تائیوان کی علیحدگی پسند قوتیں جتنی زیادہ سرگرم ہوں گی ان کے گرد گھیرا اتنا ہی سخت ہو گا, چینی میڈیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, April 2025 GMT
بیجنگ : چائنا پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کے مشرقی تھیٹر کمانڈ نے آبنائے تائیوان کے وسطی اور جنوبی پانیوں میں “آبنائے تھنڈر -2025 اے” مشق کا اہتمام کیا۔اسی دن تائیوان جزیرے کے مشرقی پانیوں میں بحری اور فضائی یونٹس کے تعاون سے طیارہ بردار بحری جہاز شانڈونگ ٹاسک گروپ کو بھی فوجی مشقوں میں تعینات کیا گیا۔
پی ایل اے کے یہ اقدام لائی چھنگ ڈہ انتظامیہ کے تواتر سے آنے والے شر پسند بیانات اور علیحدگی پسندی کے طرز عمل کا ایک اور طاقتور جواب ہے۔ چائنیز اکیڈمی آف سوشل سائنسز کے انسٹی ٹیوٹ آف تائیوان اسٹڈیز کے محقق چھن گوئی چھنگ کا کہنا ہے کہ “آبنائے تھنڈر -2025 اے” مشق مزید مضبوط جنگی صلاحیت اور عملی جنگی نوعیت کا حامل ایک طاقتور انتباہ ہے۔
قانونی نقطہ نظر سے قاہرہ اعلامیہ اور پوٹسڈیم اعلامیے جیسے بین الاقوامی قانونی دستاویزات نے تائیوان کے خطے پر چین کے اقتداراعلی کی واضح وضاحت کی ہے۔ایک چین کا اصول بین الاقوامی برادری کا عمومی اتفاق رائے اور بین الاقوامی تعلقات کا بنیادی اصول ہے۔ بیرونی قوتوں کی مداخلت اور تخریب کاری کی وجہ سے آبنائے تائیوان کے دونوں اطراف اس وقت مکمل طور پر ایک نہیں ہو سکے ہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ مین لینڈ اور تائیوان ایک چین سے تعلق رکھتے ہیں، اور چین کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت نہ کبھی تقسیم ہوئی ہے اور نہ ہی تقسیم کی جا سکتی ہے –
یہ بھی حقیقت ہے کہ تائیوان کا معاملہ چین کا اندرونی معاملہ ہے اور جو کوئی بھی تائیوان کی علیحدگی کی حمایت کرتا ہے وہ چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر رہا ہےاور آبنائے تائیوان میں استحکام کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ تائیوان کی علیحدگی پسند قوتیں جتنی زیادہ سرگرم ہوں گی،ان کے گرد گھیرا اتنا ہی سخت ہو گا ۔
وہ بیرونی قوتیں جو لائی چھنگ ڈہ سمیت علیحدگی پسندوں کی حمایت کرتی ہیں اگر وہ چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت جاری رکھیں گی تو لامحالہ ان کے خلاف جوابی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔
Post Views: 1.ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
قطر گیٹ کرپشن اسکینڈل میں نیتن یاہو کے گرد گھیرا تنگ، دو سینئر مشیر گرفتار
مقبوضہ بیت المقدس: اسرائیلی وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاہو کے دو سینئر مشیروں کو قطر کے ساتھ مبینہ غیر قانونی تعلقات کے الزام میں گرفتار کر کے تین روزہ ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔ اس کیس کو میڈیا میں "قطر گیٹ" کے نام سے جانا جا رہا ہے، جس نے اسرائیل کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے "سی این این" کے مطابق، نیتن یاہو نے اس معاملے میں گواہی دی اور تحقیقات کو "سیاسی انتقام" قرار دیا۔ گرفتار ہونے والے مشیر جوناتھن یوریچ اور ایلی فیلڈ اسٹائن پر الزام ہے کہ انہوں نے قطری حکومت کے ساتھ غیر قانونی روابط قائم کیے۔
گرفتاریوں کے بعد اسرائیل میں سیاسی کشیدگی بڑھ گئی ہے، جہاں حکومت پہلے ہی ملکی سلامتی کے سربراہ اور اٹارنی جنرل کو برطرف کرنے پر غور کر رہی ہے۔ اس پیش رفت نے ایک بار پھر اسرائیل میں احتجاجی تحریک کو ہوا دی ہے، جبکہ حکومت نے غزہ میں فوجی کارروائی دوبارہ شروع کر دی ہے۔
نیتن یاہو نے ایک ویڈیو بیان میں کہا: "جیسے ہی مجھ سے گواہی کے لیے کہا گیا، میں نے فوراً حامی بھر لی۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک سیاسی مقدمہ ہے اور میرے مشیران کو بلاوجہ یرغمال بنایا جا رہا ہے۔ اس میں کوئی حقیقت نہیں، بس سیاسی انتقام لیا جا رہا ہے۔"
نیتن یاہو پہلے ہی بدعنوانی کے الزامات میں ایک الگ مقدمے کا سامنا کر رہے ہیں، جس کی وہ سختی سے تردید کرتے ہیں۔
اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ اس کیس میں ایک صحافی کو بھی تفتیش کے لیے طلب کیا گیا ہے، جس سے صحافتی حلقوں میں بھی تشویش پیدا ہو گئی ہے۔
قطر، جو قدرتی گیس کے وسیع ذخائر رکھتا ہے، اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں رکھتا اور طویل عرصے سے فلسطینی تنظیم حماس کے رہنماؤں کی میزبانی کرتا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قطر گیٹ اسکینڈل نے اسرائیلی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے اور کئی نئے سوالات کو جنم دیا ہے۔