3085 اموات کی تصدیق ہوئی ہے، تاہم مقامی میڈیا میں ہلاکتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ بتائی جا رہی ہے۔

زلزلے سے کتنے افراد متاثر ہوئے؟

میانمار میں 7.7 شدت کا یہ زلزلہ گزشتہ ہفتے جمعہ کو آیا تھا، جس کا مرکز منڈالے شہر کے قریب واقع تھا۔ اس کے باعث کئی عمارتیں منہدم ہو گئیں اور اہم انفراسٹرکچر کو بھی نقصان پہنچا۔

سن 2021 میں میانمار میں فوج کے ایک جمہوری طور پر منتخب حکومت سے اقتدار لینے کے بعد سے یہ ملک خانہ جنگی کا شکار ہے، جو زلزلے کے بعد ریسکیو کے کام میں ایک رکاوٹ ثابت ہو رہی ہے۔

(جاری ہے)

اس زلزلے سے تین ملین سے زائد افراد بے گھر ہوئے ہیں، جب کہ اقوام متحدہ کے مطابق اس آفت سے قبل بھی میانمار میں قریب 20 ملین افراد کو انسانی بنیادوں پر امداد کی ضرورت تھی۔

’ہم صرف ان کی رحم دلی پر ہی انحصار کر رہے ہیں‘

یہ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ جیسے جیسے ان علاقوں سے مزید تفصیلات موصول ہوں گی جہاں مواصلاتی نظام متاثر ہوا ہے اور جہاں تک پہنچنا مشکل ہے، زلزلے سے ہونے والی اموات میں تیزی سے اضافہ دیکھا جائے گا۔

زلزلے کے تقریباﹰ ایک ہفتے بعد بھی میانمار میں کئی افراد کو امداد کی ضرورت ہے اور کئی کو کھلے آسمان تلے سونا پڑ رہا ہے کیونکہ ان کے گھر مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق زلزلے کے مرکز سے 15 کلومیٹر سے بھی کم فاصلے پر واقع ساگائنگ میں ہر تین میں سے ایک گھر تباہ ہو گیا ہے۔ اب اس علاقے تک جانے والے راستوں پر شہریوں کی جانب سے منظم کیے گئے امداد پہنچانے والے گروپ جابجا نظر آتے ہیں۔

اس امداد کی ترسیل میں مدد کرنے والی 63 سالہ راہبہ اے تھکار نے اے ایف پی سے گفتگو کے دوران کہا، ''سڑک سے گزرتے افراد نے فراخدلی کے ساتھ ہمیں کھانا اور پانی دیا ہے۔ ہم صرف ان کی رحم دلی پر ہی انحصار کر رہے ہیں۔‘‘

م ا/ ا ا (اے ایف پی، اے پی)

متعلقہ مضامین

  • میانمار میں زلزلے سے ہونے والی ہلاکتیں 3000 سے متجاوز
  • میانمار: زلزلے سے اموات کی تعداد 3085 ہوگئی
  • میانمار زلزلہ: خواتین اور لڑکیوں کا تحفظ یقینی بنانے کا یو این مطالبہ
  • میانمار زلزلہ: ہلاکتوں کی تعداد 2700 سے بڑھ گئی، 500 مسلمان بھی شامل
  • میانمار میں زلزلہ، پاکستان نے متاثرہ افراد کیلئے 70 ٹن امدادی سامان روانہ کردیا
  • پاکستان کیجانب سے زلزلے سے متاثرہ میانمار کے لیے امدادی سامان روانہ
  • کراچی کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے
  • میانمار زلزلہ: پاکستان کی جانب سے امدادی سامان کی کھیپ آج روانہ ہوگی
  • بار کھان میں رات گئے زلزلے کے جھٹکے