بانی نیم رضامند، علی امین اور بیرسٹر سیف کو اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کا ٹاسک مل گیا، ذرائع
اشاعت کی تاریخ: 2nd, April 2025 GMT
دائیں سے بائیں: بیرسٹر سیف، عمران خان، علی امین گنڈاپور - کولاج فوٹو: فائل
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور اور مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف کی بانی پی ٹی آئی سے اڈیالہ جیل میں ہونے والی طویل ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔ دونوں کو بانی کی جانب سے اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کا ٹاسک مل گیا۔
ذرائع نے دعویٰ کیا کہ ڈھائی گھنٹے طویل ہونے والی اس ملاقات کا محور اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات تھا۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ علی امین اور بیرسٹرسیف بانی پی ٹی آئی کو قائل کرنے میں کامیاب ہوئے، بانی پی ٹی آئی نے علی امین گنڈاپور کی پیشکش پر نیم رضامندی ظاہر کی۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ علی امین گنڈاپور نے صوبائی معاملات پر بھی بانی پی ٹی آئی کو بریف کیا، ملاقات میں قیادت پر سوشل میڈیا پر جاری تنقید بھی زیر بحث آئی۔
ذرائع نے بتایا کہ ملاقات میں اداروں سے ٹکراؤ کی پالیسی پر نظرثانی پر بھی بات ہوئی، بانی پی ٹی آئی نے علی امین اور بیرسٹر سیف کو اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کا ٹاسک دے دیا۔
ذرائع کے مطابق اسٹبلشمنٹ سے مذاکرات میں کسی پیشرفت تک اسے خفیہ رکھنے پر اتفاق ہوا، آئندہ چند روز میں علی امین گنڈاپور بانی پی ٹی آئی سے ایک اور ملاقات کریں گے۔
.ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات علی امین گنڈاپور بانی پی ٹی آئی بیرسٹر سیف
پڑھیں:
عمران خان نے اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کیلیے کسی کو نیا ٹاسک نہیں دیا، بیرسٹر سیف
پشاور:خیبرپختونخوا حکومت کے مشیر اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ میڈیا ذرائع کے نام پر اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات شروع کرنے کی خبریں چلا رہی ہیں لیکن عمران خان نے اس حوالے سے کسی کو بھی کوئی نیا ٹاسک نہیں دیا۔
اپنے بیان میں بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ میڈیا بغیر تصدیق کے ذرائع سے خبریں نشر کرنے سے گریز کرے۔
انہوں نے کہا کہ ملاقات میں حکومتی معاملات، دہشت گردی اور افغانستان کے امور پر تبادلہ خیال ہوا۔ عمران خان نے وزیراعلیٰ کو حکومتی معاملات، جبکہ مجھے دہشت گردی اور افغانستان کے مسئلے سے متعلق ہدایات دیں۔
بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ عمران خان نے واضح طور پر کہا کہ وہ اپنی رہائی اور ذاتی فائدے کے لیے اسٹیبلشمنٹ سمیت کسی سے بات چیت نہیں کریں گے، عمران خان نے کہا کہ ملک کی معاشی ترقی اور سیاسی استحکام میرے لیے سب سے مقدم ہے۔
مشیر اطلاعات کے پی نے کہا کہ عمران خان نے بتایا کہ معاشی ترقی سیاسی استحکام کے بغیر ممکن نہیں اس لیے سیاسی استحکام کے لیے پی ٹی آئی کو تسلیم کرنا ہوگا اور اسے دیوار سے لگانے کی کوشش بند کرنا ہوگی۔ پی ٹی آئی ایک حقیقت ہے اور اسے تسلیم کرنا ہوگا۔