تائیوان کی علیحدگی پسند قوتیں جتنی زیادہ اشتعال انگیزی پھیلائیں گی ، اتنی ہی جلدی ان کا خاتمہ ہوگا، چینی میڈیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, April 2025 GMT
بیجنگ : یکم اپریل سےچائنا پیپلز لبریشن آرمی کے ایسٹرن تھیٹر کی جانب سے تائیوان جزیرےکے ارد گرد مشترکہ مشقیں کی گئیں ۔ یہ سرگرمی لائی چھنگ ڈہ انتظامیہ کی جانب سے بڑے پیمانے پر علیحدگی کی کوششوں پر مبنی اشتعال انگیزی کے لئے سخت سزا اور تائیوان کی علیحدگی پسند قوتوں کے لئے ایک سخت انتباہ ہے جو جان بوجھ کر آبنائے تائیوان میں امن کو نقصان پہنچا رہی ہیں اور ساتھ ہی یہ سرگرمی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لئے ایک ضروری قدم ہے۔
حالیہ برسوں میں، بہت سے ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کے رہنماؤں نے ایک چین کے اصول کا اعادہ اور حمایت کا اظہار کیا ہے اور 10 ممالک نے تائیوان کے ساتھ نام نہاد “سفارتی تعلقات” منقطع بھی کیے ہیں.
واضح رہے کہ جزیرے کے گرد پی ایل اے کی فوجی مشقوں کا ہدف تائیوان کے ہم وطن نہیں بلکہ تائیوان کی علیحدگی پسند سرگرمیاں ہیں ۔ تائیوان کی رائے عامہ نے لائی چھنگ ڈہ کے اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے آبنائے تائیوان کی کشیدگی میں اضافہ ہوگا۔ پی ایل اے کی فوجی مشقوں نے تائیوان کے علیحدگی پسندوں کو مؤثر انداز میں متنبہ کیا ہے ۔
یہ عمل آبنائے تائیوان میں امن واستحکام اور تائیوان کے ہم وطنوں کی فلاح و بہبود کے لئے ایک مضبوط تحفظ کی علامت ہے۔ لائی چھنگ ڈہ سمیت تائیوان کی علیحدگی پسند قوتیں جتنی زیادہ اشتعال انگیز ہوں گی ، مین لینڈ کی جانب سے ان کے لئے سزا اتنی ہی طاقتور ہوگی، اور اتنی ہی جلدی تائیوان کی علیحدگی پسند قوتوں کا خاتمہ ہوگا!
Post Views: 1ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
امریکی صدر کا اعلان کردہ ٹیرف بلیک میلنگ ہے، چین
چینی وزارت کا کہنا ہے کہ ماضی میں یہ ثابت ہوا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ٹیرف میں اضافے نے اس کے اپنے مسائل کو حل نہیں کیا۔ اسلام ٹائمز۔ چینی حکام اور ملکی میڈیا نے ٹرمپ کی جانب سے مزید ٹیرف کے اعلان کی مذمت کرتے ہوئے اس اقدام کو بلیک میلنگ قرار دیا۔ رپورٹ کے مطابق گلوبل ٹائمز نے اپنے ایک تجزیے میں امریکی صدر کے اعلان کو ٹیرف بلیک میلنگ قرار دیا ہے۔ دوسری جانب چینی وزارت برائے کامرس نے امریکی ٹیرف کی مذمت کی ہے اور جوابی اقدامات کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ چینی وزارت کا کہنا ہے کہ ماضی میں یہ ثابت ہوا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ٹیرف میں اضافے نے اس کے اپنے مسائل کو حل نہیں کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ امریکی مفادات کو نقصان پہنچاتا ہے اور اس کے علاوہ یہ عالمی تجارت، اقتصادی ترقی اور ترسیلات کے کے لیے خطرہ ہے۔ دوسری جانب چینی سفیر نے امریکہ کی جانب سے ٹیرف لسٹ میں تائیوان کو الگ ملک کہنے کے معاملے پر امریکہ سے بات کی۔